دنیا کو حقوق کا شعور کس نے عطا کیا؟

   
مقام / زیر اہتمام: 
تاریخ بیان: 
۲۴ مارچ ۲۰۱۱ء

(مولانا زاہد الراشدی نے گزشتہ چار ماہ کے دوران جامعہ عثمانیہ آسٹریلیا مسجد بالمقابل ریلوے سٹیشن لاہور میں ’’انسانی حقوق کا مغربی فلسفہ اور اسلامی تعلیمات‘‘ کے عنوان پر آٹھ لیکچر دیے جو بالترتیب ۱۶ دسمبر ۲۰۱۰ء، ۶ جنوری ۲۰۱۱ء، ۲۰ جنوری،۳ فروی، ۱۷ فروری،۳ مارچ، ۱۷ مارچ، اور ۲۴ مارچ کو بعد نماز ظہر ہوئے۔ ان پروگراموں میں جامعہ عثمانیہ کے اساتذہ اور طلبہ کے علاوہ لاہور کے سرکردہ علماء کرام، دینی کارکن اور دیگر طبقات کے حضرات شریک ہوتے رہے اور کورس کے اختتام پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمن اختر نے کورس کے شرکاء کو شریعت کونسل کی طرف سے انعامات اور کتابیں تقسیم کیں۔ ۲۴ مارچ ۲۰۱۱ء کو کورس کی اختتامی نشست سے مولانا زاہد الراشدی کے خطاب کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ ادارہ نصرۃ العلوم)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں جامعہ عثمانیہ کے منتظمین مولانا حافظ محمد سلیم، مولانا شاہد اور ان کے رفقاء بالخصوص اپنے پرانے بزرگ دوست مولانا عبد الرؤف ملک (فاضل نصرۃ العلوم) کا شکر گزار ہوں جن کی وجہ سے آپ دوستوں کے ساتھ مختلف نشستوں میں انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے عنوان پر کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا۔

گزشتہ سات نشستوں میں ہم نے انسانی حقوق کے حوالہ سے جن پہلوؤں پر بات کی ہے، ان میں انسانی حقوق کا مغربی فلسفہ، انسانی حقوق کا اسلامی فلسفہ، انسانی حقوق کا بین الاقوامی چارٹر، اسلامی احکام و قوانین پر انسانی حقوق کے حوالہ سے اعتراضات، موجودہ عالمی تہذیبی کشمکش میں اسلامی شریعت اور مغرب کے فلسفہ، انسانی حقوق کے درمیان محاذ آرائی کے مختلف محاذ اور قادیانیت، تحفظ ناموس رسالتؐ، خاندانی نظام، آزادی رائے اور مذہبی آزادی کے بارے میں مغربی لابیوں کی فکری یلغار کے عنوانات بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ جبکہ آج کی نشست میں، جو اس موضوع پر اس سلسلہ کی آخری نشست ہے، اسلامی تعلیمات اور سنت نبویؐ میں انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالہ سے کچھ واقعات عرض کرنا چاہوں گا تاکہ مغرب کے اس پروپیگنڈا اور دعوے کی حقیقت واضح ہو سکے کہ دنیا کو اس نے حقوق کا شعور عطا کیا ہے اور انسانی حقوق کی پاسداری کا دور مغرب کے تہذیبی انقلاب سے شروع ہوا ہے۔ حالانکہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ انسانی سوسائٹی میں انسانی حقوق کے شعور اور ان حقوق کی عملداری کا علم چودہ صدیاں قبل اسلام نے پیش کیا تھا اور جناب نبی اکرمؐ کی تعلیمات اس سلسلہ میں بنیادی سر چشمے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس موضوع پر تفصیلی گفتگو اور طویل مباحثہ کی بجائے چند واقعاتی شہادتوں کی طرف اشارہ کروں گا کیونکہ اس سے زیادہ کے لیے وقت متحمل نہیں ہے جبکہ ہر پہلو تفصیل کے ساتھ گفتگو کا متقاضی ہے۔

مثلاً بچوں کے حقوق کے سلسلہ میں دیکھیے کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار مجلس میں تشریف فرما تھے، آپ کے دائیں جانب حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیٹھے تھے جو اس وقت تیرہ چودہ سال کے لڑکے تھے جبکہ بائیں جانب حضرت ابوبکر صدیقؓ اور دوسرے بزرگ صحابہ کرامؓ مجلس میں تھے، کسی صاحب نے اس دوران جناب نبی اکرمؐ کو مشروب پیش کیا جو آپؐ نے نوش فرمایا اور چند گھونٹ پیالے میں بچ گئے۔ نبی اکرمؐ کی خواہش یہ پیالہ بائیں طرف حضرت ابوبکرؓ کو دینے کی تھی مگر حق دائیں طرف عبد اللہ بن عباسؓ کا بنتا تھا۔ آپؐ نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے باقاعدہ دریافت کیا کہ اگر تمہاری اجازت ہو تو یہ پیالہ بائیں طرف دے دوں؟ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے یہ کہہ کر اجازت دینے سے انکار کر دیا کہ میں آپؐ کے تبرک کے بارے میں کسی کو اپنے اوپر ترجیح نہیں دیتا۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق اس پر جناب نبی اکرمؐ نے قدرے ناگواری کے ساتھ ’’فتلہ فی یدہ‘‘ زور سے پیالہ عبد اللہ بن عباسؓ کے ہاتھ میں تھما دیا، یعنی عبد اللہ بن عباسؓ کے انکار پر اگرچہ نبی اکرمؐ کو قدرے ناگواری ہوئی مگر اس کے باوجود پیالہ اسی کو دیا جس کا حق بنتا تھا۔

اسی طرح عورتوں کے حقوق کی بات کی جاتی ہے اور اکثر اوقات یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام عورت کو رائے کا حق نہیں دیتا اور اظہار رائے کی آزادی کا موقع نہیں دیتا۔ اس عنوان سے اسلام کے خلاف ایک عرصہ سے مسلسل پروپیگنڈا جاری ہے جبکہ حقائق یہ ہیں کہ مجھ سے بعض دوست پوچھتے ہیں کہ کیا اسلام عورت کو رائے کا حق دیتا ہے؟ تو میں عرض کرتا ہوں کہ اسلام عورت کو صرف رائے کا نہیں بلکہ مجادلہ کا حق دیتا ہے اور ’’المجادلۃ‘‘ کے نام سے قرآن کریم کی ایک پوری سورت اس کی گواہ ہے۔ عورت کا مزاج و نفسیات یہ ہے کہ وہ صرف رائے پیش نہیں کرتی بلکہ اس کے لیے مجادلہ بھی کرتی ہے، اس لیے اس کے حوالہ سے قرآن کریم نے ذکر کیا ہے کہ ایک عورت نے مجادلہ کیا اور وہ بھی جناب نبی اکرمؐ سے کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی بات سنی اور اسی کے حق میں قرآن کریم میں فیصلہ صادر کر دیا۔

بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں ہم جاہلیت کے دور میں عورتوں کو کوئی مقام و حیثیت نہیں دیتے تھے بلکہ انہیں کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے اور اس بات کا ہمارے ہاں تصور بھی نہیں تھا کہ عورت اپنے خاوند یا باپ کو کسی بات پر ٹوک سکتی ہے۔ جب اسلام آیا تو ہمیں پتہ چلا کہ معاشرہ میں عورتوں کی بھی ایک حیثیت ہے اور انہیں رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ حضرت عمرؓ اسی روایت میں فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک روز میں نے گھر میں کوئی بات کی تو بیوی نے مجھے ٹوک دیا جس پر مجھے بہت غصہ آیا اور میں نے اسے ڈانٹ دیا کہ تمہارا کیا کام ہے کہ تم میرے معاملات میں روک ٹوک کرو اور کوئی رائے دو۔ اس نے کہا کہ مجھے ڈانٹنے کی بجائے اپنی بیٹی حفصہؓ کی خبر لو کہ جناب نبی اکرمؐ کی ازواج مطہرات بھی گھر میں روک ٹوک کرتی ہیں اور بعض معاملات پر ناراضگی کا اظہار بھی کرتی ہیں۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں یہ سن کر فوراً اٹھا اور سیدھا ام المؤمنین حضرت حفصہؓ کے گھر گیا جو حضرت عمرؓ کی بیٹی اور جناب نبی اکرمؐ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہاں ہمارے گھر میں میاں بیوی کے درمیان روک ٹوک ہوتی ہے اور ہم آپس میں کبھی ناراضگی کا اظہار بھی کر لیا کرتے ہیں جیسا عام طور پر میاں بیوی میں ہو جایا کرتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے حضرت حفصہؓ کو ڈانٹا کہ جناب نبی اکرمؐ کے ساتھ روک ٹوک اور ناراضگی کا معاملہ مت کیا کرو، جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بتا دیا کرو مگر حضورؐ کو ناراض مت کرو۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں حفصہؓ کو ڈانٹ ڈپٹ کر کے ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ کے گھر گیا اور ان سے بات کی، وہ حضرت عمرؓ کی کزن تھیں انہوں نے الٹا حضرت عمرؓ کو ڈانٹ دیا اور کہا کہ آپ ہر معاملہ میں دخل دیتے ہیں اور اب میاں بیوی کے معاملہ میں بھی دخل دینے آگئے ہیں۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ’’فکسرتنی‘‘ اس نے تو میرا حوصلہ ہی توڑ دیا۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروقؓ جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا قصہ سنا دیا وہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے حضرت ام سلمہؓ کا ذکر کیا تو ’’فتبسم و قال ھی ام سلمۃ‘‘ جناب نبی اکرمؐ مسکرائے اور فرمایا کہ ’’وہ ام سلمہؓ ہے‘‘۔ اس واقعہ کے ساتھ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ اب مجھے پتہ چلا کہ عورت کی بھی رائے ہوتی ہے اور اس کا مقام و مرتبہ اور اس کی کوئی معاشرتی حیثیت ہے۔

حضرت بریرہؓ کا واقعہ بھی مشہور ہے جو امام بخاریؒ نے مختلف حوالوں سے بیان کیا ہے اور حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ ’’حدیث بریرہؓ‘‘ سے فقہاء نے ایک سو سے زیادہ مسائل مستنبط کیے ہیں۔ وہ لونڈی تھیں مگر جب حضرت عائشہؓ کی مہربانی سے آزاد ہوئیں تو انہیں ’’خیار عتق‘‘ حاصل ہو گیا کہ وہ اپنے خاوند حضرت مغیثؓ کے نکاح میں رہنا چاہتی ہیں یا نہیں؟ اور اگر وہ ان کے نکاح میں نہیں رہنا چاہتیں تو انہیں الگ ہونے کا حق حاصل ہے، یہ حق استعمال کرتے ہوئے انہوں نے اپنے خاوند سے علیحدگی اختیار کر لی جس پر حضرت مغیثؓ بہت پریشان ہوئے۔ انہوں نے بریرہؓ کی بہت منت سماجت کی کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے مگر وہ تیار نہ ہوئی، ایک دن جناب نبی اکرمؐ نے دیکھا کہ مغیثؓ مدینہ منورہ کی گلیوں میں گھوم رہے ہیں، ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’کوئی ہے جو بریرہؓ کو منا دے؟‘‘ یہ کیفیت دیکھ کر جناب نبی اکرمؐ نے خود بریرہؓ سے بات کرنے کا فیصلہ اور بریرہؓ کو بلا کر فرمایا کہ مغیثؓ بہت ہی پریشان ہے، کیا تم اپنا فیصلہ واپس نہیں لے سکتیں؟ بریرہؓ نے صرف اتنا پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ؟ سمجھدار لڑکی تھی، سمجھتی تھی کہ حکم کی صورت میں تو کسی مسلمان کی مجال نہیں ہے کہ وہ جناب نبی اکرمؐ کے حکم سے سرتابی کر سکے، اس لیے اس نے پوچھ لیا۔ لیکن حضورؐ نے فرمایا کہ یہ حکم نہیں ہے بلکہ صرف مشورہ ہے تو اس نے بے ساختہ جواب دیا کہ ’’لا حاجۃ لی بھا‘‘ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خیال فرمائیے کہ ایک آزاد شدہ لونڈی ہے مگر اپنا حق ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جبکہ جناب نبی اکرمؐ نے اس کے بعد نہ اسے دوسری بار فرمایا اور نہ ہی کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار کیا۔

چند واقعات میں نے اس لیے عرض کیے ہیں کہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ نسل انسانی کو حقوق کا شعور اسلام نے دیا اور آسمانی تعلیمات نے انسان کو بتایا کہ اس کے ذمہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کیا ہیں اور جن انسانوں کے ساتھ وہ زندگی گزار رہا ہے اس کے ذمہ ان کے حقوق کیا ہیں؟ محنت کشوں اور مزدوروں کے بارے میں دیکھ لیجیے، اس زمانہ میں غلام ہوتے تھے جو اب نہیں رہے لیکن ہاری، مزدور، کسان، پانڈی اور دوسرے نوکر ہمارے معاشرہ میں وہی درجہ رکھتے ہیں اور جناب نبی اکرمؐ نے ان کے ساتھ مہربانی اور حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔

حضرت ابو مسعود انصاریؓ کی ایک لونڈی ان کی بکریاں چرا رہی تھی، اس کی غفلت کی وجہ سے بھیڑیا اس کے ریوڑ سے ایک بکری لے گیا۔ حضرت ابو مسعودؓ نے اسے غصہ میں تھپڑ مار دیا، جناب نبی اکرمؐ دیکھ رہے تھے، آپؐ نے فرمایا کہ اے ابو مسعودؓ، اللہ تعالیٰ تم پر اس سے کہیں زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنا تم اس لونڈی پر طاقت رکھتے ہو۔ حضرت ابو مسعودؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! کیا میں اسے اس زیادتی کے کفارے میں آزاد نہ کر دوں؟ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ اگر تم اسے آزاد نہیں کرو گے تو ’’للفحتک النار‘‘ آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ چنانچہ ابو مسعودؓ نے اس لونڈی کو آزاد کر دیا۔

اس طرح حضرت ابوذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ نے ایک موقع پر فرمایا کہ یہ جو تمہارے غلام اور ماتحت لوگ ہیں یہ بھی تمہارے بھائی ہیں، یہ تقدیر سے تمہارے ماتحت ہو گئے ہیں، اس لیے کسی شخص کے ہاتھ کے نیچے یعنی اس کے ماتحت کوئی نوکر، خادم یا غلام ہو تو اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے، وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے اور اس کے ذمہ کوئی ایسا کام نہ لگائے جو اس کی ہمت سے زیادہ ہو اور اگر کوئی ایسا کام اس کے ذمہ لگا دیا ہے تو خود اس کے ساتھ معاونت کرے۔

بیسیوں ارشادات میں جناب نبی اکرمؐ نے ماتحتوں اور غلاموں کے بارے میں حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور ان کے حقوق بیان فرمائے ہیں جن میں سے صرف ایک دو کا ذکر کر سکا ہوں۔ میری گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں جناب نبی اکرمؐ کی تعلیمات اور اسلامی احکام و قوانین مغرب میں انسانی حقوق کی طرف پیشرفت سے کم از کم بارہ سو سال قبل انسانی سوسائٹی میں اپنی عملداری قائم کر چکے تھے، مگر مغرب اس کو نظر انداز کر کے خود اس بات کے لیے چیمپئن بننے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس نے نسل انسانی کو حقوق کا شعور بخشا ہے اور حقوق انسانی کے دور کا آغاز کیا ہے۔ اس سلسلہ میں علماء کرام، خطباء و ائمہ اور مدرسین و اساتذہ سے میں بطور خاص عرض کروں گا کہ وہ اپنے شاندار ماضی سے واقفیت حاصل کریں، خلافت راشدہ کے نظام اور روایات کا بطور خاص مطالعہ کریں، اور آج کے حالات و مسائل اور ضروریات و مشکلات کو سامنے رکھ کر قرآن و سنت سے ان کے لیے راہنمائی تلاش کریں اور قرآن و سنت کی روشنی میں نسل انسانی کی راہنمائی کریں۔ میں پورے اعتماد اور شرح صدر کے ساتھ کہتا ہوں کہ قرآن و سنت اور خلافت راشدہ کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں آج کے کسی انفرادی یا اجتماعی مسئلہ کا حل تلاش کر نے میں مایوسی نہیں ہوگی، تھوڑی دماغ سوزی اور جگر سوزی کرنا پڑے گی اور ہر مسئلہ کا حل مل جائے گا۔

ہم نے آج کے مسائل کا حل یہ سمجھا ہوا ہے کہ انہیں نظر انداز کر دیا جائے اور آنکھیں بند کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزر جایا جائے، یہ حل نہیں بلکہ فرار ہے، اسلام فرار کی اجازت نہیں دیتا بلکہ مسائل کا سامنا کرنے اور انہیں حل کرنے کی ہدایت دیتا ہے، جس کی ذمہ داری سب سے زیادہ علماء کرام بالخصوص دینی مدارس کے اساتذہ پر عائد ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح رخ پر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