وزیر اعظم سے مجوزہ ملاقات۔ ایک ضروری وضاحت

   
۹ ستمبر ۲۰۱۸ء

وزیراعظم جناب عمران خان کے ساتھ مجوزہ ملاقات اور ہماری معذرت کے بارے میں مختلف تبصرے مسلسل سامنے آرہے ہیں، بہت سے دوست اس معذرت سے اتفاق کر رہے ہیں اور اختلاف کرنے والوں کی بھی کمی نہیں جن کا کہنا ہے کہ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا۔ دونوں طرف مخلصین ہیں جو پورے اخلاص کے ساتھ اپنی بات کہہ رہے ہیں اور دلائل و قرائن بھی کسی کے کمزور نہیں ہیں مگر چونکہ سوالات کا سلسلہ پھیلتا جا رہا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جو صورتحال رونما ہوئی وہ قارئین کے سامنے رکھ دی جائے۔

تحریک انصاف کے راہنماؤں میں مولانا مفتی محمد سعید خان ہمارے محترم دوستوں میں سے ہیں، سنجیدہ اور صاحب فکر عالم دین ہیں، شیخ الحدیث حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کے تلامذہ میں سے ہیں، اسلام آباد سے مری جاتے ہوئے چھترپارک کے مقام پر ایک بڑی مسجد اور وسیع لائبریری کا نظام قائم کیے ہوئے ہیں جس کے ساتھ خانقاہی ماحول بھی ہے اور وہ اپنے ذوق کے مطابق دینی و علمی خدمات میں مصروف ہیں۔ ان کی کچھ باتوں سے بعض دوستوں کو اختلاف رہتا ہے، مجھے بھی ہو سکتا ہے مگر قارئین جانتے ہیں کہ میرے نزدیک کسی دوست اور بزرگ کی رائے، موقف، پالیسی، طرزعمل سے اختلاف کا مطلب بے اعتمادی نہیں ہوتا بلکہ مفتی صاحب موصوف کی تحریک انصاف میں مؤثر موجودگی سے مجھے اطمینان رہتا ہے کہ ’’نہی عن المنکر‘‘ کا مورچہ بالکل خالی نہیں ہے۔ جمعرات کو مفتی محمد سعید خان نے فون پر بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کل جمعہ کے روز چار بجے کے لگ بھگ کچھ علماء کرام سے ملنا چاہ رہے ہیں جن میں آپ کا نام بھی ہے، کیا آ سکیں گے؟ میں نے دوسرے علماء کرام کا پوچھا تو انہوں نے مولانا اللہ وسایا کا نام بھی لیا۔ میں نے عرض کیا کہ آج شام لاہور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی کانفرنس ہے، میں اس میں جا رہا ہوں جہاں مولانا اللہ وسایا سے ملاقات ہوگی تو ان کے مشورہ کے بعد اپنے آنے یا نہ آنے کے بارے میں کوئی حتمی بات بتا سکوں گا۔

مغرب کے وقت لاہور پہنچا تو اسلام آباد سے ایک صاحب کا فون آیا کہ وزیر اطلاعات فواد چودھری صاحب کے دفتر سے بول رہا ہوں، کل آپ کی ساڑھے تین بجے پی ٹی آئی ہیڈ کوارٹر میں میٹنگ ہے، آپ کس وقت پہنچ رہے ہیں؟ مجھے یہ انداز سمجھ نہیں آیا اس لیے میں نے گول مول سی بات کر دی کہ میں جمعہ گوجرانوالہ میں پڑھاتا ہوں اس لیے ساڑھے تین بجے اسلام آباد کی کسی میٹنگ میں شرکت میرے لیے قابل عمل نہیں ہوگی، انہوں نے بھی اسی طرح کی گول مول بات کی کہ آپ کوشش ضرور کریں۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کی کانفرنس میں جاتے ہوئے مجلس احرار اسلام کے دفتر کے سامنے سے گزر ہوا تو میں تھوڑی دیر کے لیے رک گیا کہ کوئی بزرگ موجود ہوں تو ان سے بھی مشورہ ہو جائے، اتفاق سے اس روز احرار کی مرکزی شورٰی کا اجلاس تھا اور سب حضرات موجود تھے۔ حضرت پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری سے مصافحہ، بیمار پرسی اور دعا کی درخواست کے بعد مولانا سید کفیل شاہ بخاری، حاجی عبد اللطیف چیمہ اور ڈاکٹر عمر فاروق سے مشاورت ہوئی اور پھر میں سید کفیل شاہ بخاری کے ہمراہ دفتر ختم نبوت حاضر ہوا اور مولانا اللہ وسایا کے ساتھ صورتحال پر مشورہ کے بعد یہ طے ہوا کہ اس ملاقات سے سردست معذرت کر دی جائے جس کی اطلاع میں نے مولانا مفتی محمد سعید خان کو کر دی۔ انہوں نے فون پر اس کی وجہ پوچھی تو میں نے عرض کیا کہ ایک تو اس ملاقات کا کوئی ایجنڈا معلوم نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ عام طور پر میاں عاطف کا مسئلہ چل رہا ہے اور اب دینی مدارس کی بات چھیڑ دی گئی ہے اس لیے ہمارا خیال ہے کہ اگر قادیانی مسئلہ پر بات کرنی ہے تو جو فورم اس مسئلہ پر کام کر رہے ہیں ان سے بات کی جائے۔ ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ اس حوالہ سے سب سے بڑا فورم ہے اور ہمیشہ سے ہماری پالیسی یہ چلی آرہی ہے کہ عالمی مجلس پروگرام طے کرتی ہے اور ہم سب اس سے تعاون کرتے ہیں اس لیے اس طرح کی گفتگو کے لیے وہی سب سے زیادہ موزوں فورم ہے، وہ جس کو ساتھ رکھنا چاہے ٹھیک ہے۔ اور اس سے ہٹ کر ’’متحدہ ختم نبوت رابطہ کمیٹی‘‘ کا ایک فورم موجود ہے جس میں مختلف مکاتب فکر کے حضرات وقتاً فوقتاً جمع ہوتے رہتے ہیں اور پھر ’’تحریک لبیک یا رسول اللہؐ‘‘ آج کل اس سلسلہ میں زیادہ متحرک ہے۔ جبکہ دینی مدارس کے بارے میں مختلف مکاتب فکر کے وفاق اور ان کی مشترکہ تنظیم موجود ہے، اس حوالہ سے ان سے ہی بات ہونی چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ کسی مسئلہ پر عملاً کام کرنے والے فورمز کو نظر انداز کر کے کچھ شخصیات کو الگ سے گفتگو کے لیے بلا لینا میرے خیال میں مناسب طریقہ نہیں ہے اس سے مسائل حل ہونے کی بجائے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے اس لیے میں حاضری سے معذرت خواہ ہوں۔

یہ ہے وہ روداد جو اس سلسلہ میں پیش آئی اور اس کے بعد کسی ٹی وی چینل میں بریکنگ نیوز کے طور پر چلنے والی خبر کے باعث مجھ سے بہت سے حضرات نے پوچھا تو میں نے یہ بات ان کو بتا دی۔ اس حوالہ سے ماضی کے بعض تجربات میں سے ایک دو کا حوالہ دینا چاہوں گا جس سے میری گزارش کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔

۱۹۷۷ء کی ’’تحریک نظام مصطفٰیؐ‘‘ کے دوران، جو ۹ سیاسی جماعتوں کے مشترکہ محاذ ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ نے چلائی تھی اور ملک کی بڑی پرجوش تحریکات میں شمار ہوتی ہے، جمعیۃ علماء پاکستان کے چودھری محمد رفیق باجوہ پاکستان قومی اتحاد کے مرکزی سیکرٹری جنرل تھے اور جماعت اسلامی کے پیر محمد اشرف قومی اتحاد پنجاب کے سیکرٹری جنرل تھے، ان دونوں حضرات نے وزیراعظم بھٹو مرحوم سے تحریکی مطالبات کے سلسلہ میں الگ سے ملاقات کر لی جس پر انہیں سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، وہ اپنے عہدوں سے سبکدوش کر دیے گئے اور ان کی جگہ مرکزی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد مرحوم کو اور صوبائی سیکرٹری جنرل مجھے منتخب کیا گیا۔

اسی طرح ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران جب صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم گوجرانوالہ کے دورے پر آئے تو ڈویژنل کل مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے ان سے اپنے مطالبات کے سلسلہ میں ملاقات کے لیے وقت مانگا۔ کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ ڈویژن کے صدر جے یو پی کے حاجی لطیف احمد چشتی مرحوم اور سیکرٹری جنرل بزرگ اہل حدیث راہنما مولانا حکیم عبد الرحمان آزادؒ تھے، جبکہ سیکرٹری اطلاعات راقم الحروف تھا۔ مجلس عمل کے وفد کو تو ملاقات کے لیے وقت نہیں دیا گیا مگر صدر محمد ضیاء الحق مرحوم کے ساتھ شام کے کھانے میں مجھے ذاتی طور پر دعوت دے دی گئی اور متعلقہ حضرات کی طرف سے مجھے کہا گیا کہ آپ ہی مجلس عمل کی طرف سے صدر صاحب سے جو بات کرنا چاہیں کر لیں۔ اس پر میں نے مجلس عمل کا اجلاس بلایا اور مشورہ کے بعد کھانے کی دعوت یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ مجلس عمل کے وفد کو اگر وقت دیا جائے تو اس کے ساتھ آؤں گا اور اگر وفد کے لیے وقت نہیں ہے تو میں اکیلا آنے کے لیے تیار نہیں ہوں، چنانچہ میں اس دعوت میں نہیں گیا جو میرے گھر سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔

جدوجہد اور تحریکوں کے کچھ اپنے تقاضے، اصول اور اخلاقیات ہوتے ہیں جن کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ مجھے وزیراعظم عمران خان صاحب سے ملاقات سے کوئی انکار نہیں ہے، وہ ہمارے محترم ہیں اور ہم نے ان کے اعلانات اور ایجنڈے کے حوالے سے ان سے کچھ توقعات وابستہ کر رکھی ہیں لیکن ہر کام کا کوئی طریق کار ہوتا ہے اور جو کام بھی ہو ’’پراپر چینل‘‘ ہی اچھا لگتا ہے، امید ہے کہ احباب میرے موقف کو مناسب طور پر سمجھ گئے ہوں گے۔

   
2016ء سے
Flag Counter