ائمہ و خطباء کیلئے سرکاری خطبہ کی پابندی

دو تین دن سے ایک خبر گشت کر رہی ہے کہ حکومت پاکستان نے ملک بھر میں مساجد کے ائمہ اور خطباء کو اس بات کا پابند بنانے کا پروگرام بنایا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے بھیجا ہوا خطبہ پڑھیں گے اور اپنی طرف سے مسجد میں کوئی تقریر نہیں کر سکیں گے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے بھی دو تین دفعہ اس کی کوشش ہو چکی ہے، لیکن یہ ناقابل عمل بات ہے اور درست بھی نہیں ہے۔ درست اس لیے نہیں ہے کہ ایک تو ہماری روایات کے خلاف ہے، خلافت راشدہ سے لے کر خلافت عثمانیہ تک، مغل سلطنت تک، کبھی ایسا نہیں ہوا، امیر المومنین ہوتے تھے، خلافت تھی، اور ہندوستان میں اگرچہ بادشاہت تھی لیکن عدالتوں کے فیصلے قرآن و سنت کے مطابق ہوتے تھے، حتٰی کہ اکبر کے دور میں جب خود اکبر نے الحاد کا راستہ اختیار کیا تھا، تب بھی عدالتوں کے فیصلے قرآن و سنت کے مطابق ہی ہوتے تھے۔ اس دور میں بھی ہماری تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ائمہ کو اور خطباء کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہو کہ وہ حکومت کے بھیجے ہوئے خطبے پڑھیں، یہ ہماری روایت کے خلاف ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر حکومت خود اسلام پر عمل پیرا ہو تو اس کی بات دینی معاملات میں سنی جا سکتی ہے کسی حد تک۔ لیکن جو حکومت خود اسلام سے گریزاں ہو، ایک ہے کہ عمل پیرا نہیں ہے، نہیں، خود اسلام سے گریزاں ہے، ہمارا حکومتی نظام، ہماری اسٹیبلشمنٹ، ہماری رولنگ کلاس، گزشتہ ستر سال سے رسے تڑوا رہی ہے کہ کسی طرح اسلام کے نظام سے جان چھوٹ جائے، اور دستور میں جن باتوں کا پابند کیا گیا ہے ان کو، ان کے لیے بھی یہ تیار نہیں ہیں۔

  • دستور ان کو پابند بناتا ہے کہ ملک میں سودی نظام ختم کریں۔ یہ حیلے بہانے کر کے، مختلف جوڑ توڑ کر کے، اب تک اس دستوری فیصلے سے جس کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی تائید بھی حاصل ہے، یہ اس سے منحرف ہیں اور انکاری ہیں۔
  • دستور ان کو پابند بناتا ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام میں قرآن و سنت کی اور اسلامی شریعت کی تعلیم کا اہتمام کریں، یہ اس سے جان چھڑا رہے ہیں۔
  • ملک کا دستور ان کو پابند بناتا ہے کہ عربی زبان جو ہماری مذہبی زبان ہے، اس کی ترویج کا اہتمام کریں، یہ اس سے پیچھا چھڑا رہے ہیں۔
  • ملک کا دستور ان کو پابند بناتا ہے کہ ملک میں اسلامی معاشرہ اور اسلامی تہذیب کے فروغ کی کوشش کریں، یہ اس کے مقابلے میں مغربی تہذیب، مغربی ثقافت اور عریانی و فحاشی کی سرپرستی کر رہے ہیں۔
  • ملک کا دستور ان کو پابند بناتا ہے کہ حرام چیزوں پر پابندی لگائیں، یہ شراب پر پابندی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بلکہ شراب کے حوالے سے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں جس ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ ہم شراب پر پابندی لگانے کے حق میں نہیں ہیں۔

اس فضا میں یہ کس طرح کہتے ہیں کہ ہم اسلامی حکومت ہیں۔ میں ایک بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ دستور اسلامی ہے اور پاکستان دستوری طور پر ایک اسلامی ریاست ہے، لیکن موجودہ حکومت اسلامی حکومت نہیں ہے، اپنے اعمال کی وجہ سے اور دستوری تقاضوں کو پامال کرنے کی وجہ سے۔ اسلامی حکومت ہوتی تو بات اور تھی۔ یہ خود تو اسلام کی کوئی پابندی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں، دستور کا کوئی حکم ماننے کو تیار نہیں ہیں، اور ملک کے ائمہ اور خطباء کو پابند کرنا چاہتے ہیں کہ وہ دین کے معاملے میں، نماز کے معاملے میں، خطبہ جمعہ کے معاملے میں، خطبہ عید کے معاملے میں، ان کی پابندی قبول کریں، یہ کیسے ممکن ہے؟

میں حکمرانوں سے عرض کروں گا کہ اپنی ذمہ داری دیکھیں کہ تمہاری ذمہ داری کیا ہے؟ تمہاری ذمہ داری وہی ہے جو آپ لوگ کر رہے ہیں۔ دستور کی اسلامی دفعات پر عملدرآمد میں آپ نے اب تک کسی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے؟ آپ نے تو دستور کا یہ حکم بھی ابھی تک نہیں مانا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قومی اور صوبائی اسمبلی میں لا کر قانون سازی کی جائے، آپ اس کے لیے تیار نہیں ہیں، اور ہمیں کہہ رہے ہیں کہ جمعہ کا خطبہ آپ سے پوچھ کر دیں، یار خدا کا خوف کرو، کوئی انصاف کی بات کرو، یہ بات درست نہیں ہے۔ حکمرانوں کو اپنے طرز عمل پر نظرثانی کرنی چاہیے اور وہ لوگ جو ان کو باہر سے ایجنڈا بھیجتے ہیں، ان سے کہنا چاہیے کہ بھئی! ہمارے ملک کا دستور، ہماری قوم کا مذہب، ہماری قوم، رائے عامہ، اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ آپ کہہ دیں ان سے کہ بھئی ہمیں کیوں مجبور کرتے ہو ہماری قومی روایات کے خلاف، اسلامی احکام کے خلاف، اور ہمارے تاریخی تسلسل کے خلاف۔ یہ جو آپ کو مجبور کرنے والے ہیں ان کو جواب دیجئے، قوم پر دباؤ مت ڈالیے۔ امید ہے کہ حضرات میری گزارش پر ہمدردانہ غور فرمائیں گے۔

اور بعض احباب نے اس پر کچھ سوالات اٹھائے ہیں اور تقاضا کیا ہے کہ میں ان سوالات کے جوابات بھی اس کے ساتھ شامل کروں۔

(۱) مثلاً ایک سوال یہ ہوا ہے کہ میں نے پاکستان کی حکومت کو غیر اسلامی کہا ہے، یہ کیوں کہا ہے؟ میں اپنے موقف کی ایک بار پھر وضاحت کر دیتا ہوں، میں نے گزارش کی ہے کہ پاکستان اپنے دستور کے اعتبار سے ایک اسلامی ریاست ہے، لیکن دستور کی اسلامی دفعات پر عمل نہ کرنے والی حکومت، اسلامی حکومت نہیں ہے۔ یہ ایسے ہی سمجھ لیں جیسے پاکستان دستور کے اعتبار سے اسلامی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک جمہوری ملک بھی ہے، اور پاکستان بننے کے بعد سے اب تک ہر دستور میں یہ جمہوری حیثیت تسلیم کی گئی ہے اور پاکستان بدستور جمہوری ملک چلا آ رہا ہے۔ لیکن درمیان میں مارشل لاء کے جتنے مراحل آئے ہیں اور جمہوری حقوق معطل کیے گئے ہیں اور جمہوری دفعات پر عملدرآمد نہیں ہوتا رہا، ان مارشل لاء کی حکومتوں کے دور کو جمہوری حکومتیں تسلیم نہیں کیا جاتا۔ بالکل اسی طرح جیسے جمہوری دفعات کو معطل کرنے والی اور جمہوری دستور پر عمل نہ کرنے والی حکومتیں جمہوری نہیں کہلاتیں۔ بالکل اسی طرح پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، دستور اسلامی دستور ہے، لیکن دستور کی اسلامی دفعات کو معطل کرنے والی اور اسلامی دفعات پر عمل نہ کرنے والی حکومتیں بھی اسلامی حکومت نہیں کہلا سکتیں۔ گزشتہ ستر سال سے ہمارے ساتھ یہی معاملہ چلا آ رہا ہے۔

(۲) دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ خطبے تو وزارت مذہبی امور نے لکھنے ہیں، اور ظاہر بات ہے کہ وزارت مذہبی امور علماء سے لکھوائے گی، تو اس پر کیا اعتراض ہے؟ میں گزارش کرتا ہوں کہ وزارت مذہبی امور حکومت پاکستان کا حصہ ہے، حکومت پاکستان کی اجتماعی پالیسی سے الگ نہیں ہے۔ پالیسی تو حکومت نے طے کرنی ہے، وزارت مذہبی امور عملدرآمد کے لیے ہے، اس لیے وزارت مذہبی امور کو اس کے مذہبی امور کے ٹائٹل کی وجہ سے حکومت پاکستان کی عمومی پالیسی سے الگ نہیں کیا جا سکتا، نہ الگ طور پر دیکھا جا سکتا ہے، اسی کا حصہ ہے، اور جو عمومی رائے یا دینی رائے حکومت پاکستان کے حوالے سے ہو گی وہی اس کے ایک حصے وزارت مذہبی امور کے حوالے سے ہو گی۔

(۳) تیسرا سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں خطبات لکھ کر دیے جاتے ہیں اور وہ پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو یہاں کیوں نہیں ہو سکتا؟ میں اس پہلو پر بحث نہیں کروں گا لیکن ذکر کر دیتا ہوں کہ سعودی عرب میں بادشاہت کا نظام ہے، پاکستان میں جمہوری نظام ہے، بادشاہت کے تقاضے اور ہوتے ہیں، جمہوری نظام کے تقاضے اور ہوتے ہیں۔ لیکن میں اس بحث میں پڑے بغیر صرف یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ سعودی عرب میں صرف خطبہ لکھنے والی بات تو نہیں ہے، سعودی عرب کی حکومت اور بھی بہت سے کام کرتی ہے۔ مثلاً:

  • سعودی حکومت میں عدالتوں میں شرعی قوانین نافذ ہیں، فیصلے قرآن و سنت کے مطابق ہوتے ہیں، وہاں تمام حدود نافذ ہیں، وہاں قصاص نافذ ہے، وہاں عملدرآمد ہوتا ہے، چور کا ہاتھ کٹتا ہے، قاتل کو قصاص میں قتل کیا جاتا ہے، زانی کو سنگسار اور کوڑے لگتے ہیں، یہ سارے قوانین نافذ ہیں۔
  • سعودی عرب میں بنیادی طور پر ہر شہری کو قرآن و سنت کی بھرپور تعلیم دی جاتی ہے، اور انٹرمیڈیٹ تک قرآن و سنت اور فقہ کی تعلیم لازمی ہے۔
  • اسی طرح سعودی عرب میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا سرکاری نظام قائم ہے، اور پورے سعودی عرب میں فواحش و منکرات پر قدغن لگائی جاتی ہے، اور باقاعدہ ایک محکمہ ان کی نگرانی کرتا ہے اور اس پر کارروائیاں کرتا ہے۔

یہ ساری باتیں سعودی عرب کی کیوں نظر نہیں آ رہیں؟ صرف ایک بات نظر آ رہی ہے کہ سعودی عرب میں خطبہ لکھ کر دیا جاتا ہے اور خطباء وہ خطبہ پڑھنے کے پابند ہوتے ہیں۔ میں یہ عرض کروں گا کہ صرف ایک بات اپنے مطلب کی لے کر اس پر فوکس نہیں کرنا چاہیے، مجموعی صورتحال دیکھیں۔ اگر سعودی عرب کا باقی نظام بھی آپ اپنا لیتے ہیں، جو سعودی عرب کا نظام ہے، محکمہ تعلیم میں بھی، اور عدالتوں میں بھی، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں بھی، اور دوسرے معاملات میں بھی، تو پھر آپ اگلی بات بھی کریں۔ اور تو کوئی بات آپ سعودی عرب کی فالو نہیں کر رہے اور صرف ایک بات آپ کو یاد آ گئی ہے کہ وہاں خطبے لکھ کر دیے جاتے ہیں اور خطبے لکھے ہوئے پڑھے جاتے ہیں۔

میں گزارش کروں گا کہ حکومت پاکستان کو اپنی مجموعی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے کہ جو دستور کی اسلامی دفعات کے حوالے سے ستر سال سے ہماری حکومتوں کی پالیسی، ایک آدھ کو چھوڑ کر، یہی چلی آ رہی ہے کہ ان کو نظرانداز کیا جائے، ان کو معطل رکھا جائے، ان میں سے کسی پر عمل نہ کیا جائے۔ اس پس منظر میں یہ تجویز قبول نہیں کی جا سکتی کہ حکومت سرکاری طور پر خطبے لکھ کر دے اور علماء اس کے پابند ہوں، اس صورتحال میں یہ قابل قبول نہیں ہے۔