شریعہ بورڈ آف امریکہ اور اس کے فیصلے

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ ستمبر ۲۰۰۸ء

گزشتہ ماہ میں نیویارک گیا اور کوئنز کے علاقے میں واقع دینی درسگاہ دارالعلوم نیویارک کے سالانہ امتحانات میں مصروف رہا جہاں درس نظامی کا وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ہمارے ہاں مدارس میں مروج ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بیسیوں مدارس اس نصاب کے مطابق نئی نسل کی دینی تعلیم و تدریس میں سرگرم عمل ہیں۔ طلبہ کے مدارس بھی ہیں اور طالبات کے بھی۔ درس نظامی سے میری مراد یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچہ اور اہداف وہی ہیں کہ دینی تدریس و تعلیم اور امامت و خطابت کے لیے رجال کار تیار کیے جائیں اور قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کے ساتھ ان علوم و فنون کی انہیں تعلیم دی جائے جو قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کے بنیادی لٹریچر تک مؤثر رسائی کے لیے ضروری ہیں۔ البتہ اس میں مقامی اور علاقائی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ ردوبدل اور ترامیم و ضافہ جات بھی کیے گئے ہیں۔ ان مدارس میں زیادہ تر طلبہ اور طالبات پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے آئے ہوئے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ افریقہ اور مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور طالبات بھی بعض مدارس میں ان کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔

دارالعلوم نیویارک کے منتظم بھائی برکت اللہ کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے، ان کی خواہش تھی کہ میں اس مدرسے کے طلبہ کا تفصیل کے ساتھ امتحان لوں اور مجموعی صورتحال کے بارے میں انہیں بریف کروں کہ کام کیسا چل رہا ہے اور اسے مزید بہتر اور بامقصد بنانے کے لیے اور کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔ دارالعلوم کے اساتذہ میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کے علاوہ ہمارے گوجرانوالہ کے پرانے ساتھی مولانا حافظ اعجاز احمد ، شام سے تعلق رکھنے والے ایک استاذ اور ایک نو مسلم اسپینش عالم دین بھی ہیں جنہوں نے قبول اسلام کے بعد درس نظامی کی مکمل تعلیم حاصل کی اور اب وہ اس نصاب کے اسباق بڑی دلچسپی کے ساتھ طلبہ کو پڑھا رہے ہیں۔ اساتذہ کی محنت اور ذوق کا اندازہ طلبہ کی صلاحیت و استعداد سے بخوبی ہو رہا تھا جس کا میں نے اپنی رپورٹ میں اظہار کیا اور کام کو مزید بہتر بنانے کے لیے مشورے بھی دیے۔

اس دوران مجھے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کے ہیڈ آفس میں جانے کا موقع ملا۔ یہ تنظیم جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے حضرات پر مشتمل ہے اور شمالی امریکہ میں اپنا ایک مستقل حلقۂ اثر رکھتی ہے۔ ابتداء میں یہ حضرات اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے ساتھ منسلک تھے جو شمالی امریکہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ اس میں عرب ممالک کے علماء کرام اور دانشوروں کی تعداد زیادہ ہے لیکن دوسرے ممالک کے حضرات بھی اس میں شریک ہیں۔ لیکن اب سے دو عشرے قبل اس سے ہٹ کر اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کی تشکیل عمل میں لائی گی، اس کے بانیوں میں ہمارے پرانے دوست عبد الشکور صاحب بھی شامل ہیں جو ایک زمانے میں پنجاب یونیورسٹی کی اسٹودنٹس یونین کے صدر رہے ہیں، ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں ہمارے ساتھ سرگرم عمل تھے، ۱۹۸۷ء میں جب میں پہلی بار امریکہ گیا تو وہ میرے میزبانوں میں شامل تھے اور ان سے اس دور میں امام سراج وہاج سمیت بہت سے حضرات کے ساتھ میری ملاقاتیں ہوئیں۔ آج کل وہ پاکستان میں ہیں اور تحصیل کھاریاں میں واقع اپنے گاؤں گکھڑ چنن میں ایک معیاری اسکول چلا رہے ہیں۔

اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ یہاں کے حلقوں میں ’’اثنا‘‘ کے نام سے جبکہ اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ ’’اکنا‘‘ کے نام سے متعارف ہے۔ اکنا کے دفتر میں حاضری ہوئی اور وہاں کے ذمہ دار حضرات سے ملاقات ہوئی۔ اکنا کے دوست آج کل دعوت اسلام کی ایک نئی مہم کی تیاریوں میں مصروف ہیں جس کے تحت رمضان المبارک کے دوران نیویارک کی زیرزمین ریلوے کے اسٹیشنوں پر اسلام کی دعوت اور تعارف کے حوالے سے ہزاروں پوسٹر لگائے جائیں گے اور مختصر جملوں میں سب وے کے مسافروں کو اسلام کے مطالعے اور اسلامی تعلیمات سے واقفیت کی طرف توجہ دلائی جائے گی۔ اس مہم کی تفصیلات معلوم کر کے بے حد خوشی ہوئی۔ یہ ہماری ذمہ داریوں میں سے ہے کہ جس ماحول اور معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں کی عمومی آبادی کو اسلام کی دعوت اور بنیادی تعلیمات سے متعارف کرائیں اور دعوت اسلام کے مواقع تلاش اور استعمال کریں۔ اکنا کے ذمہ دار جناب طارق صاحب نے بتایا کہ امریکی میڈیا میں اس مہم کی مخالفت میں بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن اس سے مہم کو فائدہ پہنچا ہے کہ اس مخالفت کے ماحول میں زیادہ لوگ اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور اکنا کے ذمہ دار حضرات کو امریکی میڈیا پر اپنے موقف اور پروگرام کی وضاحت کا بھی موقع مل رہا ہے۔

اس کے علاوہ مسجد سیدنا صدیق اکبرؓ میں ’’شریعہ بورڈ آف امریکہ‘‘ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کا بھی موقع ملا بلکہ مجھے اس کے خصوصی مہمانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ شریعہ بورڈ کا مقصد مسلمانوں کو ان کے خاندانی اور مالی نوعیت کے تنازعات میں اسلامی شریعت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرنا اور پنچایت کے انداز میں ان کے مقدمات اور تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ امریکہ کے علماء کرام کو اس طرف سب سے زیادہ توجہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے دلائی اور اس کے لیے شکاگو کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی نوال الرحمان صاحب نے محنت کی جس کے نتیجے میں نہ صرف شکاگو بلکہ نیویارک میں بھی شریعہ بورڈ کئی سالوں سے کام کر رہا ہے۔ سرکردہ علماء کرام ایک جیوری کی شکل میں نکاح و طلاق، وراثت اور مالی تنازعات کے مقدمات سنتے ہیں اور شریعت اسلامیہ کے تحت ان کے فیصلے کرتے ہیں۔ اس بورڈ کو امریکی قانون کے تحت منظور کر لیا گیا ہے اور اس کے فیصلوں کا امریکی عدالتیں بھی احترام کرتی ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ شکاگو میں دو مسلمانوں کے درمیان کاروباری شراکت کے حوالے سے ایک مقدمہ کم و بیش سات برس تک عدالتوں میں چلتا رہا اور ہزاروں ڈالر خرچ ہونے کے باوجود وہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچا تو متعلقہ عدالت نے وہ کیس شریعہ بورڈ کے پاس بھجوا دیا جس کا فیصلہ شریعہ بورڈ نے کسی بھی قسم کے خرچے اور فیس کے بغیر صرف گیارہ روز میں کر دیا جس پر دونوں فریق مطمئن ہیں اور متعلقہ عدالت نے بھی اس فیصلے پر صاد کر دیا ہے۔

مجھے شریعہ بورڈ کے سالانہ اجلاس میں اس کی کارکردگی کی رپورٹ سننے کے بعد خطاب کے لیے کہا گیا تو میں نے عرض کیا کہ جن بزرگوں نے اس کے لیے محنت کی وہ مبارکباد اور تحسین کے مستحق ہیں لیکن اس میں تھوڑا سا حصہ بحمد اللہ تعالیٰ میرا بھی ہے کہ ۱۹۹۰ء کو مسلم کمیونٹی سنٹر شکاگو کی ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام اور دانشوروں کو توجہ دلائی تھی کہ امریکی دستور کے تحت آپ حضرات کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ مسلمانوں کے نکاح و طلاق اور وراثت کے معاملات کے ساتھ مالی معاملات میں بھی اپنے مذہبی قوانین پر عمل کا حق حاصل کر سکتے ہیں جس کے لیے آپ کو یہاں کے عدالتی نظام کی منظوری سے باقاعدہ طور پر ایک ’’بورڈ آف آربٹریشن‘‘ قائم کرنا ہوگا۔ اور اگر آپ ایسا بورڈ قائم کر لیتے ہیں تو امریکی دستور کے مطابق یہاں کی عدالتیں اس بورڈ کی قائم کردہ عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کی پابند ہوں گی۔ میں نے اس نشست میں علماء کرام اور مسلم رہنماؤں سے گزارش کی تھی کہ اگر آپ کو امریکی دستور یہ حق دیتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ آج اس رخ پر شکاگو اور نیویارک میں (اور میری معلومات کے مطابق اٹلانٹا میں بھی) شریعہ بورڈ قائم ہوئے ہیں اور پیش رفت کر رہے ہیں تو یہ میرے ایک خواب کی تعبیر بھی ہے جس پر شریعہ بورڈ کے ذمہ دار حضرات کو مبارکباد دیتے ہوئے اس مشن کی کامیابی اور پورے امریکہ میں اس کا دائرہ وسیع ہونے کی دعا کرتا ہوں، آمین یا رب العالمین۔

اس کے ساتھ میں نے یہ گزارش بھی کی کہ شریعہ بورڈ آف امریکہ کو مسلمانوں کے مسائل، تنازعات اور مقدمات کے شریعت اسلامیہ کے مطابق حل کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ شریعت اسلامیہ کے احکام و قوانین کے بارے میں جو شکوک و شبہات پیدا کیے جا رہے ہیں اور اسلامی نظام کے بارے میں جو منفی مہم ہر سطح پر جاری ہے اسے سامنے رکھ کر نئی نسل کی رہنمائی، ذہن سازی اور بریفنگ کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ کیونکہ مسائل و مشکلات کے عملی حل سے پہلے ان کی فکری بنیادوں اور تہذیبی پس منظر کا واضح ہونا ضروری ہے اور ایمان و عقیدہ کے رسوخ اور احکام شریعہ پر مخلصانہ عمل کے لیے فکری و ذہنی اطمینان بھی ایک ناگزیر ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے جسے نظر انداز کر کے ہم نفاذ شریعت کی جدوجہد میں مؤثر پیش رفت نہیں کر سکتے۔