چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― بدھ مت

   
۲۰۱۸ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات علماء کرام! آج بدھ مذہب کے بارے میں تعارفی معلومات مہیا کی جائیں گی۔ بدھ ازم یا بدھ مت، یہ مہاتما بدھ کے نام سے متعارف ہے۔

یہ مذہب اس وقت کہاں کہاں ہے؟ اردو انسائیکلو پیڈیا کی روایت کے مطابق بدھ دنیا میں تقریباً پچیس، تیس کروڑ ہیں۔ یہ سب سے زیادہ چین میں ہیں، جاپان میں بھی اکثریت ہے، نیپال، سری لنکا، تھائی لینڈ، انڈیا میں بھی ہیں، اور برما میں تو باقاعدہ بدھوں کی حکومت ہے۔ برما کا پرانا نام میانمار انہوں نے زندہ کیا اور رنگون کا نام ینگون کر دیا ہے۔ رنگون ہمارے لیے بہت سے حوالوں سے تاریخی مقام ہے کہ بہادر شاہ ظفر کو جب دہلی کی سلطنت سے معزول کر کے گرفتار کر لیا گیا، اس پر مقدمہ چلا تو جلاوطن کر کے اسے رنگون میں قید کر دیا گیا، اس کی قبر رنگون برما میں ہے۔

چین والے بدھ ہی تھے لیکن ماؤزے تنگ نے جب چین میں مذہب کے خلاف تحریک چلائی تو مذہب کی علامات مٹا ڈالیں۔ مذہب کے متعلق جو باتیں ہیں وہ وہاں ضبط نفس کے عنوان سے ہیں، مذہب کے عنوان سے نہیں ہیں، البتہ نسلاً وہ بدھ ہیں۔

مہاتما بدھ کا اصل نام ”سدارتھا بوتم“ ہے۔ ”مہاتما“ خدا کی صفات کے مظہر کو کہتے ہیں۔ مہاتما بدھ پانچ سو سال قبل مسیح ہندوستان کے علاقے میں راجہ شدودھن کے ہاں پیدا ہوئے جو کہ ہندو کھشتری ذات سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی پیدائش نیپال کی سرحد کے قریب بھارت میں اور بعض مؤرخین کے مطابق بنارس کے شمال میں ایک سو کلو میٹر کے فاصلے پر ایک بستی میں ہوئی۔ وہاں راجہ نے مہاتما بدھ کو اپنے ساتھ ریاست کے معاملات میں شریک کیا لیکن طبعًا یہ اپنے ماحول سے باغی تھے۔ جیسے بابا نانک بھی ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے لیکن اپنی کچھ روایات اور ماحول سے باغی تھے، مثلاً بت پرستی اور ذات پات سے۔ ہندو مذہب رسموں کا ہی دین بن کر رہ گیا تھا۔

ہمارے ہاں بھی اور عیسائیت و یہودیت میں بھی یہ بحث چلتی آ رہی ہے کہ ایک ہے عبادت اور ایک ہے عبادت کی مقصدیت۔ یہودی رسوم پر زیادہ زور دیتے تھے، عیسائی زیادہ اس کی روح پر زور دیتے تھے۔ ہمارے ہاں بھی معتزلہ اور صوفیاء کے ہاں یہ فلسفیانہ سی بحث چلتی آ رہی ہے۔ فطری بات ہے جب معاشرے کو ظاہری رسوم میں ہی جکڑ لیا جائے اور مقصدیت پیچھے ہو جائے تو کچھ افراد کو اس سے نفرت ہو گی۔

اس طرح کا ماحول پیدا ہو گیا تو مہاتما بدھ کی توجہ ذکر اذکار اور دنیا سے کنارہ کشی اور رہبانیت کی طرف ہو گئی۔ ہندو جوگیوں میں یہ رہبانیت پائی جاتی ہے جو جنگلوں میں جا کر علیحدہ رہتے اور وہاں ریاضتیں کرتے ہیں۔ اس طرح آہستہ آہستہ انہوں نے دنیا چھوڑ دی۔ ان کے ہاں یہ مہاتیاگ بڑی رہبانیت کہلاتی ہے۔ ان کی ایک اصطلاح نروان کی بھی ہے، یعنی اتنی ریاضت کہ دنیا کی رغبت دل میں نہ رہے اور نروان (نجات) حاصل ہو جائے۔

