’’سیدنا معاویہؓ ۔ گمراہ کن غلط فہمیوں کا ازالہ‘‘

   
مارچ ۲۰۰۶ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ امیر المؤمنین حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما تاریخِ اسلام کی ان عظیم شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اسلامی ریاست کی توسیع و ترقی اور دنیا میں اسلام کے غلبہ و استحکام کے لیے شاندار خدمات سرانجام دی ہیں۔ اور ان کا بیس سالہ دورِ خلافت جہاں ملّتِ اسلامیہ کی وحدت کی علامت ہے وہاں اسلام کی دعوت اور دائرۂ اثر کو دنیا کے مختلف اطراف میں پھیلانے کا ذریعہ بھی ہے۔ وہ صحابئ رسولؓ ہیں، کاتبِ وحی ہیں، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے برادرِ نسبتی ہیں، اور ان کا شمار دنیائے عرب کے ممتاز دانشوروں اور سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ ان کا حلم، بردباری اور معاملہ فہمی ہمیشہ مسلّم رہی ہے اور انہوں نے جس تدبر و دانش کے ساتھ بیس برس تک پوری امتِ مُسلمہ کی قیادت کی ہے وہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔

حضرت معاویہؓ ایک حاکم اور قائد ہونے کے ساتھ ساتھ مجتہد بھی تھے جن کے اجتہادی مقام و مرتبہ کا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں اعتراف پایا جاتا ہے۔ اور ظاہر بات ہے کہ مجتہد جب کسی مسئلہ میں رائے قائم کرے گا تو اس میں صواب اور خطا دونوں کا احتمال موجود ہوگا۔ چنانچہ ان کے اجتہادات میں بعض معاملات کے حوالے سے ان کے معاصر مجتہدین نے اختلاف بھی کیا ہے، اور ان کے بعض تفردات بھی ہیں جو ہر صاحبِ اجتہاد کا حق ہوتا ہے۔ مگر سیدنا امیر معاویہؓ کے بعض اجتہادی فیصلوں کو ایک مخصوص حلقے کی طرف سے مختلف ادوار میں اعتراض و تنقید بلکہ طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور اس کا تسلسل اب بھی قائم ہے، جو علم اور دیانت دونوں کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اور اس لحاظ سے سیدنا امیر معاویہؓ تاریخِ اسلام کی ایک انتہائی مظلوم شخصیت ہیں کہ ان کے ساتھ مؤرخین اور ناقدین کے ایک بڑے گروہ نے انصاف نہیں کیا کہ نہ صرف سیدنا امیر معاویہؓ بلکہ بنو اُمیہ کا پورا دورِ حکومت ان کے اس نوع کے اعتراضات کی زد میں ہے۔ حالانکہ اموی حکومت کو تاریخ میں یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے دور میں اسلام کا دائرہ اور اسلامی ریاست کی سرحدیں افریقہ، یورپ اور ایشیا کے دور دراز علاقوں تک پھیلیں۔ اس نے عالمی قیادت میں روم اور فارس کی حکومتوں کے خاتمے سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کیا اور جزیرۂ عرب کی اسلامی حکومت کو عملاً ایک عالمی طاقت کی شکل دے دی۔

سیدنا امیر معاویہؓ اپنے طرزِ حکومت میں اسلامی احکام و قوانین اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور اسوہ کی پاسداری کس حد تک کرتے تھے؟ اس کا اندازہ ترمذی شریف کی اس روایت سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک بار رومیوں کے ساتھ حضرت معاویہؓ کا کچھ عرصہ کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ تھا جس کی مدت ختم ہونے سے قبل حضرت معاویہؓ دمشق سے فوجوں کی کمان کرتے ہوئے اس خیال سے روم کی سرحد کی طرف روانہ ہوگئے کہ معاہدہ کی مدت ختم ہونے سے قبل سرحد تک پہنچ جائیں گے اور اس کے بعد کسی بھی کاراوائی کے لیے آزاد ہوں گے۔ مگر ابھی راستہ میں ہی تھے کہ صحابیٔ رسول حضرت عمرو بن عبسہؓ پیچھے سے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ لشکر تک پہنچے اور حضرت معاویہؓ کو جناب نبی کریمؐ کے اس ارشاد سے آگاہ کیا کہ اگر تمہارا کسی قوم کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہو تو مدت ختم ہونے سے قبل اپنی فوجوں کو حرکت میں نہ لاؤ۔ یہ سنتے ہی حضرت معاویہؓ کے قدم نہ صرف رک گئے بلکہ انہوں نے فوجوں کو دمشق کی طرف واپسی کا حکم دے دیا۔

اسی طرح امام طبرانی اور امام ابویعلی نے اپنی سند کے ساتھ یہ واقعہ نقل کیا ہے جس کے بارے میں امام ہیثمی نے مجمع الزوائد جلد ۵ ص صفحہ ۲۳۶ میں لکھا ہے کہ ’’رجالہ ثقات‘‘۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت معاویہؓ نے ایک روز جمعہ کے خطبہ میں خلافِ معمول یہ بات کہہ دی کہ بیت المال اور غنیمت کا مال ہماری مرضی پر موقوف ہے، جسے ہم چاہیں دیں گے اور جسے نہ چاہیں گے نہیں دیں گے۔ ان کی اس بات کا کسی نے جواب نہ دیا۔ دوسرے جمعہ کو پھر انہوں نے یہ بات دہرائی، پھر کسی نے جواب نہ دیا۔ لیکن جب تیسرے جمعہ کو وہی بات پھر کہی تو ایک شخص کھڑا ہوگیا اور حضرت معاویہؓ سے مخاطب ہو کر بولا کہ ہرگز نہیں! بیت المال اور غنیمت کے اموال ہم سب مسلمانوں کے ہیں، جو شخص ہمارے اور ان کے درمیان حائل ہوگا ہم تلوار کے ساتھ اس کا محاکمہ کریں گے۔ جمعہ کے بعد حضرت معاویہؓ نے اسے اپنے پاس بلا لیا، کچھ لوگ اس خیال سے پیچھے پیچھے چل پڑے کہ اگر کوئی سختی کی بات ہوئی تو وہ سفارش کریں گے۔ مگر اندر گئے تو دیکھا کہ حضرت معاویہؓ نے اس شخص کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھا رکھا ہے اور اس کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ لوگ جب وہاں پہنچے تو حضرت معاویہؓ نے ان سے کہا کہ میں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، انہوں نے فرمایا کہ میرے بعد ایسے حکمران بھی آئیں گے کہ وہ منبر پر جو چاہیں گے کہیں گے کوئی ان کی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہوگا، ایسے حکمران جہنم میں بندروں کی طرح چھلانگیں لگاتے پھریں گے۔ چنانچہ میں نے اس خیال سے یہ بات جمعہ کے خطبہ میں کہہ دی کہ مجھے کوئی شخص ٹوکتا ہے یا نہیں۔ جب پہلے جمعہ پر کسی نے نہ ٹوکا تو مجھے پریشانی ہوئی۔ اس لیے دوسرے جمعہ کو میں نے بات دہرائی، پھر بھی کوئی نہ بولا تو میری پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔ مگر آج جب میں نے تیسری بار وہی بات کہی تو اس شخص نے کھڑے ہو کر مجھے ٹوک دیا جس سے مجھے تسلی ہوئی کہ میرا شمار ان حکمرانوں میں نہیں ہوگا۔ پھر کہا کہ ’’ان ھذا احیانی احیاہ اللہ‘‘ اللہ تعالیٰ اسے زندہ رکھے اس نے مجھے زندگی بخش دی ہے۔

جس بزرگ کا یہ مزاج ہو کہ وہ ارشادِ نبویؐ سن کر فوجوں کو فوری واپسی کا حکم دے دے، اور خود کو آنحضرتؐ کے ارشاد کی روشنی میں پرکھنے کا خود ذوق رکھتا ہو، اس کے بارے میں یہ کہنا کس قدر زیادتی کی بات ہے کہ اس نے قرآن و سنت کے احکام کو تبدیل کر دیا اور نعوذ باللہ انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا۔

اس پس منظر میں ہمارے فاضل اور عزیز دوست جناب محمد ظفر اقبال کی یہ تصنیف سیدنا امیر معاویہؓ کے دفاع کی ایک قابلِ قدر کوشش ہے جس میں انہوں نے گولڑہ شریف کے سجادہ نشین جناب صاحبزادہ سید نصیر الدین نصیر گیلانیؒ کے بعض افکار کا جائزہ لیا ہے اور دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح کی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ پر کیے جانے والے اعتراضات کا ایک بڑا حصہ وہ ہے جو محض ضد اور عناد کی وجہ سے ان کی مخالفت میں سازش کے تحت پھیلا دیا گیا ہے، جبکہ بعض باتیں ایسی ہیں جو اجتہادی امور سے تعلق رکھتی ہیں، مگر معترضین نے حضرت معاویہؓ کے اجتہادی مقام و مرتبہ کو نظرانداز کرتے ہوئے بلاوجہ انہیں موردِ اعتراض ٹھہرا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ظفر اقبال صاحب کو جزائے خیر سے نوازیں اور انہیں اس خدمت کو جاری رکھنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter