نئے تعلیمی بورڈ ’’مجمع العلوم الاسلامیہ‘‘ کا قیام

   
۱۳ مئی ۲۰۲۱ء

جامعہ الرشید کراچی اور جامعہ بنوریہ کراچی نے مل کر ’’مجمع العلوم الاسلامیہ‘‘ کے نام سے دینی مدارس کے نئے تعلیمی کے قیام کا اعلان کر کے ’’وفاق المدارس العربیہ پاکستان‘‘ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور وفاقی وزارت تعلیم کی طرف سے نئے بورڈ کو تسلیم کرنے کی خبریں بھی اخبارات میں آ رہی ہیں۔ نئے بورڈ کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ دینی و عصری تعلیم کے امتزاج پر مبنی مشترکہ تعلیمی نظام و نصاب کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی ہے اور اس ضرورت کے مختلف فورموں پر اظہار کے ساتھ ساتھ بہت سے ادارے اس عنوان سے کام بھی کر رہے ہیں جن کو منظم کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے یہ نیا وفاق کردار ادا کرے گا۔ اس حوالہ سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کا باضابطہ ردعمل سامنے آنے تک کوئی حتمی بات کہنا سردست مشکل ہے مگر موجودہ صورتحال پر سرسری اور ابتدائی تبصرہ کے طور پر چند گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔

دینی علوم کی جداگانہ تعلیم کی معاشرتی ضرورت و اہمیت کے بارے میں استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ آف گوجرانوالہ کی روایت سے یہ واقعہ اس سے قبل ہم مختلف مضامین میں ذکر کر چکے ہیں کہ ایک موقع پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا حافظ محمد احمد کو، جو حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے فرزند اور حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کے والد گرامی تھے، حیدر آباد دکن کی ریاست کی طرف سے پیشکش ہوئی کہ اگر دارالعلوم دیوبند کے نصاب میں چند جدید علوم و فنون کو شامل کر لیا جائے تو ریاست حیدر آباد دارالعلوم دیوبند کے فضلاء کو ملازمتیں فراہم کرنے اور دارالعلوم کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ پیشکش دارالعلوم دیوبند کے اس وقت کے سرپرست حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کو بتائی گئی تو انہوں نے یہ کہہ کر مسترد فرما دی کہ ہم نے مدرسہ ریاست حیدر آباد کو چلانے کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کی مسجدیں اور دینی تعلیم کے مراکز آباد رکھنے کے لیے بنایا ہے۔ مطلب یہ تھا کہ مسلم معاشرہ کو مسجد کی آبادی کے لیے امام، خطیب، مؤذن، دینی تعلیم جاری رکھنے کے لیے مدرس، حافظ، قاری اور عام مسلم معاشرہ کی دینی راہنمائی کے لیے مفتی اور داعی کی ضرورت ہے جو کہیں اور سے میسر نہیں آ رہے، اس لیے ہم نے معاشرہ کو دینی ضرورت کے یہ افراد مہیا کرنے کے لیے مدرسہ بنایا ہے، اگر ہمارے فضلاء بھی عصری تعلیم سے بہرہ ور ہو کر دوسرے شعبوں میں کھپ گئے تو ہمارا یہ خلا بدستور باقی رہے گا اور لوگوں کی دینی ضروریات تشنہ رہیں گی۔

یہ اس وقت کی بہترین حکمت عملی تھی جس کی وجہ سے مسجد و مکتب اور مدرسہ و افتاء کا ماحول اب تک قائم ہے ورنہ اس کا تسلسل عالم اسباب میں ممکن ہی نہیں تھا۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو یہ معاشرتی ضرورت اب بھی اسی درجہ میں موجود و قائم ہے کہ امام، خطیب، مؤذن، حافظ، قاری، مفتی، خطیب، داعی اور متکلم بدستور ہماری معاشرتی ضرورت تو ہیں مگر مدارس کے علاوہ کہیں اور سے میسر نہیں ہیں اور نہ ہی ریاستی نظام ان کی فراہمی کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ جبکہ یہ معروضی حقیقت ہے کہ عصری علوم و فنون سے بہرہ ور علماء و فقہاء کی اکثریت ان ذمہ داریوں میں سے کسی شعبہ میں زندگی کھپانے کی بجائے دوسرے قومی شعبوں میں چلی جاتی ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ جب تک یہ رجال کار کسی اور ادارے کی طرف سے معاشرے کو میسر نہیں آتے، دینی مدارس کے موجودہ نظام و نصاب کو اسی حالت میں قائم رہنے دیا جائے بلکہ اسے سپورٹ کیا جائے تاکہ یہ مدارس معاشرے کو اس کی دینی ضروریات کے لیے مذکورہ افراد کی کھیپ مہیا کرتے رہیں۔

دوسری طرف دینی و عصری علوم میں تفریق کے نقصانات و مضرات بھی سامنے ہیں جن کی سنگینی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس حوالہ سے دینی و عصری تعلیم کو یکجا کرنے کے لیے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے لے کر اب تک اکابر علماء کرام کی فکر اور مساعی کی ایک مسلسل تاریخ ہے جو یقیناً اس معاملہ میں ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔

ہم خود نصف صدی سے اسی رخ پر اپنی بساط کی حد تک محنت کرتے آ رہے ہیں اور اس سلسلہ میں دو اہم ترین قومی ضرورتیں ہمیشہ ہمارے پیش نظر رہتی ہیں۔

  1. دینی مدارس کے طلبہ، فضلاء اور اساتذہ کو عصری علوم و فنون سے اس حد تک ضرور آشنا ہونا چاہیے کہ وہ دینی خدمات موجودہ عالمی اور قومی ماحول بالخصوص جدید تعلیم یافتہ طبقات و افراد کے دائروں میں صحیح طور پر اعتماد اور ثقاہت کے ساتھ سرانجام دے سکیں اس لیے علماء کرام اور دینی کارکنوں کا موجودہ عالمی و قومی ماحول سے واقف ہونا ازحد ضروری ہے۔
  2. دینی مدارس کے فضلاء کو عصری علوم و فنون سے بہرہ ور ہو کر قومی زندگی کے دیگر شعبوں میں جا کر اصلاح احوال کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ قومی زندگی کے بیشتر شعبوں اور اداروں میں اس وقت کام کرنے والے افسران اور ملازمین ضروری دینی تعلیم اور معلومات سے بہرہ ور نہیں ہیں بلکہ دستور پاکستان کے مطابق پاکستان کو ایک نظریاتی اسلامی ریاست بنانے اور صحیح اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں معاون بننے کی بجائے ایک بڑی رکاوٹ کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جبکہ مروّجہ ریاستی نظام تعلیم قومی زندگی کے مختلف شعبوں کے لیے رجال کار کی تیاری اور تربیت میں دینی تعلیم کو جگہ دینے کے لیے کسی صورت تیار دکھائی نہیں دیتا۔

ان دونوں قومی اور معاشرتی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے بھی گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا تھا جس میں امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کی عملی سرپرستی ہمیں حاصل رہی ہے۔ یہ ادارہ اب جامعہ الرشید کراچی کے تحت ’’جامعہ شاہ ولی اللہ‘‘ کے نام سے مصروف عمل ہے اور ہم بھی اس کی مشاورت کا حصہ ہیں۔ اس حوالہ سے ایک اہم واقعہ ایک بار پھر ریکارڈ پر لانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ اس تعلیمی ادارے کا نام پہلے ’’نصرۃ العلوم اسلامی یونیورسٹی‘‘ رکھا گیا تھا اور اس کا ابتدائی تعارفی لٹریچر اسی نام سے ریکارڈ پر موجود ہے، مگر حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے، جو خود جامعہ نصرۃ العلوم کے بانی اور مہتمم تھے، اس سے اتفاق نہیں کیا اور فرمایا کہ نئے تجربے کے لیے پرانے نظام کو ڈسٹرب نہ کرو، جامعہ نصرۃ العلوم کو اسی طرح کام کرنے دو اور نیا ادارہ حضرت شاہ ولی اللہؒ کے نام سے بناؤ۔ چنانچہ انہی کے ارشاد پر ہم نے نام بدل دیا اور الگ نصاب و نظام ترتیب دے کر کام شروع کیا، اور دونوں بزرگ اس کام کی مسلسل سرپرستی کرتے رہے بلکہ وہ’’شاہ ولی اللہ ٹرسٹ‘‘ کے باقاعدہ ٹرسٹی بھی تھے۔

ہمارے خیال میں وہی صورتحال جو اب سے ربع صدی قبل گوجرانوالہ میں پیش آئی تھی اب قومی سطح پر درپیش ہے، ایک طرف سوسائٹی کی دینی ضروریات کو کسی خلا سے بچانے کے لیے دینی مدارس کے موجودہ نظام کا اسی حالت میں تحفظ و تسلسل دینی و قومی ضرورت ہے اور دوسری طرف دینی و عصری تعلیم کو یکجا کرنے اور قومی زندگی کے دیگر شعبوں کی دینی ضروریات کو پورا کرنے کی اہمیت بھی اس سے کم نہیں ہے۔ چنانچہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا نظام و نصاب اور اس کی جدوجہد کا تسلسل بھی ناگزیر ہے اور مجمع العلوم الاسلامیہ کے اہداف اور پروگرام بھی اسی طرح کی قومی اور دینی ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • اس لیے ہماری دونوں وفاقوں کی قیادتوں سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ اسے باہمی تقابل اور محاذ آرائی کے ماحول سے ہر قیمت پر بچایا جائے اور تقسیم کار کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ باہمی مشاورت کا مسلسل اہتمام کیا جائے تاکہ دونوں قومی و دینی ضروریات صحیح طور پر پوری کرنے کی کوئی عملی صورت نکالی جا سکے۔
  • اسی طرح یہ بھی اس نئے تجربے کا ناگزیر تقاضہ ہے کہ وہ سرکاری مداخلت اور سرپرستی کے تاثر سے پاک ہو، اس لیے کہ سرکاری مداخلت کا ناکام تجربہ ہم اس سے قبل جامعہ عباسیہ بہاولپور اور جامعہ عثمانیہ اوکاڑہ جیسے بیسیوں مدارس میں کر چکے ہیں، اور ماڈل دینی مدارس کے نظام کی ناکامی اس کی تازہ ترین شہادت ہے، اس لیے اس دائرے سے بچ کر ہی اس تعلیمی تجربہ کو دینی حلقوں کا اعتماد و حاصل ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح رخ پر جدوجہد کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
   
2016ء سے
Flag Counter