مہاتما بدھ کچھ عرصہ باپ کے ساتھ رہے پھر کوئی جوگی مل گیا تو اس کے ساتھ جنگل کو چل دیے اور نروان کے حصول کے لیے ریاضتیں کرتے رہے۔ ذاتی طور پر رحمدل، رقیق القلب آدمی تھے کہ کسی جانور کا قتل بھی انہیں اچھا نہیں لگتا تھا۔ اخلاقیات بھی بہت اچھی تھیں۔ ان کے بنیادی عقائد جن پر اس مذہب کی بنیاد ہے اس میں یہ کہ انسان کی فطرت میں دکھ شامل ہے۔ ہمارے ہاں بھی صوفیاء کے ہاں یہ تصور موجود ہے:

دریں دنیا کسے بے غم نباشد
اگر باشد بنی آدم نباشد

ان کا فلسفہ یہ ہے کہ غم نفسانی خواہشات کی وجہ سے، دنیا طلبی کی وجہ سے، سہولتوں کے حصول کے لیے، اور دوسروں سے برتری کے جذبہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان چیزوں کو چھوڑ دو تو غم سے نجات مل جائے گی۔ ان چیزوں کو چھوڑنے کے لیے بڑی محنت کی ضرورت ہے، لہٰذا ریاضت اور قربانیوں کی ضرورت ہے۔ یہ ان کا صوفیانہ سا فلسفہ ہے، اس ذہنیت کے لوگ مہاتما بدھ کے ساتھ ملتے گئے اور ایک نیا مذہب وجود میں آگیا جسے بدھ ازم کہتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ گوتم بدھ کے نام پر یہ دنیا سے کنارہ کش لوگوں کا گروہ تھا، ان کا زیادہ علاقہ انڈیا، جاپان، چین کا علاقہ، برما، سری لنکا رہا ہے۔

۲۷۸ تا ۳۲۸ قبل مسیح ایک ہندو راجہ اشوک، جو اشوک اعظم کہلاتا ہے، اپنے ماحول سے تنگ آ کر بدھ ہو گیا، جو اس پورے خطے کا فاتح تھا اور اپنے علاقے کا عادل حکمران سمجھا جاتا تھا۔ اشوک اعظم راجہ بندر ساکھ کا بیٹا تھا، اس کے باپ نے اس کو ٹیکسلا کا گورنر بنایا تھا۔ ٹیکسلا ایک زمانے میں بدھوں کا بہت بڑا تہذیبی اور علمی مرکز تھا۔ ٹیکسلا میں آثار قدیمہ کا مرکز، عجائب گھر اور بدھوں کی پرانی بین الاقوامی یونیورسٹی کے آثار میں نے دیکھے ہیں۔ سکندر اعظم نے لڑائی لڑ کر ٹیکسلا بدھوں سے لیا تھا۔ اشوک ٹیکسلا کا گورنر بنا اور باپ کی جگہ حکمران بنا۔ ان کی ایک بہت بڑی جنگ ہوئی تھی، کہا جاتا ہے کہ اس میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی قتل ہوئے تھے۔ اس سے اس کا دل اچاٹ ہو گیا کیونکہ ان لوگوں کا رجحان لڑائی جھگڑے سے بچنے، ریاضت کرنے کا تھا۔ چنانچہ اشوک نے پھر اردگرد پھیلاؤ شروع کیا۔ بدھوں کا پھیلاؤ اس زمانے میں پورے برصغیر کو محیط تھا۔ حتٰی کہ افغانستان والے بدھ مذہب سے مسلمان ہوئے۔ راجہ اشوک اپنے زمانے کے بڑے حکمرانوں میں شمار ہوتا تھا، بڑا رعیت پرور آدمی تھا، اپنے فیصلوں کے لحاظ سے منصف مزاج اور لوگوں میں امن امان قائم رکھنا چاہتا تھا۔ اس نے قوانین وضع کیے اور دنیا کے عالمی عادل حکمرانوں میں شمار ہوتا ہے۔ مانسہرہ کی عالمی شاہراہ پر اشوک کے آثار اب بھی موجود ہیں۔

بعض محققین کا کہنا ہے کہ ذکر اذکار اور اخلاقیات کے لحاظ سے بدھ مت کوئی آسمانی مذہب لگتا ہے۔ ذرائع ابلاغ آج کل تو اور طرح کے ہیں، اس زمانے میں بلند مقامات اور چٹانوں وغیرہ پر اپنے قوانین کندہ کروا دیے جاتے تھے۔ مانسہرہ میں آثار میں نے دیکھے ہیں، افغانستان میں بامیان کا بت بدھا کے بڑے بتوں میں سے تھا جو طالبان نے توڑا تھا۔ ایک بہت بڑی پہاڑی کو تراش کر مہاتما بدھ کا بت بنایا گیا تھا۔ جب طالبان نے اپنے دور حکومت میں اسے توڑا تو عالمی سطح پر اقوام متحدہ میں، دنیا میں اور جاپان میں کہرام مچ گیا تھا کیونکہ جاپان تو بدھوں کا ملک ہے اور انہوں نے اسے اپنی توہین سمجھا تھا۔ اور کہا جاتا ہے کہ جب طالبان نے بامیان کا بت توڑنے کا فیصلہ کیا تو جاپان نے پیشکش کی تھی کہ اس کے عوض جو تم چاہو ہم دینے کو تیار ہیں یہ بت ہمارے حوالے کر دو۔ بہرحال یہ سارا علاقہ بنگال کے ساتھ بہار تک ان کی حکومت میں شامل تھا۔ یہ ان کے عروج کا زمانہ تھا۔

ان کے بنیادی عقائد میں ایک تو دنیا سے بے رغبتی کی تلقین شامل ہے، اب بھی ان کے مذہبی رہنما گیروی (زرد) رنگ کی دو چادریں باندھ رکھتے ہیں، اور اَن سلا کپڑا ہی پہنتے ہیں۔ ایک دفعہ لندن سے واپسی پر عمرہ کا ارادہ تھا، میں نے لندن ایئرپورٹ پر احرام باندھا ہوا تھا، کچھ بدھ مذہبی پیشوا اپنے اسی لباس میں تھے، میرے احرام اور ان کے لباس میں رنگ کا فرق تھا، وہ مجھے دیکھ کر بڑے خوش ہو رہے تھے اور شاید سمجھ رہے تھے کہ یہ بھی کوئی بدھ ہے۔ وہ میرے پاس آ کر بیٹھے اور خوشی کا اظہار کرنے لگے اور مجھ سے باتیں کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ ہم ایک دوسرے کی زبان تو سمجھتے نہیں تھے، وہ مختلف زبانوں انگریزی وغیرہ میں مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ مجھے بدھ ہی سمجھ رہے ہیں۔ بدھ مذہب کے مذہبی پیشواؤں کا علامتی لباس احرام کی طرز کا لباس ہے۔

بدھوں کے بنیادی عقیدے کی باتوں میں دکھ سے نجات حاصل کرنا اور نروان حاصل کرنا ہے۔ یہ ہندوؤں کے عقیدہ تناسخ کے قائل نہیں ہیں، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ دنیا ہی ہے بس، اس میں اگر نروان حاصل کر لو گے تو روح کو نجات مل جائے گی، روح ہمیشہ رہے گی، جسم فنا ہو جائے گا، اس کے لیے اپنے آپ کو دنیا کی آلائشوں سے پاک کرنا ہو گا۔ ان کے ہاں سب سے زیادہ توجہ اخلاقیات اور ایک دوسرے کے ادب و حترام پر دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ان کا جھگڑا ہے، ان کے ظلم سے دنیا بھر کو تعجب ہوا کہ بدھا کے پیروکار یہ ظلم کر رہے ہیں، یہ تو جانور کو قتل کرنے کے قائل نہیں ہیں، انسانوں کو کیسے ذبح کر رہے ہیں؟ بہرحال۔

ایک دفعہ بیجنگ یونیورسٹی کے دو پروفیسر دینی تعلیمی اداروں کا سروے کرتے ہوئے میرے پاس بھی آئے۔ بین الاقوامی طور پر سروے کرنے والوں کو تحقیقی ماحول چاہیے ہوتا ہے، ان کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کے ساتھ کھلے ماحول میں ان کو معلومات فراہم کی جائیں۔ ہمارے لیے اس میں دو تین خطرے ہوتے ہیں:

  1. ایک تو یہ کہ یہ ریسرچر ہے اس کو صحیح معلومات نہ ملیں تو غلط ریسرچ کرے گا اور غلط معلومات پہنچائے گا۔ اور چونکہ کسی بین الاقوامی یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی کے درجہ کے مقالہ جات بطور حوالہ کے سند سمجھے جاتے ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ اوریجنل معلومات فراہم کی جائیں۔
  2. اور دوسری طرف یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اگر یہ کسی ایجنسی کا آدمی ہوا تو پھر کیا ہو گا؟ پھر تو ہماری معلومات ہم پر الٹ پڑ جائیں گی۔ کیونکہ بعض ایجنسیوں کے آدمی بھی ہوتے ہیں۔
  3. اور تیسرا یہ کہ وہ ریسرچ بھی کر رہا ہو اور جاسوسی بھی کر رہا ہو۔ کیونکہ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں، تینوں طرح کے لوگ دنیا میں گھومتے پھرتے ہیں۔

ہمارے علماء کرام اس تضاد کا ہدف اور شکار ہیں، میں اس کا متعدد بار تجربہ کر چکا ہوں۔ میں واشنگٹن ڈی سی جاتا رہتا تھا، وہاں کچھ عرصہ رہتا، مختلف موضوعات پر مجالس ہوتی تھیں، گفتگو ہوتی تھی۔ ایک دفعہ کچھ لوگ مجھ سے ملنے آئے، ان کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ اپنے طور پر نہیں آئے بلکہ بھیجے گئے ہیں۔ میں عموماً یہ بات کہہ دیتا ہوں اور ان سے بھی کہا کہ سیدھی بات کرو کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟ اور میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اگر واقعی ریسرچ کی دنیا کے لوگ ہیں تو ان کو اصل معلومات فراہم کی جائیں تاکہ ان کی رپورٹ صحیح معلومات پر ہو۔ وہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے لوگ تھے اور اردو بولتے تھے۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا ہم اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے لوگ ہیں، سرکاری اداروں کے لوگ ہیں، برصغیر کے دینی مدارس کے بارے میں ریسرچ کر رہے ہیں، یہ ہمارے تھنک ٹینک کا موضوع ہے۔ ہم الجھن میں ہیں کہ ہم جہاں بھی جاتے ہیں جس سے بھی بات کرتے ہیں وہ ہم سے گول مول بات کرتا ہے، صحیح صورتحال ہمیں نہیں بتائی جاتی۔ اس مشکل کا حل کیا ہے؟ میں نے کہا بات کرو کیا چاہتے ہو۔

انہوں نے کہا آج کل مدارس کے نصاب و نظام کے حوالے سے جو صورتحال ہے، ہم اس سے واقفیت چاہتے ہیں۔ میں نے کہا میں آپ کی مدد کرنے کو تیار ہوں، صحیح بات آپ کو بتاؤں گا، بحث بھی کروں گا، سوالات کا جواب بھی دوں گا، خوبیاں بھی بتاؤں گا، خامیاں بھی کہ میں تو اسی شعبے کا آدمی ہوں۔ انہوں نے کہا ہم آپ کی بات پالیسی ساز لوگوں سے کروانا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا میں تیار ہوں لیکن زبان کا مسئلہ ہے، اگر میری مرضی کا ترجمان مل جائے، وہاں اس سطح پر بات کرنے کے لیے میں ترجمان اپنی مرضی کا مانگتا ہوں تاکہ وہ وہی بات کرے جو میں کہہ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ لیکن اس کے بعد ٹائم سیٹ نہ ہو سکا، میں نے واپس آنا تھا اور پھر کئی سال سے میں وہاں جا نہیں سکا۔

درمیان میں علماء کرام سے یہ بات کہہ دوں کہ چائنہ آنے والے وقت کے لیے اپنا ہوم ورک بڑی گہرائی میں اور بڑی تیزی سے مکمل کر رہا ہے۔ ”سی پیک“ کی تکمیل کے بعد اس خطے کے سیاسی، تہذیبی اور مذہبی ماحول کا آنے والا دور تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر جو مجھے نظر آ رہا ہے اس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی جھلک دکھائی دے رہی ہے۔ وہ بھی تجارت کے نام سے ہی آئی تھی۔ میں سردست اتنی ہی بات کہوں گا۔ میں مجالس میں اس کا اظہار کر رہا ہوں کہ شاید کچھ ہونے والا ہے اور لوگوں کو یہ محسوس بھی ہو رہا ہے۔

مجھے اسلام آباد کے کچھ دوستوں نے کہا کہ چین سے دو پروفیسر پاکستان کے دینی مدارس کا جائزہ لینے کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ وہ دینی حلقے کے کسی ایسے عالم سے ملنا چاہتے ہیں جو صحیح صورتحال سے واقفیت رکھتا ہو اور بریف کر سکے۔ اس حوالے سے بھی کہ آپ اندر کے آدمی ہیں آپ کو سب کچھ پتہ ہے، اور اس حوالے سے بھی کہ ان کو مہمان کے طور پر جس طرح ٹریٹ کرنا چاہیے ہمیں اعتماد ہے کہ آپ ان کے وقار اور حیثیت کے مطابق ان کے لیول کا لحاظ رکھیں گے۔ کیونکہ ہمارے ہاں عموماً یہ ہوتا ہے کہ جس سے ہم بات کر رہے ہیں وہ اگر ہمارے خیال میں ہمارے لیول کا نہیں ہے تو ہمارے لہجے میں اس کی تحقیر، استہزا، توہین اور اپنی برتری ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ ڈائیلاگ کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اگر بات کرنے والا علمی سطح کا آدمی ہے تو اس کے مطابق اس سے بات کرنی چاہیے۔ چنانچہ وہ میرے پاس آئے، دو تین گھنٹے بات ہوئی، میں نے ان کو معلومات دیں۔

میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان میں سے ایک بدھ تھا جبکہ دوسرے نے بتایا اس کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ میں نے بدھ سے سوال کیا کہ آپ نے کمیونزم کے آنے کے بعد بدھ مذہب چھوڑ نہیں دیا؟ وہ کہنے لگا، ہم نے معاشرت میں ایک نیا پہلو اختیار کیا ہے، مذہب تو نہیں چھوڑا۔ ہمارے عقائد، عبادات، رسومات وہی چل رہی ہیں، ہم بدھ ہی ہیں، جس طرح مسلمانوں میں مذہب کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، وہاں بدھ مذہب کے بھی بڑھ رہے ہیں۔ چائنہ میں آنے والے دور میں بدھ ازم کے آثار نمایاں ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

جس طرح وسطی ہند ہندو مذہب سے مسلمان ہوا ہے، اس طرح شمالی ہند کا علاقہ (خیبرپختونخوا، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، مانسہرہ، کشمیر، گلگت، افغانستان سمیت) بدھ مذہب سے مسلمان ہوا ہے۔ اس خطے کا اسلام سے پچھلا مذہب بدھ ازم تھا، یہاں راجہ اشوک کی حکمرانی رہی ہے۔ آج کے دور کا بدھ مذہب پہلے والا نہیں رہا، بالخصوص برما کا بدھ مذہب مسلمانوں کے مقابلے پر کھڑا ہے، میں اس کا تھوڑا سا تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ اراکان (روہنگیا) کا مسئلہ کیا ہے؟

بنگلہ دیش اور برما کے درمیان ایک ساحلی پٹی ہے اراکان کی، جو کہ چاٹگام کے ساتھ پہاڑی علاقہ ہے۔ چاٹگام بھی ایک زمانے میں اراکان کا حصہ تھا۔ ارکان میں ایک زمانے میں، انگریزوں کے آنے سے بہت پہلے مسلمانوں کی تقریباً تین صدیاں اپنی خودمختار حکومت رہی ہے۔ یہ ایک آزاد ریاست تھی، چاٹگام اس کا مرکز تھا۔ نہ یہ بنگال کا حصہ تھا نہ برما کا تھا۔ وہاں کی عمومی نسل روہنگیا ہے، نوے فیصد مسلمان ہیں۔ چاٹگام بنگلہ دیش کی بڑی بندرگاہ ہے اور متحدہ پاکستان کے دور میں کراچی کے بعد پاکستان کی دوسری بڑی بندرگاہ تھی۔ مغلوں کے دور میں برما کے بدھ حکمرانوں نے اراکان پر قبضہ کر لیا۔ پھر جب انگریز آئے تو انہوں نے بنگلہ دیش اور برما کے ساتھ اراکان پر بھی قبضہ کر لیا۔ اراکان کی اس وقت ایک کروڑ کے قریب آبادی ہوگی۔

برصغیر کو آزادی دینے سے پہلے انگریزوں نے جس طرح

  • سندھ تقسیم کر کے بمبئی الگ کر دیا تھا۔
  • مشرقی اور مغربی بنگال تقسیم کر کے الگ الگ کر دیے تھے۔
  • اسی طرح برما کو آزادی دی تو چاٹگام کو بنگلہ دیش کے ساتھ شامل کر دیا، باقی اراکان کو برما کے حوالے کر دیا۔

برما پاکستان سے پہلے آزاد ہوا اور اس پٹی میں مسلم اکثریت تھی۔ بدھوں نے آہستہ آہستہ اس پٹی میں مسلم اکثریت کو ختم کرنے کے لیے پانچ سات فوجی آپریشن کیے۔ آخری آپریشن ابھی پچھلے سال کیا جو بڑا خطرناک آپریشن تھا۔ ٹارگٹ یہ ہے کہ مسلم اکثریت ختم ہو۔ اس کا معاملہ بھی کشمیر جیسا ہے کہ وہاں مسلم اکثریت ہے لیکن بھارت اسے اپنا حصہ سمجھتا ہے۔

جب پاکستان آزاد ہونے لگا تو اراکان کے مسلمانوں کو برما کی اسمبلی میں نمائندگی حاصل تھی۔ یہ ایک مستقل صوبہ تھا، انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا اور ان کا ایک وفد قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم سے ملا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ہی ہیں۔ وہ اس وقت کے متحدہ پاکستان کے ساتھ ہی تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں اپنے ساتھ شامل کریں اور ہمارے لیے بھی آواز اٹھائیں کہ پاکستان کے ساتھ ملحقہ مسلم اکثریت کی پٹی اراکان کی ہے، ہم برما میں نہیں رہنا چاہتے، بنگال (مشرقی پاکستان) میں رہنا چاہتے ہیں۔ قائد اعظم نے شاید کسی مصلحت کی بنا پر ان کی بات نہیں مانی۔

اس وقت سے لے کر اب تک روہنگیا مسلمان، اراکانی مسلمان تشدد کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کے برمی فوج کے ذریعے چار یا پانچ آپریشن ہوچکے ہیں ہر دفعہ ہزاروں لاکھوں کو مار مار کر نکال دیا جاتا ہے۔ وہ ان کو نکالتے ہیں تو درمیان میں سمندر ہے دوسری طرف بنگال ہے۔ پچھلے دو آپریشنز میں بڑا ظلم یہ ہوا کہ بنگلہ دیش نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا، سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ سمندر میں ڈوب گئے، کچھ کو تھائی لینڈ نے قبول کیا۔ ابھی تک یہ مسئلہ چل رہا ہے، اس پر بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی زبانی جمع خرچ کے طور پر آواز اٹھائی ہے۔ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی رسمی طور پر کچھ حصہ لیا ہے لیکن جو کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کیا۔ اراکان کے نمائندے یہاں آئے، اب بھی کراچی میں بیٹھے ہوئے ہیں، میں نے انہیں مختلف شخصیات حضرت مولانا فضل الرحمٰن اور راجہ محمد ظفر الحق وغیرہ حضرات سے ملوایا اور کہا کہ ان کے مسئلے کو اٹھانے کی ضرورت ہے۔ آواز اٹھائی جاتی ہے، کچھ مدد ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ ہم بھی کچھ نہیں کر پاتے۔

یہ میں برما بدھ حکومت کے ساتھ مسلمانوں کے ٹکراؤ کی بات کر رہا ہوں۔ اس وقت ہمیں بدھوں کے ساتھ جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ اراکان کا مسئلہ ہے۔ مجھے دو باتیں نہیں بھولتیں:

  • دنیا میں گھومنے پھرنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے، ہم ناقدرے لوگ ہیں۔ جس زمانے میں بوسنیا (مشرقی یورپ) میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا تھا، بوسنیا کے مسلمان پکار رہے تھے کہ ہمارا ساتھ دو۔ اس وقت بوسنیا کے صدر الحاج عزت بیگوج دنیا میں گھوم پھر رہے تھے، انہیں لندن میں مسلمانوں کی طرف سے استقبالیہ دیا گیا کہ ان سے ان کے مسئلے کی صورتحال معلوم کی جائے اور ان کی سپورٹ کی جائے۔ اتفاق سے مولانا شاہ احمد نورانیؒ وہاں تھے، ہم دونوں شریک ہوئے۔ مولانا نورانیؒ نے استقبالیہ پیش کیا۔ عزت بیگوج نے اپنی باتوں میں یہ کہا کہ ہماری اصل بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے پڑوس میں کوئی پاکستان نہیں ہے۔ یہ اس نے آہ بھر کر کہا کہ اگر ہمارے پڑوس میں کوئی پاکستان ہوتا تو ہم اس حشر کا شکار نہ ہوتے۔
  • روہنگیا مسلمانوں کے خلاف پچھلے آپریشن میں ہم نے دو چار سیمینار کیے اور پارلیمنٹ میں بھی آواز اٹھائی گئی تو لاہور میں ہم نے ان کے ایک نمائندہ بزرگ کو استقبالیہ دیا، انہوں نے بھی بعینہٖ یہی بات کہی کہ ہمارا مسئلہ کشمیر سے مختلف نہیں ہے لیکن ہمارے پڑوس میں پاکستان نہیں ہے۔

یہ میں نے بدھ مذہب کا ہلکا سا تعارفی خاکہ آپ کے سامنے رکھا ہے۔ یہ سب سے قدیم مذہب ہے پانچ سو سال قبل مسیح شروع ہوا تھا، بنیادی طور پر اخلاقیات اور روحانیات کا مذہب ہے، قتل و قتال سے گریز سب سے زیادہ ان کی تعلیمات میں ملتا ہے۔ لیکن اس وقت جس بے رحمی کے ساتھ قتل و قتال بدھ حکمران روہنگیا مسلمانوں پر کر رہے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی، مجھ سے وہ مناظر دیکھنے کا حوصلہ نہیں پڑتا۔ بہرحال بدھ مذہب دنیا کے زندہ مذاہب میں سے ہے، ان مذاہب میں سے ہے جن کے ساتھ ہمیں معاملات درپیش ہیں۔ دنیا کی اچھی خاصی آبادی اور اچھا خاصا علاقہ اس مذہب سے متعلق ہے۔ برما میں اس وقت کی ان کی حکمران آنگ سان سوچی ہے، جو ایک زمانے میں دنیا میں انسانی حقوق کی بڑی علمبردار سمجھی جاتی تھی، اس کو انسانی حقوق پر عالمی میڈل بھی ملا، بہت سے مغربی ممالک نے اسے تمغے دیے تھے، لیکن یہاں آ کر اس کی حقیقت بھی سامنے آ گئی کہ وہ مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو ظلم کہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس پر بہت سے مغربی ممالک نے اس سے تمغے واپس لے لیے۔

آج میں نے بدھ مذہب کے تعارف، تاریخ، ہمارے ساتھ ماضی اور حال کے درپیش معاملات، اور مستقبل کے امکانات کے حوالے سے کچھ بات کی ہے۔ یہودی، عیسائی، سکھ، اور ہندو مذاہب پر بھی بات ہو چکی ہے۔ یہ وہ مستقل مذاہب ہیں جن کے ساتھ آج ہمیں معاملات پیش ہیں۔ اس کے بعد کچھ منحرف مذاہب پر بات ہو گی۔ (۱) ادیان معاصرہ پر بات ہو چکی ہے (۲) اب منحرف مذاہب کا تذکرہ ہو گا۔ (۳) اس کے بعد اہل قبلہ کے اندر باطل مذاہب کی تقسیم ہے، (۴) اور پھر اہل حق کے اندر کے دائرے ہیں۔ یہ چار دائرے میں بتایا کرتا ہوں۔

منحرف مذاہب سے میری مراد وہ گروہ ہیں جنہوں نے ختم نبوت سے انکار کر کے اپنے مذہب کی بنیاد نئی نبوت اور نئی وحی پر رکھی لیکن نام اسلام کا استعمال کرتے ہیں۔ آئندہ نشست سے ان کا تعارف ہو گا کہ اسلام کے ٹائٹل کے ساتھ نئی نبوت اور نئی وحی کے دعویدار گروہ دنیا میں کون کون سے ہیں؟ بہائی، نیشن آف اسلام، قادیانی، ذکری، اور امریکہ میں خلیفہ رشاد کا گروپ۔ یہ سب نئی نبوت کے قائل ہیں اور نام اسلام کا استعمال کرتے ہیں۔

2016ء سے
Flag Counter