سانحۂ فیصل آباد اور مابعد اثرات

   
۱۴ مارچ ۲۰۱۰ء

مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ ہمارے ملک کے نامور خطباء میں سے تھے۔ وہ صرف خطیب نہیں بلکہ خطیب ساز تھے۔ ان کا طرزِ خطابت منفرد تھا اور ان کے بیسیوں شاگردوں نے اس طرزِ خطابت کو اپنا کر میدانِ خطابت میں اپنے استاد اور مربی کے نام کو باقی رکھا ہوا ہے۔ توحید و سنت کا پرچار ان کا خصوصی موضوع تھا۔ تحریکِ ختمِ نبوت اور تحفظِ ناموسِ صحابہؓ کے محاذ پر وہ زندگی بھر سرگرمِ عمل رہے۔ وہ اگرچہ دیوبندی مکتبِ فکر کے سرکردہ رہنماؤں میں سے تھے، مگر مشترکہ دینی تحریکات اور متحدہ مذہبی فورموں میں بھی وہ صفِ اول میں ہوتے تھے۔ گزشتہ ہفتے ۱۲ ربیع الاول کے روز ایک مشتعل ہجوم نے فیصل آباد میں ان کا گھر نذرِ آتش کر دیا، ان کی مسجد کا گھیراؤ کیا اور ان کی قائم کردہ دینی درسگاہ جامعہ قاسمیہ میں گھس کر توڑ پھوڑ کی تو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ایسا آخر کیوں ہوا؟

اخبارات میں خبریں پڑھ کر اور وہاں کے دوستوں سے حالات معلوم کر کے اندازے کرتے رہے کہ یہ سب کچھ کس طرح ہو گیا؟ مگر گزشتہ روز پاکستان شریعت کونسل کے ایک وفد کے ہمراہ وہاں جانے کا موقع ملا اور اپنی آنکھوں سے منظر دیکھا تو کچھ کچھ بات سمجھ میں آنے لگی۔ وفد میں میرے ہمراہ مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر، مولانا عبد الرزاق، مولانا حافظ ریاض احمد چشتی، مولانا محمد خان، مولانا حافظ ذکاء الرحمٰن اختر اور قاری لائق علی شامل تھے۔

مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے فرزند و جانشین مولانا زاہد محمود قاسمی، ان کے دوسرے بیٹے مولانا خالد محمود قاسمی، مولانا مفتی محمد ضیاء مدنی، مولانا محمد یوسف انور اور دیگر رہنماؤں سے بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر ڈی سی او فیصل آباد اور سی پی او فیصل آباد افسروں کے ایک گروپ کے ساتھ موقع کا معائنہ کرنے کے لیے آئے ہوئے تھے، ان سے بھی ملاقات ہوئی۔ بہت سے حضرات سے اس سلسلہ میں جو معلومات حاصل ہوئیں ان سے واقعات کی ترتیب کچھ اس طرح بنتی ہے کہ اس واقعے سے چند روز پہلے سے یہ مسئلہ چل رہا تھا کہ کچھ لوگوں نے اس علاقہ میں صحابئ رسولؐ حضرت امیر معاویہؓ کے پتلے جلانے کی جسارت کی جس پر لوگوں میں اشتعال کا پیدا ہونا فطری بات ہے۔ حضرت معاویہؓ صحابئ رسولؐ ہیں، امتِ مسلمہ کے بیس برس تک متفقہ حکمران رہے ہیں، اور پاکستان میں اہلِ سنت کے تینوں مکاتبِ فکر دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث حضرت معاویہؓ کا یکساں طور پر نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ ان سے عقیدت و محبت بھی رکھتے ہیں۔ اس لیے دینی حلقوں کی طرف سے یہ مطالبہ ہوا کہ ان کی بے حرمتی کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور قانونی کارروائی کی جائے۔ اس مطالبے کی پذیرائی میں ٹال مٹول سے کام لیا گیا تو مولانا زاہد محمود قاسمی نے جمعہ کے روز عوام کو ساتھ لے کر تھانہ پولیس کے سامنے مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں مقدمہ تو درج ہو گیا، مگر اس پر عملدرآمد کی نوبت آنے سے پہلے ہی اس سے اگلے دن ہفتہ کے روز، خود مذکورہ کارروائی کا شکار ہو گئے۔

اس سانحے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عید میلاد النبیؐ کا جلوس جب مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی مسجد کے سامنے پہنچا تو کچھ مقررین نے وہاں رک کر اشتعال انگیز تقریریں کیں، جس پر کشیدگی پیدا ہوئی اور بعض افراد مسجد کی طرف بڑھے، کچھ لوگوں نے مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں تصادم ہوا، اس دوران دونوں طرف سے فائرنگ بھی ہوئی۔ اتنے میں مولانا زاہد محمود قاسمی کو معلوم ہوا تو وہ ساتھیوں کو لے کر مسجد میں پہنچے مگر ان کے اندر داخل ہونے کے بعد مسجد باہر سے بند کر دی گئی اور وہ مسجد کے اندر موجود افراد جلوس کے گھیرے میں آ گئے۔ تصادم جب حد سے بڑھا تو مشتعل جلوس نے مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے گھر کا رخ کیا، ان کے تین بیٹے طاہر محمود، خالد محمود اور زاہد محمود ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ ان تینوں کے مکانات زد میں آ گئے۔ دو مکانوں کا بڑا حصہ لوٹ مار اور آتشزدگی کا شکار ہوا، مکانوں کا سامان، فرنیچر اور کپڑے وغیرہ تو جلے، مگر لائبریری بھی مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی۔ مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے ذوقِ مطالعہ سے میں ذاتی طور پر آگاہ ہوں اور انہیں باخبر اور صاحبِ مطالعہ خطباء میں شمار کیا کرتا تھا۔ ان کی جمع کردہ کتابوں کو اس طرح خاکستر دیکھ کر سب سے زیادہ دکھ اور تکلیف ہوئی۔ گھر میں موجود خواتین اور بچوں نے عقبی دیواریں پھلانگ کر پڑوسیوں کے ہاں پناہ لی، گھروں میں آگ کا شرمناک کھیل کھیل کر ان لوگوں نے جامعہ قاسمیہ کا رخ کیا اور وہاں توڑ پھوڑ کی، پھر مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی قبر کی بے حرمتی کی گئی، اس دوران پولیس تھانہ بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔ مولانا محمد زاہد محمود قاسمی اور ان کے رفقاء کو مسجد سے گرفتار کر لیا گیا اور شام تک توڑ پھوڑ، آتش زنی اور وحشت و ظلم کا یہ بازار گرم رہا۔

یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ اس کے بارے میں دو الگ الگ آرائیں بیان کی جاتی ہیں:

  1. ایک موقف یہ ہے کہ جامع مسجد گول چوک کے گرد جلوس جمع ہونے پر اندر سے فائرنگ کی گئی، جس سے جلوس کے شرکاء اشتعال میں آ گئے اور یہ سب اس اشتعال کا نتیجہ ہے۔
  2. جبکہ دوسری طرف کا موقف یہ ہے کہ یہ اشتعال ایک پلاننگ کے تحت پیدا کیا گیا اور ایک روز قبل یعنی جمعہ کے روز کے واقعات کے بعد سے ہی اس کی پلاننگ کر لی گئی تھی کہ اشتعال کا کوئی بہانہ پیدا کیا جائے، پھر ردعمل اور اشتعال کی آڑ میں وہ سب کچھ کر دیا جائے جو عملاً ہوا ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ مکانات کو جس طرح کیمیکلز کے ذریعے مکمل طور پر ایک دو گھنٹوں میں جلا کر راکھ کر دیا گیا ہے یہ وقتی اشتعال کی صورت میں نہیں ہو سکتا، اس کے پیچھے کوئی گہری منصوبہ بندی کارفرما دکھائی دیتی ہے۔

بعض حضرات کا کہنا ہے کہ پورے واقعات کی فلم میڈیا والوں کے پاس موجود ہے، اس میں جو لوگ یہ کاروائی کرتے دکھائی دیتے ہیں ان میں سے بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو نہ دیوبندی ہیں اور نہ ہی بریلوی ہیں، اس لیے بھی یہ وقتی اشتعال کی بات نظر نہیں آتی۔ متاثرہ حلقوں کا موقف ہے کہ شہر کے ایک معروف ایم این اے کے مخصوص حلقے بلکہ ذاتی عملے کے افراد بھی ریکارڈ کے مطابق اس کاروائی میں شریک ہیں اور وہ لوگ پولیس کے ریکارڈ میں بھی ہیں، یہ ایم این اے صوبائی وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے قریبی حلقے میں دیکھے جاتے ہیں۔

ضروری نہیں کہ ہماری یہ باتیں درست ہوں، لیکن یہ ساری باتیں وہ ہیں جو فیصل آباد کے دینی اور عوامی حلقوں میں عام طور پر بیان کی جا رہی ہیں، اور ان کی بنیاد پر تاثرات اور جذبات کی ایک نئی رو جنم لیتی نظر آتی ہے۔ یہ باتیں اگر غلط بھی ہیں تو میرے خیال میں ان کا ازالہ صرف پولیس انکوائری سے نہیں ہو گا۔ اس لیے میں ذاتی طور پر میاں شہباز شریف سے یہ گزارش کروں گا کہ اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ فیصل آباد اس قسم کی کسی نئی صورتحال سے دوچار نہ ہو اور فیصل آباد کے اس سانحے کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں ردعمل اور جذبات کی جو نئی رو آہستہ آہستہ جنم لے رہی ہے، وہ منظم نہ ہو، تو انہیں اس سانحہ کی کھلی عدالتی تحقیقات کا فوری طور پر اعلان کرنا چاہیے، اور خود اپنے بارے میں بعض مذہبی حلقوں میں پائے جانے والے تحفظات کا بھی سنجیدگی کے ساتھ ازالہ کرنا چاہیے، ورنہ خدانخواستہ حالات کوئی اور افسوسناک صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter