اراکان کا مختصر تاریخی پس منظر

   
۱۲ ستمبر ۲۰۰۹ء

میانمر (برما) کے صوبہ اراکان کے مہاجر مسلمانوں کی ایک رفاہی تنظیم جمعیۃ خالد بن ولید الخیریہ (پوسٹ بکس ۲۱ کاکسس بازار بنگلہ دیش، فون ۰۰۸۸۰۱۸۷۰۰۸۸۹) کے علماء کا ایک وفد ان دنوں پاکستان کے مختلف شہروں میں اپنے مسلمان بھائیوں کو مظلوم اراکانی مہاجر مسلمانوں کی حالت زار کی طرف توجہ دلانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اراکان مسلم اکثریت کی پٹی ہے جہاں کے مسلمان ایک عرصہ سے ریاستی جبر کا شکار ہو کر اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں لیکن کوئی بین الاقوامی ادارہ حتیٰ کہ مسلم حکومتیں بھی رسمی لیپاپوتی سے ہٹ کر ان کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ جبکہ انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں کو تو جیسے سانپ ہی سونگھ گیا ہے۔

برمی علماء کا یہ وفد اپنی حالت زار کے بارے میں ایک رپورٹ اور اس کے ساتھ ایک اپیل بھی تقسیم کر رہا ہے جو ہم قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے اراکان کے بارے میں فیروز سنز لاہور کے شائع کردہ ’’اردو انسائیکلو پیڈیا‘‘ کی رپورٹ پڑھ لینا زیادہ مناسب ہوگا۔ اردو انسائیکلو پیڈیا کے فاضل مقالہ نگار نے ’’اراکان‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا ہے:

’’میانمر (سابق برما) کی ایک ریاست، یہ خلیج بنگال کے ساحل پر واقع ہے، اس کا رقبہ اکیس ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی چالیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ سٹوے (اکیاب) ریاست کا صدر مقام ہے۔ اس کے شمال مغرب میں بنگلہ دیش اور شمال میں بھارت واقع ہے۔ مشرق میں اراکان کی بلند اور طویل پہاڑیاں اسے میانمر (برما) سے جدا کرتی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ ایک قدرتی وحدت بن جاتی ہے۔ اس کی زمین زیادہ تر نشیبی اور دلدلی ہے۔ چاول، نیشکر اور پٹ سن کی پیداوار کافی ہوتی ہے، مسلمان اور بدھ مت کے پیروکار آباد ہیں۔

اراکان کے مسلمانوں کو روہنگیا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اراکان کا قدیم نام روہنگیاس تھا۔ نوے فیصد لوگ مسلمان ہیں، وہ میانمر سے آزادی چاہتے ہیں تاکہ وہ اسلامی اقدار کے مطابق اپنی زندگی آزادانہ طور پر بسر کر سکیں۔ ساتویں صدی کے اواخر میں مسلمان تاجروں نے یہاں آکر مقامی لوگوں سے راہ و رسم قائم کی جس کے نتیجے میں لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ۱۴۳۰ء میں یہاں مسلمانوں نے سلطان شاہ کی قیادت میں اپنی حکومت قائم کی۔ تقریباً ساڑھے تین سو سال تک یہاں مسلمانوں کی حکمرانی رہی۔ اس دوران حکمرانوں نے جو سکے جاری کیے ان پر کلمہ طیبہ لکھا ہوتا تھا۔ ۱۷۸۴ء میں ایک برمی راجہ بودپیہ نے اس پر قبضہ کر لیا، اس کا تعلق بدھ مت سے تھا۔ وہ مسلمانوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا تھا، اس نے مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑ دیے، اس کے باوجود وہ انہیں زیر کرنے میں ناکام رہا۔ تاہم مقامی بدھوں نے مسلمانوں کو دبانے اور ان پر ظلم ڈھانے کی مہم جاری رکھی جو آج بھی جاری ہے۔

۱۸۲۴ء میں برطانیہ نے میانمر (برما) اور اراکان پر قبضہ کر لیا۔ ازاں بعد مقامی آبادی کے مطالبہ پر جب ۱۹۳۷ء میں برما کو خودمختاری دی گئی تو اراکان کو بھی اس کا حصہ بنا دیا گیا۔ ۴ جنوری ۱۹۴۸ء کو برما آزاد ہوا تو یہ اس کی ماتحتی میں آگیا۔ ازاں بعد گاہے گاہے روہنگیا میں مسلمانوں نے آزادی کی کوشش کو جاری رکھا لیکن بدھ مت حکومت انہیں طاقت سے دبا دیتی۔ جنرل نیون کے عہد میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف گیارہ فوجی آپریشن کیے گئے جن میں ۱۹۷۸ء کا آپریشن خاصا بڑا اور ہولناک تھا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں تقریباً چار لاکھ مسلمانوں کو بنگلہ دیش ہجرت کرنا پڑی۔ بنگلہ دیش اور حکومت برما کے مابین معاہدے کے بعد مسلمان اپنے گھروں کو واپس آگئے اور ۱۹۸۲ء میں انہوں نے روہنگیا سالیڈیرٹی آرگنائزیشن قائم کی جس کا مقصد میانمر سے آزادی حاصل کرنا ہے۔ ۱۹۹۰ء میں پھر مسلمانوں کو بنگلہ دیش ہجرت کرنا پڑی۔ جبکہ مئی ۱۹۹۰ء میں مانگڈو ٹاؤن میں مسلمانوں کی سینکڑوں دکانیں چھین لی گئیں اور مساجد و مرکزی دعوت اسلامی کے دفاتر بند کر دیے گئے۔‘‘

اراکان کے مظلوم مسلمانوں کے بارے میں یہ رپورٹ اردو انسائیکلو پیڈیا کی ہے۔ اب اس رپورٹ اور اپیل کا ایک بھی ایک حصہ ملاحظہ فرمائیں جو جمعیۃ خالد بن ولیدؓ کے نمائندے ہاتھوں میں لیے پاکستان کے اہل دانش اور اہل خیر کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔

‘‘اراکان برما کے چودہ صوبوں میں سے ایک ہے جہاں صحابہ کرامؓ کے زمانے میں اسلام کا سکہ چلتا رہا۔ اس دوران ۴۸ مسلم حکمران گزرے جن کے عدل و انصاف او رحسن اخلاق سے اب تک دنیا محو حیرت ہے۔ ۱۷۸۴ء میں برمی راجہ بودوپھیہ (بدھ مت) نے اس سرسبز وشاداب گلشن اسلام پر ڈاکہ ڈال کر مسلمانوں کی نسل کشی شروع کر دی تھی، شعائر اسلام کو مٹانا اور مساجد و مدارس کو منہدم کرنا اپنا نصیب العین بنا لیا تھا۔ جو ہنوز جاری ہے اور عالم اسلام اس سے بے خبر ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۶۲ء سے برما میں مارشل لاء ہے اور تمام ذرائع ابلاغ پر پابندی ہے۔ کوئی صحافی گروہ وہاں یعنی مسلم اکثریتی صوبے اراکان کے اندر جا کر آج تک سروے نہ کر سکا۔ تمام شعائر اسلام پر پابندیاں عائد ہیں۔ مثلاً حج، قربانی، اجتماعی نماز، جمعہ و عیدین نیز تبلیغی دوروں پر مکمل پابندی ہے۔ سرکاری ملازمت اور نوکری، پرمٹ کے بغیر ایک بستی سے دوسری بستی میں جانے، وعظ و تبلیغ کی مجالس، مساجد و مدارس کی نئی تعمیر، اجازت نامہ کے بغیر مسلمان لڑکیوں کی شادی اور بچوں کے اسلامی نام رکھنے تک کی ممانعت ہے۔۱۹۷۸ء سے ’’مسلم ہٹاؤ پالیسی‘‘ کے تحت گنجان مسلم آبادیوں کا انخلاء حکومت کا محبوب مشغلہ ہے۔ مسلمانوں سے ہفتہ وار مفت بے گاری کا کام لینا اور خواتین کی آبرو ریزی عام ہے۔

ان مظالم سے تنگ آکر اراکانی مسلمان آئے روز بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس وقت پانچ لاکھ سے زائد (رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ) روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کے خستہ حال کیمپوں میں زندگی کے بدترین لمحات گزارنے پر مجبور ہیں۔ دینی تعلیم کے ادارے نہ ہونے کی وجہ سے بنیادی اسلامی تعلیمات سے بے خبر ہیں۔ جبکہ دوسری طرف مسیحی مشنری ادارے ان کے فقر و فاقے اور غربت و افلاس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے جان و ایمان خریدنے میں مصروف ہیں۔ اس حوالے سے بنگلہ دیش کی سرزمین کو عیسائیت کے لیے نہایت زرخیز بتایا جا رہا ہے۔ ‘‘

اس رپورٹ سے ہٹ کر ان اراکانی علماء کرام کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں ان مہاجرین کے جو کیمپ ہیں، بین الاقوامی رفاہی تنظیمیں اور این جی اوز ایک تو اس طرف متوجہ ہی نہیں ہوتیں، اور جو تنظیمیں تھوڑی بہت توجہ دیتی ہیں ان کی شرط یہ ہوتی ہے کہ کیمپ میں کوئی مسجد اور دینی مدرسہ نہیں ہوگا۔ چنانچہ ہزاروں افراد پر مشتمل مسلمان مہاجرین کے کیمپ میں نماز باجماعت پڑھنے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

اراکان کے مسلمانوں کی اس حالت زار کی چھوٹی موٹی خبریں کبھی کبھار اخبارات میں نظر سے گزرتی رہتی ہیں لیکن وہ انسانی حقوق کے اداروں، این جی اوز، خاص طور پر مسلم حکمرانوں کی سنجیدہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہیں۔ اور کوئی فورم ان مظلوموں کے انسانی اور شہری حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ اس کی وجہ ہمارے نزدیک غالباً یہ ہے کہ ان مظلوموں کی دادرسی یا ان کے حقوق کی بحالی میں کسی عالمی طاقت یا پڑوسی ملک کا اپنا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ ورنہ جس فورم (اقوام متحدہ) پر مشرقی تیمور کی آزادی کے معاملات تیزی کے ساتھ نمٹائے جانے کا منظر سب کھلی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور جو فورم خود کو اقوام و ممالک کے حقوق کا علمبردار اور محافظ قرار دیتا ہے، اس فورم پر اراکان کے مظلوم اور ریاستی جبر کے شکار مسلمانوں کے انسانی، شہری اور بنیادی حقوق کے لیے کسی طرف سے کوئی آواز سامنے نہ آنے کا کوئی اور جواز کم از کم ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔

جمعیۃ خالد بن ولیدؓ کی پاکستانی بھائیوں سے اپیل ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں پناہ گزین مسلمانوں کی حالت بہتر بنانے اور ان کے بچوں کو دینی تعلیم فراہم کرنے میں تعاون کریں۔ اور ہم اس کے ساتھ اہل دانش کے نام یہ اپیل بھی شامل کرنا چاہیں گے کہ ان مظلوموں کی داد رسی کے لیے عالمی سطح پر مؤثر آواز اٹھانے کی بھی کوئی صورت نکالیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter