جامعہ حفصہ کی صورتحال اور وفاق المدارس کا اعلامیہ

   
۲۲ اپریل ۲۰۰۷ء

گزشتہ روز وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں پہلی بار باضابطہ طور پر شرکت کا موقع ملا۔ اس سے قبل مختلف حوالوں سے وفاق کے اجلاسوں میں شریک ہوتا رہا ہوں لیکن اس میں باضابطگی نہیں تھی، جبکہ چند روز قبل وفاق کے صدر حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کی طرف سے مجلس عاملہ کا رکن نامزد کیے جانے کے بارے میں ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے بذریعہ خط اطلاع دی اور ساتھ ہی ۱۸ و ۱۹ کو ملتان میں وفاق کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا تو مجھے اس میں شرکت کی سعادت حاصل ہو گئی۔

اجلاس کی کارروائی کی باضابطہ رپورٹ تو ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی طرف سے جاری ہو چکی ہوگی، البتہ مجھے اپنے تاثرات کے حوالے سے چند گزارشات قارئین کی خدمت میں پیش کرنا ہیں۔ مولانا سلیم اللہ خان، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، مولانا حسن جان اور مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی جیسے بزرگ علمائے کرام کی دو روزہ اجلاس میں مسلسل موجودگی اور زیر بحث معاملات میں گہری دلچسپی اطمینان کا باعث تھی کہ مجلس عاملہ جو فیصلے کرتی ہے، ان کے پیچھے علمی مشاورت اور اعتماد کی فضا موجود ہے۔

یہاں تک لکھ چکا تھا کہ مجلس عاملہ کے اس اجلاس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کا متن موصول ہوگیا جو میرے نزدیک مکمل طور پر قارئین کے سامنے آنا ضروری ہے، اس لیے اسے پیش کر رہا ہوں۔ باقی تاثرات بعد میں پیش کروں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

’’اعلامیہ جاری کردہ مجلس عاملہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان

منعقدہ ۲۹ ربیع الاول و یکم ربیع الثانی ۱۴۲۸ ھ مطابق ۱۸ و ۱۹ اپریل ۲۰۰۷ء

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کا دو روزہ اجلاس منعقدہ ملتان بتاریخ ۱۸ و ۱۹ اپریل ۲۰۰۷ء زیر صدارت شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم ملک کی عمومی دینی و معاشرتی صورتحال پر گہری تشویش و اضطراب کا اظہار کرتے ہوئے چند اہم امور کی طرف قومی اور دینی حلقوں کو توجہ دلانا اپنی ذمہ داری تصور کرتا ہے:

  • اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام مسلم امہ کے جداگانہ تشخص کی بنیاد پر اس مقصد کے لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ قرآن و سنت کے اصول و ضوابط اور احکام و قوانین کے ساتھ ایک مثالی ریاست اور معاشرہ کی تشکیل کی طرف پیشرفت کی جائے۔ اور گزشتہ ساٹھ برس کے دوران اس سلسلے میں قرارداد مقاصد اور ۱۹۷۳ء کے دستور کی اسلامی دفعات کے ذریعہ دستوری ضمانت اور یقین دہانی کا بھی متعدد بار اہتمام کیا گیا، لیکن عملی طور پر پاکستانی قوم نہ صرف یہ کہ اب تک زیرو پوائنٹ پر کھڑی ہے بلکہ حکمران طبقات اور ریاستی ادارے ملک میں اسلامی اقدار و روایات کو کمزور کرنے اور دینی اثرات و نشانات کو مٹانے کی مذموم مہم میں مسلسل مصروف نظر آ رہے ہیں۔
  • روشن خیالی کے عنوان سے اسلامی احکام اور دینی اقدار کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، میڈیا کے تمام ذرائع کو فحاشی، بے حیائی اور عریانی کے فروغ کے لیے بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، غیر ملکی سرمایہ کے بل بوتے پر کام کرنے والی ہزاروں سیکولر این جی اوز کو معاشرہ میں فکری انتشار اور اخلاقی بے راہ روی پھیلانے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے، عوام میں دینی حلقوں اور اسلام کی اصل نمائندہ قوتوں کا اعتماد مجروح کرنے کے لیے ان کی کردارکشی کی جا رہی ہے، فحاشی اور بے حیائی کے مراکز کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، حدود آرڈیننس میں من مانی ترامیم کر کے شرعی احکام میں تبدیلی کا دروازہ کھول دیا گیا ہے، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور شراب پر پابندی جیسے اہم شرعی قوانین میں تبدیلی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے اور اس قسم کے بہت سے دیگر اقدامات کے ذریعے پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کے ایجنڈے پر تیزی کے ساتھ کام آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
  • ملک کے تعلیمی نظام کا قبلہ تبدیل کیا جا رہا ہے، عالمی سیکولر قوتوں کے ایما پر ریاستی تعلیمی نظام و نصاب کو دینی مواد و اثرات سے محروم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں، تعلیمی اداروں کو اسلامی ماحول اور تربیت مہیا کرنے کی بجائے مغرب کی بے حیا ثقافت کے فروغ کے مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے، دینی مدارس کو کردار کشی، دباؤ اور مداخلت کی بے جا کوششوں کے ذریعے ان کے آزادانہ کردار سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کو اسلام اور مسلمانوں کے نمائندہ کے طور پر پیش کرنے کی بجائے اسلام دشمن عالمی قوتوں کے آلہ کار کی حیثیت سے متعارف کرایا جا رہا ہے۔
  • حکومت اور سرکاری اداروں کے اس نوعیت کے کردار اور اقدامات کے باعث ملک میں شدید ردعمل کی ایسی صورتیں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں جو اگرچہ تمام محب وطن حلقوں کے لیے تشویش و اضطراب کا باعث ہیں، لیکن یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ یہ اسلام اور اسلامی احکام و قوانین کے حوالے سے حکومتی طبقات اور ریاستی اداروں کے ساٹھ سالہ مسلسل منفی رویہ کا لازمی ردعمل ہے۔ عوام کے ایک حصے نے ملک کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور دستور کے مطابق ایک اسلامی معاشرہ کی تشکیل کے سلسلہ میں حکومت اور حکومتی اداروں سے مکمل طور پر مایوس ہو کر مبینہ طور پر تشدد کا راستہ اختیار کر لیا ہے اور وفاقی دارالحکومت اور قبائلی علاقوں سمیت متعدد مقامات پر قانون کو ہاتھ میں لینے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
  • وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ ملک میں اسلامی احکام و قوانین کی عمل داری، اسلامی اقدار و روایات کے فروغ اور منکرات و فواحش کے سدباب کے لیے پرامن اور دستوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور جدوجہد کے کسی ایسے طریقے کو درست تصور نہیں کرتی جس میں حکومت کے ساتھ براہ راست تصادم، عوام پر زبردستی، یا قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوئی شکل پائی جاتی ہو، لیکن اس کے ساتھ ہی اس حقیقت کا اظہار بھی ضروری سمجھتی ہے کہ ایسی تمام صورتیں دراصل ردعمل ہیں اس مسلسل حکومتی طرز عمل کا جس کے نتیجے میں بعض حلقے حکومت اور حکومتی اداروں سے مکمل طور پر مایوس ہو کر اسلامی معاشرت و اقدار کے تحفظ کے لیے قانون کو ہاتھ میں لینے پر خود کو مجبور سمجھ رہے ہیں، اس لیے یہ اجلاس قانون کو ہاتھ میں لینے اور اسلامی اقدار و روایات کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرنے کی تمام صورتوں سے لاتعلقی اور براءت کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے طرز عمل اور رویے پر نظر ثانی کرے اور ایک اسلامی حکومت کے لیے قرآن و سنت اور دستور پاکستان کی بیان کردہ ذمہ داریوں کو قبول کرتے ہوئے اپنی ان پالیسیوں کو فی الفور تبدیل کرے جو اس قسم کی صورتحال کا باعث بن رہی ہیں۔
  • جامعہ حفصہ اسلام آباد کے لائبریری پر قبضہ کے حوالے سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ اپنے اس موقف کا اعادہ ضروری سمجھتی ہے کہ جہاں تک جامعہ حفصہ اسلام آباد کی طالبات اور لال مسجد کی انتظامیہ کے ان مطالبات کا تعلق ہے کہ:
    1. ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔
    2. اسلام آباد میں گرائی جانے والی مساجد کو فوری طور دوبارہ تعمیر کیا جائے۔
    3. بدکاری اور فواحش کے اڈے ختم کیے جائیں، اور
    4. نام نہاد تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کی خلاف اسلام دفعات منسوخ کی جائیں۔

