پاپائے روم اور ان کے معتقدین سے ایک گزارش

   
۲۴ دسمبر ۲۰۰۱ء

پاپائے روم جان پال دوم کی ہدایت پر جمعۃ الوداع کے روز مسیحی برادری نے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے روزہ رکھا، اور اخباری اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر مسیحی دوستوں نے خود روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ مسلمان دوستوں کا روزہ بھی افطار کرایا۔

قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا اور منتخب امتوں کے لیے روزوں کی تعداد اور روزے کا یومیہ دوران مختلف رہا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر بھوکا پیاسا رہنے کی یہ عبادت کم و بیش آسمانی مذہب میں مروج رہی ہے۔ بائیبل میں اسے ’’جان کو دکھ دینے‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ فرعون کے ظلم و جبر اور غلامی سے بنی اسرائیل کی نجات کے بعد جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر گئے اور تورات کے حصول کے لیے چالیس روز تک وہاں قیام فرمایا تو اتنے دن مسلسل روزے رکھے۔ اس کے علاوہ بھی متعدد انبیاء کرام علیہم السلام کے حوالے سے بائیبل میں روزے کا تذکرہ موجود ہے۔

قرآن کریم کے معروف مفسر حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ نے سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۸۳ کی تفسیر کرتے ہوئے ’’تفسیر مظہری‘‘ میں اسرائیلی روایات کے حوالہ سے بتایا ہے کہ بنی اسرائیل میں بھی مسلمانوں کی طرح رمضان المبارک کے روزے فرض تھے اور ان کے ہاں بھی رمضان المبارک سال کے مختلف موسموں میں آتا تھا۔ رمضان المبارک چاند کا مہینہ ہے جس کا سال سورج کے سال سے دس دن چھوٹا ہوتا ہے اور ہر سال اتنی مقدار میں پیچھے ہٹتے ہوئے تینتیس برس میں سال کا چکر مکمل کر لیتا ہے۔ اور اس طرح تینتیس برس کے دورانیہ میں رمضان المبارک کے مسلسل روزے رکھنے والے شخص کو سال کے ہر موسم کے روزے مل جاتے ہیں، اور شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے چاند کے مہینہ کو روزوں کے لیے مقرر کرنے کی ایک حکمت یہ بھی ہو۔

قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ کی نقل کردہ بعض اسرائیلی روایات کے مطابق بنی اسرائیل میں کسی موقع پر شدید گرمی میں رمضان المبارک کے روزے آنے پر لوگوں نے اپنے علماء سے شکایت کی، اور تقاضا کیا کہ وہ روزوں کے لیے کوئی مناسب موسم طے کریں کیونکہ شدید گرمی کے روزے مشکل ہیں اور خاص طور پر محنت اور مزدوری کرنے والوں کو بہت دقت پیش آتی ہے۔ چنانچہ ان کے علماء نے باہمی مشورہ سے انہیں یہ سہولت دینے کا فیصلہ کیا اور روزوں کے لیے رمضان المبارک کا تعین ختم کر کے سردیوں میں روزے رکھنے کی اجازت دے دی۔ لیکن ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا کہ چونکہ ہم حکمِ خداوندی میں ترمیم کر رہے ہیں اس لیے ایک ماہ کے تیس روزے مکمل رکھنے کے علاوہ ان کے ساتھ دس روزے کفارے کے بھی رکھیں گے، اور اس طرح مسیحی برادری سردیوں کے موسم میں چالیس روزے رکھتی ہے۔

مسیحی برادری کے چالیس سالانہ روزوں کا جو پس منظر ’’تفسیر مظہری‘‘ میں بعض اسرائیلی روایات کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے، یہ کہاں تک درست ہے، اس پر اسرائیلی تاریخ اور روایات کے کوئی ماہر بزرگ ہی روشنی ڈال سکتے ہیں، مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ روزہ کی یہ عبادت بنی اسرائیل میں بھی رہی ہے اور مسیحی برادری کے مذہبی حلقوں میں آج بھی موجود ہے۔

پہلی امتوں کے روزوں اور ملتِ اسلامیہ کے روزوں میں ایک فرق سحری کا بھی ہے کہ پہلی امتوں میں روزہ رات کو نیند سے شروع ہو کر دوسرے دن کی شام تک جاری رہتا تھا، مگر مسلمانوں کو قرآن کریم میں یہ سہولت دی گئی کہ وہ صبح سحری کے وقت پو پھٹنے تک کھا پی سکتے ہیں، اور اس طرح روزے کا یومیہ دورانیہ کم ہو گیا ہے۔

قرآن کریم نے روزے کی فرضیت کا مقصد یہ بتایا ہے کہ اس سے انسان میں تقویٰ کی خصلت پیدا ہوتی ہے کہ جب وہ دن کے وقت حلال چیزوں سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق گریز کرتا ہے تو جن چیزوں کو شریعت نے شب و روز کے لیے، یعنی مکمل طور پر ہر وقت کے لیے حرام اور ناجائز قرار دیا ہے، اس سے گریز کرنا، اور حلال و حرام کا فرق زندگی کے معمولات میں ہر وقت قائم رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اور پھر روزے سے انسان کے نفس کی اصلاح اور روح کی ترقی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا تقرب اور خوشنودی نصیب ہوتی ہے۔

روزے کی عبادت میں بنی اسرائیل کے ساتھ شرکت اور ان کے ساتھ اس معاملہ میں ہم آہنگی کا اظہار جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا تھا جب آنحضرتؐ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ مدینہ منورہ میں آباد یہودی قبائل دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں۔ وجہ پوچھی تو یہودی علماء نے بتایا کہ یہ ہمارا ’’یومِ آزادی‘‘ ہے اور اس روز حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل نے بحیرہ قلزم پار کیا تھا اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہو گیا تھا، اس لیے ہم اظہارِ تشکر کے طور پر اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ اس پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہمارا تعلق تم سے زیادہ ہے، اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ بھی اس دن یعنی دس محرم کو روزہ رکھا کریں۔ خود جناب نبی اکرمؐ بھی دس محرم کو روزہ رکھتے رہے۔ اور آخری سال فرمایا کہ یہودیوں کے روزے کے ساتھ ہمارے روزے کا کچھ فرق ہونا چاہیے، اس لیے اگلے سال میں دس محرم کے ساتھ ایک اور دن کا بھی روزہ رکھوں گا تاکہ ہمارے روزے دو ہو جائیں۔ لیکن اس کا موقع نہ آیا اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے قبل وصال ہو گیا۔

اس پس منظر میں پاپائے روم جان پال دوم کی طرف سے مسیحی برادری کو مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے جمعۃ الوداع کے دن روزہ رکھنے کی تلقین ایک اچھی روایت ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ البتہ بائیبل کی کتاب ’’یسعیاہ‘‘ کے باب ۵۸ کی طرف پاپائے روم اور مسیحی برادری کے مذہبی حلقوں کو توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں جس میں روزے کے مقاصد کی طرف بنی اسرائیل کو متوجہ کیا گیا ہے اور یہ بھی اس میں کہا گیا ہے کہ

’’کیا وہ روزہ جو میں چاہتا ہوں یہ نہیں کہ ظلم کی زنجیریں توڑیں اور جوئے کے بندھن کھولیں اور مظلوموں کو آزاد کریں اور ہر ایک جوئے کو توڑ ڈالیں اور کیا یہ نہیں کہ تو اپنی روٹی بھوکوں کو کھلائے اور مسکینوں کو جو آوارہ ہیں اپنے گھر میں لائے اور جب کسی کو ننگا دیکھے تو اسے پہنائے اور تو اپنے ہم جنس سے روپوشی نہ کرے۔‘‘

پاپائے روم اور ان کے دنیا بھر کے معتقدین سے گزارش ہے کہ انسانی آبادی کا ایک بڑا حصہ ظلم و استبداد، معاشی استحصال، لوٹ کھسوٹ، وحشیانہ فوج کشی اور نو آبادیاتی جبر کا شکار ہے اور اس عالمی دہشت گردی اور قتل و غارت کی قیادت خود ان کے اپنے مذہبی بھائی بند کر رہے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے روزے کا اصل پیغام یہ ہے کہ دنیا کو استحصال، جبر اور لوٹ کھسوٹ کے بندھنوں سے آزاد کرانے کے لیے کلمۂ حق بلند کریں اور مظلوموں کی بے بسی پر خاموش تماشائی بننے کی بجائے ان کا عملاً ساتھ دے کر ظالموں اور غاصبوں کے ہاتھ روکیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter