امریکہ میں رؤیت ہلال کا مسئلہ

   
۱۹ اکتوبر ۲۰۰۴ء

رؤیت ہلال کا مسئلہ امریکہ میں بھی اسی طرح الجھن کا شکار ہے جیسے ہمارے ہاں پاکستان میں یا برطانیہ میں ہوتا ہے۔ میں ۱۱ کتوبر کو امریکہ پہنچا تھا اور اس وقت دارالہدٰی (سپرنگ فیلڈ، ورجینیا) میں ہوں۔ دارالہدٰی کے سربراہ مولانا عبد الحمید اصغر بہت محبت کرتے ہیں اور احترام سے نوازتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ اصرار بھی ہوتاہے کہ جتنے دن امریکہ میں رہوں دارالہدٰی ہی میں رہوں۔ اس سال ۱۱ اکتوبر سے ۲۲ اکتوبر تک امریکہ میں رہنے کا پروگرام تھا، میں نے لندن سے نیویارک کے لیے ٹکٹ کروا لیا، خیال یہ تھا کہ رہوں گا تو واشنگٹن (ڈی سی) میں مولانا عبد الحمید اصغر کے پاس ہی لیکن آتے اور جاتے ایک دو دن نیویارک میں مل جائیں گے اور وہاں کے دوستوں سے ملاقات ہوجائے گی۔ سیٹیں کنفرم کرا کے اپنے بیٹے حافظ عامر خان کو اطلاع دی جو دارالہدٰی میں مولانا موصوف کے ہاں مقیم ہے، اس نے تھوڑی دیر کے بعد فون پر بتایا کہ مولانا صاحب ناراض ہو رہے ہیں کہ ایک تو وقت ہی اتنا تھوڑا ہے کہ دو ہفتے مکمل نہیں ہیں اور دوسرا نیویارک کو بھی پروگرام میں شامل کر لیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ میں لندن سے سیدھا واشنگٹن آؤں اور یہیں سے لندن واپسی کروں چنانچہ مجھے سیٹیں تبدیل کرانا پڑیں اور ۱۱ اکتوبر کو سیدھا واشنگٹن پہنچ گیا جبکہ نیویارک اور دوسرے مقامات پر حاضری کا پروگرام اب آئندہ کسی سفر میں ہی ہوسکے گا۔

چند روز قبل برطانیہ کے معروف نومسلم رہنما یوسف اسلام کو امریکہ میں اترنے نہیں دیا گیا تھا اور طویل انٹرویو کے بعد واپس کر دیا گیا تھا اس لیے لندن سے آتے ہوئے مجھے بھی دوستوں نے کہا کہ اس قسم کے انٹرویو کے لیے تیار رہوں اور خود میرے ذہن میں بھی کسی حد تک خدشہ تھا۔ زیادہ خدشہ اس بات کا تھا کہ ابھی جون میں ہو کر گیا ہوں اور اب تین ماہ بعد پھر آگیا ہوں اس کے بارے شاید ضرور پوچھا جائے گا مگر کچھ بھی نہیں ہوا، صرف اتنی بات ہوئی کہ مجھے سفید رنگ کا امیگریشن فارم پر کرنا تھا جبکہ میں نے ٹوٹی پھوٹی انگلش میں سبز رنگ کا فارم پر کر رکھا تھا۔ کاؤنٹر پر پہنچا تو آفیسر نے سفید فارم دے کر کہا کہ مجھے یہ فارم پر کرنا ہے جو میں نے پر کر دیا۔ آنے کی وجہ پوچھی تو بتایا کہ میرا بیٹایہاں رہتا ہے اسے ملنے آیا ہوں۔ اس نے دونوں ہاتھوں کی ایک ایک انگلی کے پرنٹس لیے، کاؤنٹر پر نصب آٹومیٹک کیمرے سے فوٹو کھینچا اور چھ ماہ کی انٹری کی مہر لگا کر پاسپورٹ میرے حوالے کر دیا۔ البتہ کسٹم آفیسر کو ایک بات سمجھانے میں تھوڑی سی وقت ہوئی، اس نے پوچھا کہ میرے سامان میں کھانے پینے کی کوئی چیز تو نہیں ہے، میں نے کہا کہ ہاں ہے، اس نے دریافت کیا کہ کیا ہے؟ اصل بات یہ تھی کہ میں لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے لیے مفتی عبد المنتقم سلہٹی کے گھر سے روانہ ہوا تھا، وہ سلہٹ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے نوجوان عالم دین ہیں، دارالعلوم کراچی میں افتاء کا کورس کیا ہے اور کئی برس تک حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی زید مجدھم کے رفیق کار رہے ہیں، اب لندن میں ہیں اور ابراہیم کمیونٹی کالج میں افتاء کی ذمہ داری نباہ رہے ہیں۔ گھر سے ایئر پورٹ روانہ کرتے ہوئے انہوں نے دوپہر کا کھانا پیک کرکے ساتھ دے دیا تھا کہ ورجن ایئرلائن کی فلائٹ میں شاید حلال کھانا نہ ملے۔ وہ میں سارا نہیں کھا سکا تھا اور روسٹ چکن کا ایک پیس میرے سامان میں موجود تھا۔ میری انگریزی بس اتنی ہے کہ کسٹم آفیسر کو یہ سمجھانے میں مجھے تھوڑا وقت صرف کرنا پڑا اور جب وہ سمجھ گیا تو اس نے مجھے باہر جانے کی اجازت دے دی۔