    تو یہ مطالبات نہ صرف درست اور ضروری ہیں بلکہ ملک کے عوام کے دل کی آواز ہیں اور دستور پاکستان کا ناگزیر تقاضا ہیں، اس لیے یہ اجلاس ان مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے اسلامی اور دستوری فرائض کی پاسداری کرتے ہوئے ان کی منظوری کا اعلان کرے اور ان پر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کرے، البتہ اس سلسلے میں جامعہ حفصہ ؓاسلام آباد کی طالبات اور لال مسجد کے منتظمین نے جو طریق کار اختیار کیا ہے، اسے یہ اجلاس درست نہیں سمجھتا اور اس کے لیے نہ صرف وفاق المدارس العربیہ کی اعلیٰ قیادت خود اسلام آباد جا کر متعلقہ حضرات سے متعدد بار بات چیت کر چکی ہے بلکہ ’’وفاق‘‘ کے فیصلہ اور موقف سے انحراف کے باعث جامعہ حفصہ کا ’’وفاق‘‘ کے ساتھ الحاق بھی ختم کیا جا چکا ہے۔

  • یہ اجلاس وفاق المدارس العربیہ کی اعلیٰ قیادت کے موقف اور فیصلہ سے جامعہ حفصہ اسلام آباد اور لال مسجد کے منتظمین کے اس انحراف کو افسوس ناک قرار دیتا ہے اور ان سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس پر نظر ثانی کرتے ہوئے ملک کی اعلیٰ ترین علمی و دینی قیادت کی سرپرستی میں واپس آ جائیں تاکہ اس مسئلہ کا کوئی باوقار اور نتیجہ خیز حل نکالا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی یہ اجلاس حکومت کو خبردار کرتا ہے کہ اس کی طرف سے جبر اور تشدد کی کوئی بھی کارروائی اس مسئلہ کو مزید بگاڑنے کا باعث بنے گی، اس لیے وہ بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کا احساس کرتے ہوئے مذاکرات اور گفت و شنید کے ذریعے یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے۔
  • یہ اجلاس اس صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ جامعہ حفصہ اسلام آباد کے لائبریری پر قبضہ اور اس جیسے بعض دیگر واقعات کی آڑ میں بعض سیکولر عناصر نے ملک میں شرعی قوانین کے خلاف مہم کو تیز کر دیا ہے اور منفی بیانات اور ریلیوں کے ذریعے حالات کو بگاڑا جا رہا ہے جس سے دینی حلقوں اور سیکولر حلقوں کے درمیان منافرت بڑھانے اور خانہ جنگی کے حالات پیدا کرنے کی سازش کی بو آرہی ہے، اس لیے یہ اجلاس ملک کے دینی اور قومی حلقوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس صورتحال کا نوٹس لیں اور قوم کو نظریاتی تقسیم اور خانہ جنگی کے خطرات سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
  • یہ اجلاس ان اطلاعات کو اشتعال انگیز تصور کرتا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے دینی مدارس میں سرکاری اہل کاروں کی آمد و رفت میں اضافہ ہو گیا ہے اور چھان بین کے نام پر انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو وفاق المدارس کے ساتھ حکومت کی اب تک کی بات چیت اور طے شدہ امور سے انحراف ہے، اسے فی الفور بند ہونا چاہیے۔
  • وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کی نظر میں یہ افواہیں انتہائی افسوس ناک اور اضطراب انگیز ہیں کہ حکومت دینی مدارس کو اسلام آباد کی حدود سے باہر منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو یہ دینی مدارس کے خلاف انتہائی معاندانہ کارروائی متصور ہو گی۔ اسلام آباد میں غیر ملکی سرمائے سے چلنے والی سینکڑوں این جی اوز اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں دینی مدارس کے خلاف اس قسم کی کارروائی وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو دینی تعلیم کے حق سے محروم کرنے کی کارروائی ہوگی جسے قبول نہیں کیا جائے گا اور حکومت کو اس سلسلے میں شدید عوامی رد عمل اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
  • یہ اجلاس جامعہ حفصہ اسلام آباد پر گزشتہ روز ہیلی کاپٹر کی نیچی پرواز اور مبینہ طور زہریلی گیس کے استعمال اور طالبات کی تصاویر اتارے جانے کی کارروائی کی شدید مذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس طرح کی اشتعال انگیز کارروائیوں کی بجائے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کو حل کیا جائے۔‘‘
   
2016ء سے
Flag Counter