قادیانی مسئلہ ایک نئے موڑ پر

   
۱۶ جنوری ۱۹۹۷ء

گزشتہ سال امریکی وزارتِ خارجہ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ میں قادیانیوں کا بطور خاص ذکر کیا تو قادیانی مسئلہ کا ادراک رکھنے والوں کو بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ حالات کا رخ اب کدھر کو ہے اور امریکہ بہادر اس حوالہ سے ہم سے کیا چاہتا ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دینا اور انہیں اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی علامات و اصطلاحات استعمال کرنے سے قانوناً روکنا امریکہ اور دیگر مغربی لابیوں کے نزدیک انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اور امریکہ نے ۱۹۸۷ء میں پاکستان کی امداد کی بحالی کے لیے جو شرائط عائد کی تھیں ان میں باقاعدہ طور پر یہ شرط شامل تھی کہ احمدیوں کے خلاف کیے گئے اقدامات واپس لیے جائیں۔ جبکہ مغربی حکومتیں، لابیاں اور ذرائع ابلاغ اس حوالہ سے پاکستان اور ملک کے دینی حلقوں کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا میں مصروف ہیں حتیٰ کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں جو سالانہ رپورٹ جاری کرتی ہے اس میں کئی برسوں سے قادیانی مسئلہ کا تفصیلی تذکرہ ہوتا ہے۔

اس سلسلہ میں سب سے زیادہ تکلیف دہ اور افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ یک طرفہ ہو رہا ہے اور اسلامیانِ پاکستان کے دین و عقیدہ سے تعلق رکھنے والے اس نازک اور حساس مسئلہ کے بارے میں خود مسلمانوں اور ان کے دینی راہنماؤں کے موقف کو نہ سمجھنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور نہ ہی اسے کسی درجہ میں اہمیت دی جا رہی ہے۔ حالانکہ مسئلہ کچھ زیادہ پیچیدہ نہیں ہے، اہلِ اسلام کا موقف یہ ہے کہ قادیانی گروہ چونکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم کرتے ہیں اور اس پر نازل ہونے والی وحی کو مانتے ہیں، اس لیے غلط یا صحیح کی بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے مذاہبِ عالم کے مسلمات کی رو سے وہ ایک الگ اور نئے مذہب کے پیروکار ہیں۔ اس لیے انہیں اپنے لیے نیا نام اور مذہبی شعائر و اصطلاحات اختیار کرنی چاہئیں اور انہیں اسلام کا نام او رمسلمانوں کی مخصوص مذہبی علامات مثلاً کلمہ طیبہ، مسجد، امیر المومنین، خلیفہ وغیرہ اپنے نئے مذہب کے لیے استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ اس سے اشتباہ کی فضا قائم رہتی ہے اور دنیا بھر کے سوا ارب مسلمانوں کی مذہبی شناخت مجروح ہوتی ہے۔ مگر قادیانی گروہ ہٹ دھرمی اور ضد سے کام لیتے ہوئے نئے نبی اور وحی کا اعلان کرتے ہوئے بھی اسلام کا نام اور مسلمانوں کی اصطلاحات استعمال کرنے پر اصرار کر رہا ہے اور یہی بات مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین تنازعہ کی شدت کا باعث بنی ہوئی ہے۔

قادیانیوں کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب مانتے ہیں اس لیے انہیں مسلمان کہلانے کا حق ہے۔ لیکن یہ مغالطہ نوازی ہے کیونکہ عیسائی حضرات حضرت موسیٰ اور تورات کو مانتے ہیں لیکن اس کے ساتھ حضرت عیسٰیؑ اور انجیل کو ماننے کی وجہ سے یہودی نہیں کہلا سکتے بلکہ الگ مذہب کے پیروکار سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان حضرت موسٰیؑ اور حضرت عیسٰیؑ دونوں کے ساتھ ساتھ تورات اور انجیل کی حقانیت پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ان کے بعد حضرت محمدؐ اور قرآن کریم کو بھی تسلیم کرتے ہیں، اس لیے وہ نہ یہودی کہلا سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں عیسائی کہلانے کا حق ہے بلکہ وہ ان دونوں سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار تسلیم ہوتے ہیں۔

یہ مذاہبِ عالم کا مسلمہ اصول ہے جس کی خلاف ورزی کے مرتکب قادیانی ہیں اور وہ اس مسلمہ اصول سے انحراف کر کے مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو خراب کر رہے ہیں۔ اس سے مسلمانوں کا دینی شناخت کے تحفظ کا حق مجروح ہوتا ہے لیکن ’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ کے مصداق دنیا بھر میں قادیانیوں اور ان کے مغربی آقاؤں کی طرف سے شور ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں قادیانی گروہ کے انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں اور مغربی حکومتوں کی طرف سے پاکستان کی حکومت پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ قادیانیوں کو اسلام کے نام پر اپنے مذہب کا پرچار کرنے اور اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے کی اجازت دے اور اس سلسلہ میں کیے گئے آئینی و قانونی اقدامات واپس لے۔ چنانچہ امریکی وزارت خارجہ نے گزشتہ سال پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں جو رپورٹ جاری کی اس میں بطور خاص چار امور کا تذکرہ کیا گیا ہے:

  • قادیانیوں کو مسلمان تسلیم نہیں کیا جا رہا۔
  • انہیں حج کے لیے پاسپورٹ جاری نہیں کیا جاتا۔
  • اسلام کا نام استعمال کرنے پر ان کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔
  • اور ان کے وفات شدگان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا جاتا۔

اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے عبوری نگران حکومت کے قیام کے بعد سندھ کی کابینہ میں قادیانی وزیر کنور ادریس کی شمولیت، لاہور ہائیکورٹ میں مبینہ طور پر نئے قادیانی ججوں کے تقرر اور اب عبوری حکومت کی طرف سے سرکاری محکموں کو سرکاری دستاویزات میں قادیانیوں کو غیر مسلم کے بجائے ’’احمدی‘‘ لکھنے کی ہدایت کا جائزہ لیا جائے تو ان فیصلوں اور اقدامات کے اصل سرچشہ تک پہنچنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں ملک کے دینی حلقے عبوری حکومت کے اقدامات پر مسلسل احتجاج کر رہے ہیں اور کل جماعتی مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جو غالباً ملک میں تحریک ختم نبوت کو ازسرنو منظم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گا اور اس طرح قادیانی مسئلہ اور اس کے حوالہ سے تحریک ختم نبوت ایک نئے موڑ کی طرف بڑھتی نظر آرہی ہے۔

نگران حکومت کے نئے اقدامات کے بعد قادیانی مسئلہ کے ضمن میں دو نکات بطور خاص سامنے آئے ہیں۔ ایک یہ کہ قادیانیوں کو سرکاری دستاویزات میں ’’غیر مسلم‘‘ کی بجائے ’’احمدی‘‘ لکھنے کا مقصد کیا ہے؟ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایسا کر کے امریکہ اور مغربی ممالک کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے فیصلے پر نظرثانی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ لیکن ملک کے دستور اور باشندگان وطن کے متفقہ عقیدہ و موقف کے ہوتے ہوئے ایسا کرنا حکومت کے لیے ممکن نہیں ہے، اس لیے کہ ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ء میں متفقہ دستوری ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا اور اس لیے بھی کہ ملک کے تمام مذہبی مکاتب فکر اور دینی ادارے بلکہ عالم اسلام کے تمام مذہبی حلقے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر متفق ہیں۔ اس لیے انہیں مسلمان تسلیم کرانے کی امریکی خواہش کو پورا کرنا کم از کم پاکستان میں کبھی کسی حکومت کے بس میں نہیں ہوگا۔

دوسرا کلیدی مسئلہ اسامیوں اور مناصب مثلاً وزارت یا ہائیکورٹ کے جج کے منصب پر کسی قادیانی کے تقرر کا مسئلہ ہے جس کا دو پہلوؤں سے جائزہ لینا ہوگا:

  1. ایک تو اس پہلو سے کہ پاکستان اپنے دستور کے لحاظ سے ایک نظریاتی اور اسلامی ریاست ہے اور کسی نظریاتی اسلامی ریاست میں کسی بھی شعبہ اور محکمہ کے کلیدی منصب پر کسی غیر مسلم کا فائز ہونا شرعاً اور اصولاً درست نہیں ہے۔
  2. اور دوسرے نمبر پر یہ پہلو قابل توجہ ہے کہ قادیانیوں نے اپنے بارے میں پارلیمنٹ کا فیصلہ اور دستورِ پاکستان کا وہ حصہ تسلیم کرنے سے جماعتی طور پر انکار کیا ہوا ہے جس میں انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر قادیانی مذہب کے افراد جداگانہ الیکشن کا بائیکاٹ کیے ہوئے ہیں حتیٰ کہ انہوں نے ووٹروں کی فہرست میں بطور غیر مسلم ووٹ درج کرانے کا بھی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ اور اس سلسلہ میں قادیانی جماعت کے ایک ترجمان کا اعلان حال ہی میں قومی پریس کے ذریعے سامنے آیا ہے کہ قادیانیوں کا ملک کے عام انتخابات سے کوئی تعلق نہیں۔

ان سارے اعلانات و اقدامات کی بنیاد دستورِ پاکستان کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنے پر ہے اور اس پس منظر میں کسی بھی کلیدی منصب کے لیے کسی قادیانی کا اسی دستور کے تحت حلف اٹھانا ہی مشکوک ہو جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ سندھ کے قادیانی وزیر اور لاہور ہائیکورٹ کے قادیانی جج صاحبان نے اپنے عہدوں کا حلف دستور پاکستان کے تحت اٹھایا ہے جبکہ اسی دستور کے ایک حصہ کو تسلیم کرنے سے وہ مسلسل انکاری ہیں تو ان کے حلف کی آخر کیا آئینی اور اخلاقی پوزیشن باقی رہ جاتی ہے؟

سندھ کی عبوری حکومت میں قادیانی وزیر کنور ادریس کی شمولیت کے بعد راقم الحروف نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو ایک عریضہ ارسال کیا تھا جس میں راقم الحروف نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ کوئی قادیانی جب تک دستور کے حوالے سے اپنے جماعتی فیصلے اور طرز عمل سے براءۃ کا اعلان نہ کرے اس وقت تک دستور پاکستان کے تحت اس کا کسی منصب کے لیے حلف اٹھانا خود دستور کے تقاضوں اور حرمت کے منافی ہے، لیکن چیف جسٹس صاحب نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

الغرض یوں نظر آرہا ہے کہ جس طرح ملک کی معیشت کے بارے میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نام پر امریکی غلامی کو قبول کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اسی طرح نظریہ و عقیدہ کے محاذ پر بھی امریکی ہدایات نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے اور اس کا آغاز قادیانی گروہ کو ناروا رعایات دینے سے کیا گیا ہے۔ لیکن یہ مسئلہ بہت نازک اور حساس ہے، اس میں اگر ایک طرف امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کا دباؤ ہے تو دوسری طرف پاکستان کے دینی حلقوں اور عام مسلمانوں کا عقیدہ و ایمان اور ان کے دینی جذبات و احساسات ہیں۔ اور عبوری حکومت کو بہرحال یہ فیصلہ ابھی سے کر لینا چاہیے کہ اسے ان دونوں میں سے کس کا ساتھ دینا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter