تنخواہ میں گزارہ اور حکومت کی ذمہ داری

   
تاریخ : 
مارچ ۲۰۰۰ء

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۷ فروری ۲۰۰۰ء کے مطابق ڈائریکٹر اینٹی کرپشن پنجاب جناب طارق سعادت نے ملتان میں اپنے محکمہ کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا، اس لیے جو ملازم سمجھتے ہیں کہ تنخواہ میں ان کا گزارہ نہیں ہوتا وہ ملازمت سے استعفٰی دے دیں۔

ہمیں جناب طارق سعادت کے اس موقف سے اتفاق نہیں ہے کیونکہ جہاں تک کرپشن پر کنٹرول کرنے اور اس کے خاتمہ کا تعلق ہے اس کے لیے ان کی مہم خوب ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ملازمین سے یہ کہنا کہ اگر تنخواہ میں ان کا گزارہ نہیں ہوتا تو وہ ملازمت چھوڑ دیں، صحیح طرز عمل نہیں ہے۔ کیونکہ یہ بات کم و بیش ہر شخص سمجھتا ہے کہ ملک میں تنخواہوں کا جو موجودہ معیار ہے اس میں تنخواہ دار افراد کا گزارہ فی الواقع نہیں ہوتا۔ اور اس کا حل ملازمت چھوڑ دینے کی ترغیب دینا نہیں ہے، بلکہ انہیں ملازمین کو حوصلہ دیتے ہوئے حکومت سے یہ کہنا چاہیے کہ وہ موجودہ معاشی نظام پر نظرثانی کرے اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کر کے انہیں اس قابل بنائے کہ وہ اس میں باعزت طور پر اپنے ضروری اخراجات پورے کر سکیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter