دینی مدارس کی اسناد کا توجہ طلب مسئلہ

   
اگست ۲۰۲۱ء

ہری پور ہزارہ کے حضرت مولانا حکیم عبد السلامؒ ہمارے محترم بزرگوں میں سے تھے، تحریک آزادی کے نامور راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے، میری ان سے نیازمندی رہی ہے اور کئی بار ان کی خدمت میں حاضری اور شفقتیں سمیٹنے کی سعادت ملی ہے۔ ان کے فرزند میجر (ر) محمد طارق مرحوم محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے ہیں اور ایک دور میں ثانوی تعلیمی بورڈز کی کسی مشترکہ کمیٹی کے سیکرٹری کے طور پر انہوں نے خدمات سر انجام دی ہیں۔ اس دوران ایک بار وہ گوجرانوالہ تشریف لائے، شیرانوالہ باغ کے ساتھ لیپاری ہوٹل میں ان کا قیام تھا، میں خاندانی تعارف کے حوالہ سے ان سے ملنے چلا گیا اور کافی دیر ان کے ساتھ مجلس رہی، بہت سے امور پر گفتگو ہوئی اور میں نے ان کے سامنے اپنا ایک مسئلہ بھی رکھ دیا، میں نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی شہادۃ العالمیۃ کی بنیاد پر پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے (عربی) اور ایم اے (اسلامیات) کا مساوی سرٹیفکیٹ حاصل کر رکھا تھا جو اب بھی میرے پاس موجود ہے، مگر مجھے اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پنجاب یونیورسٹی کسی مضمون میں ایم فل کرنے کا راستہ نہیں دے رہی تھی۔ میں نے ان سے اس سلسلہ میں راہ نمائی اور تعاون کی بات کی تو انہوں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے دوٹوک جواب دے دیا اور مجھے ان کے اس جواب پر اس حوالہ سے خوشی ہوئی کہ انہوں نے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ یہ کام ہونے والا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولوی صاحب اس بات کو بھول جاؤ کہ ہم دینی مدارس کے فضلاء کو اس طرح آگے آنے کا کوئی راستہ دیں گے، جس نے آنا ہے ’’پراپر چینل‘‘ اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ملے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صرف جنرل ضیاء الحق مرحوم کی سخت گیری کی وجہ سے آپ لوگوں کو کچھ لچک مل گئی تھی، اب آپ لوگ اس کو ذہن سے نکال دیں اور جو کام کرنا ہے پراپر چینل کریں۔

اس کے بعد سے مجھے ذاتی طور پر تو دینی مدارس کے وفاقوں کی اسناد کے بارے میں کسی سرکاری پالیسی اور حکومتی وعدوں سے کسی درجہ میں کوئی توقع نہیں رہی تھی اور نہ ہی اپنے کسی معاملہ کیلئے اسے ذریعہ بنانے کا راستہ اختیار کیا ہے، لیکن دینی مدارس کے وفاقوں کے ساتھ مختلف حکومتوں کے مذاکرات اور معاہدات کو خاموشی کے ساتھ یہ سوچتے ہوئے دیکھتا آ رہا ہوں کہ ’’لعلہ یتذکر او یخشٰی‘‘۔ یہ خاموشی توڑنے کی شاید ضرورت نہ پڑتی مگر گزشتہ روز لاہور میں ملی مجلس شرعی پاکستان کے ایک اجلاس کے دوران چند تعلیمی ماہرین سے ہائر ایجوکیشن اتھارٹی کے اس مبینہ اعلان پر گفتگو کا موقع مل گیا کہ اب بی اے اور ایم اے کی کوئی ڈگری قبول نہیں ہو گی اور اس کی جگہ بی ایس کا نیا چار سالہ نظام متعارف کرایا گیا ہے، اسی کے حوالہ سے اسناد کے قبول ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ چلے گا۔ تو ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ دینی مدارس کے وفاقوں کی جن اسناد کو کسی درجہ میں قابل قبول کہا جا رہا ہے وہ تو بی اے اور ایم اے کے سسٹم کے حوالہ سے ہیں، ان کا کیا بنے گا؟ میرے اس سوال کا جواب تعلیمی ماہرین کے پاس نہیں تھا اور وہ خود گومگو اور تذبذب سے دوچار تھے۔

میں نے خود کو کبھی تعلیمی ماہرین کے دائرہ میں نہیں سمجھا مگر دینی مدارس کا پرانا خادم اور کم و بیش نصف صدی کا تدریسی تجربہ رکھنے والا ایک مدرس ضرور ہوں، اس لیے یہ نئی صورت حال معلوم کر کے خود کو ’’سناٹے‘‘ کی کیفیت میں محسوس کر رہا ہوں۔ میں قطعی طور پر نہیں سمجھتا کہ وفاقوں کی قیادتیں اس سے بے خبر ہوں گی یا انہیں اس کی سنگینی کا احساس نہیں ہو گا، ہمیں ان کے ادراک و احساس اور بیدار مغزی پر پورا اعتماد ہے مگر اس سلسلہ میں آگاہی، بیداری، مشاورت اور راہنمائی کے دائروں میں جو کچھ ہونا چاہئے وہ بہرحال دکھائی نہیں دے رہا۔ اس لیے یہ ’’درد دل‘‘ دینی مدارس کے وفاقوں کی قیادت کے سامنے رکھنے کی جسارت کر رہا ہوں، خدا کرے کہ ہم کوئی با وقار راستہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter