سیرۃ النبیؐ اور سیاست و حکومت

(۱) اس عنوان سے متعلق پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا سیاست کا نبی سے اور نبی کا سیاست سے کوئی تعلق ہوتا ہے؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہاں ہوتا ہے بلکہ دینی سیاست کی بنیاد ہی نبوت ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل کا ذکر کیا اور فرمایا، ہم نے ان کو نبوت بھی دی تھی، بادشاہت بھی دی تھی اور حکمت بھی دی تھی، چنانچہ انبیائے بنی اسرائیل علیہم السلام حضرت موسٰیؑ کے بعد یوشع بن نونؑ سے لے کر حضرت زکریاؑ تک اکثر انبیاء حاکم اور قاضی بھی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۸ء

نئے مورچے،پرانے ہتھیار ۔ لمحہ فکریہ!

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ المرکز الاسلامی بنوں میں حاضری کی ایک عرصہ سے خواہش تھی مگر ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ حضرت مولانا سید نصیب علی شاہ الہاشمیؒ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے تھے، ہم نے جمعیۃ طلباء اسلام اور پھر جمعیۃ علماء اسلام میں ایک عرصہ تک اکٹھے کام کیا ہے، ان کا یہ کام تو خود میرے ذوق کا کام ہے کہ آج کے جدید مسائل کا علمی حل اجتماعی طور پر تلاش کیا جائے اور علمی مسائل میں باہمی مشاورت اور علمی مذاکرہ کو ذریعہ بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مارچ ۲۰۱۰ء

مکالمہ بین المذاہب: اہداف اور دائرے

’’مکالمہ بین المذاہب‘‘ آج کے اہم عالمی موضوعات میں سے ہے جس پر دنیا بھر میں گفتگو کا سلسلہ جاری ہے اور ہر سطح پر اس کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم جناب ٹونی بلیئر کے حوالے سے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ وہ ۲۷ جون ۲۰۰۷ء کو وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد انٹرفیتھ ڈائیلاگ یعنی بین المذاہب مکالمہ کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ اس سلسلہ میں عالمی سطح پر سنجیدگی کے ساتھ کوئی فورم یا ادارہ کام نہیں کر رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۰۷ء

Pages

نوٹ:   بعض مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین خصوصاً محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