دارالہدٰی میں افریقہ سے تشریف لائے ہوئے ایک عالم دین مولانا مفتی محمد ابراہیم ڈیسائی بھی میرے ساتھ مقیم ہیں، وہ ہر سال آتے ہیں اور رمضان المبارک کے دوران دارالہدٰی میں ان کا قیام ہوتا ہے۔ یہاں قیام کے دوران میرے ذمہ یہ ہوتاہے کہ روزانہ عشاء کے بعد کسی موضوع پر بیان کروں اور فجر اور مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد ایک ایک حدیث ترجمہ کے ساتھ سناؤں۔ بہت سے احباب ذوق وشوق کے ساتھ شریک ہوتے ہیں، رمضان المبارک کے دوران تراویح سے قبل مولانا مفتی محمد ابراہیم ڈیسائی انگلش میں بیان کرتے ہیں اور تراویح کے بعد اردو میں میرا بیان ہوتاہے۔ تراویح میں مسجد بھری ہوئی ہوتی ہے بلکہ زیادہ رش کی وجہ سے صفوں کو مزید تنگ کرنا پڑتا ہے۔ رش کی وجہ سے جمعہ دو جگہ کرنا پڑا، مسجد کے ہال میں خطبہ جمعہ میں نے دیا جبکہ دارالہدٰی کے مین حال میں مفتی محمد ابراہیم ڈیسائی نے جمعہ پڑھایا۔

مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب کا تعلق ڈربن سے ہے اور وہ وہاں کی افتاء کونسل کے سیکرٹری ہیں، ان سے پہلی بار تعارف ہوا۔ جبکہ جنوبی افریقہ سے ایک اور بزرگ مولانا محمد ہارون بھی تشریف لائے ہوئے ہیں اور تبلیغی جماعت کے مرکز مسجد نور میں قیام پذیر ہیں، وہ جنوبی افریقہ کے صوبہ شال کے جمعیۃ علماء کے صدر ہیں، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فضلاء میں سے ہیں اور دوران تعلیم مفتی محمد جمیل خان شہید کے ساتھی رہے ہیں۔ ان سے ملاقات کے لیے گزشتہ روز مسجد نور میں گیا تو وہ غائبانہ طور پر پہلے سے متعارف تھے، کافی دیر حضرت والد صاحب مدظلہ اور دیگر حضرات کے بارے میں گفتگو ہوتی رہی۔ جنوبی افریقہ کی جمعیۃ علماء کے بارے میں اکثر پڑھنے سننے میں آتا ہے کہ وہ باقاعدہ ایک منظم اور متحرک جماعت ہے جو تعلیم، افتاء، میڈیا اور رفاہ عامہ کے کاموں میں ہر سطح پر مصروف رہتی ہے۔ کبھی وہاں جانے کا اتفاق تو نہیں ہوا مگر وہاں کی خبریں اور جمعیۃ علماء کی سرگرمیاں معلوم کر کے خوشی ہوتی ہے کہ علماء کرام کہیں تو نظم وضبط کے ساتھ زمانے کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے مصروف عمل ہیں، ورنہ ہمارے حلقوں میں عام طور پر اس چیز کا فقدان ہی رہتا ہے۔

۱۴ اکتوبر جمعرات کو یہاں ۲۹ شعبان تھی اور شام کو چاند دیکھنا تھا۔ مولانا عبد الحمید اصغر نے جو انجینئر بھی ہیں بتایا کہ سائنسی طورپر آج چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے لیکن میرا خیال تھا کہ چونکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور متعدد دیگر عرب ممالک میں چاند ہونے کا اعلان ہو گیا ہے اس لیے امریکہ میں بھی ضرور ہوجائے گا مگر رات ساڑھے دس بجے تک کہیں سے چاند کی کوئی اطلاع نہ ملی۔ ہمارے مسلک کے چند سرکردہ علماء کرام کا ایک گروپ ٹورانٹو میں رؤیت ہلال کا اہتمام کرتا ہے اور بہت سے شہروں کے مراکز ومدارس اسی کے اعلان پر عمل کرتے ہیں۔ دارالہدٰی بھی اسی نظام سے منسلک ہے، انہوں نے رات گیارہ بجے کے لگ بھگ اعلان کر دیا کہ شمالی امریکہ میں کہیں چاند نظر آنے کی شہادت نہیں ملی اس لیے پہلا روزہ کل جمعہ کی بجائے پرسوں ہفتہ کو ہوگا۔ مگر عرب مسلمانوں کے کم وبیش سبھی مراکز نے جمعہ کے روزہ کا اعلان کیا اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی بعض تنظیموں اور علماء کرام نے بھی جمعہ کے روزے کا اعلان کیا جس سے عجیب پریشانی کی صورت حال پیدا ہوگئی۔

صبح نماز فجر میں دارالہدٰی کی مسجد میں آنے والے نمازیوں کی ایک بڑی تعداد روزے سے تھی اور ایک بڑی تعداد روزے کے بغیر تھی، سوال وجواب اور چہ میگوئیوں کا ماحول تھا۔ مجھ سے بعض دوستوں نے پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ میں فتوٰی نہیں دیا کرتا اور جہاں موجود ہوتا ہوں وہاں کے مفتی صاحب کے فتوٰی پر عمل کرتا ہوں اسی وجہ سے آج روزے سے نہیں ہوں لیکن میری رائے یہ ہے کہ جب جمہور فقہائے احناف، مالکیہ، حنابلہ کے نزدیک اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں ہے اور کسی ایک جگہ چاند کا ثبوت ہو جائے تو باقی دنیا کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمان دیوبندی نے فتاوٰی دارالعلوم دیوبند میں اس کی صراحت کی ہے، بریلوی مکتب فکر کے بڑے مفتی مولانا امجد علی اعظمی نے بہار شریعت میں لکھا ہے اور سلفی بزرگ قاضی شوکانی نے اس کی وضاحت کی ہے، تو پھر اس سلسلہ میں لمبے بکھیڑے میں پڑنے اور عام مسلمانوں کو خواہ مخواہ پریشانی میں ڈالنے کی بجائے وحدت امت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا زیادہ بہتر ہے اور اکابر علماء کرام کو اس سلسلہ میں باہمی مشاورت کے ساتھ کوئی اجتماعی اجتہادی فیصلہ کرنا چاہیے۔ صوبہ سرحد کی اسمبلی نے اس حوالہ سے گزشتہ دنوں جو متفقہ قرارداد منظور کی ہے میرے نزدیک اس کا پس منظر بھی یہی ہے اور یہ قرارداد ملک کے علمی ودینی مراکز اور مکاتب فکر کی سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے۔

پہلا روزہ جمعہ کا ہے یا ہفتہ کا یہ جھگڑا ابھی آگے چلے گا، اعتکاف کے آغاز، طاق راتوں اور ستائیسویں شب کے تعین میں یہی اختلاف اور بحث ومباحثہ ایک بار پھر ہوگا اور پھر عید بھی شاید اس اختلاف کی زد میں آجائے۔خدا جانے ہم علماء کرام اس قدر مشکل پسند کیوں ہوگئے ہیں کہ امت کے لیے آسانی کا کوئی راستہ شرعی اصول وضوابط کے دائرہ میں رہتے ہوئے نظر آجائے تب بھی اس کی طرف قدم بڑھانے کو ہمارا جی نہیں چاہتا، اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں،آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter