مسلم ممالک کی باہمی تجارت کیلئے الگ کرنسی کا منصوبہ

   
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۲ء

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ اگست ۲۰۰۲ء کی ایک خبر کے مطابق ’’اسلامی ممالک نے باہمی تجارت ڈالر یا دیگر عالمی کرنسیوں میں کرنے کی بجائے گولڈ میں کرنے کے پلان پر کام شروع کر دیا ہے۔ یہ پلان ملائیشیا کی تجویز پر پیش کیا گیا ہے اور اس پر عملدرآمد سال ۲۰۰۳ء میں ہو گا۔ یہ تجارت ایک نئے سسٹم پر ہو گی جو کہ الیکٹرک یونٹ آف ویلیو پر ہو گا، اسے گولڈ دینار کہا جائے گا، اور یہ دنیا کے ایک ارب تیس کروڑ مسلمان باہمی تجارت کے لیے استعمال کریں گے۔ جس سے دیگر غیر مستحکم کرنسیوں میں کاروبار کرنے سے نجات مل جائے گی اور ان کرنسیوں کی قیمتوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ کا بھی کوئی اثر اس تجارت پر نہیں پڑے گا۔ اس سے قبل دنیا بھر کے مسلمان آپس میں زیادہ تر تجارت یورو اور ڈالر میں کر رہے ہیں جس پر مختلف اطراف سے تنقید ہو رہی ہے، جس کی وجہ عالمی سطح پر ان کرنسیوں کی سٹہ بازی تھی۔ جبکہ نئے سسٹم سے تمام سودے گولڈ دینار ہی میں ہوں گے۔۔۔ خبر کے مطابق اسلامی ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور گزشتہ پانچ سالوں کے دوران یہ تین گنا بڑھی ہے۔‘‘

یہ خبر اگر درست ہے اور مسلم ممالک اس پلان پر عملدرآمد میں سنجیدہ ہیں تو ہمارے نزدیک یہ انتہائی خوش کن خبر ہے، جسے موجودہ عالمی اقتصادی جبر اور بین الاقوامی ساہوکاروں کے وحشیانہ معاشی استحصال سے پیدا ہونے والے شدید گھٹن اور حبس کے ماحول میں ٹھنڈی ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا قرار دیا جا سکتا ہے۔

دنیا بھر میں کچھ عرصہ پہلے تک تجارت اور لین دین سونے اور چاندی کے حوالے سے ہوتا رہا ہے، اور اسلام میں بھی شرعی احکام کے حوالے سے سونا اور چاندی کو ’’نقدین‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ اس ’’زرِ حقیقی‘‘ کی جگہ کاغذ کے کرنسی نوٹ آ گئے جو اپنی تکنیکی نوعیت کے لحاظ سے آج بھی زرِ حقیقی کی رسید کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن بتدریج انہیں ’’زرِ حکمی‘‘ کا درجہ حاصل ہو گیا اور سونے اور چاندی کی نقدین اور زرِ حقیقی کی حیثیت پس منظر میں چلی گئی۔ ابتدا میں ان کرنسی نوٹوں کا اجرا سونے اور چاندی کے ذخائر کی بنیاد پر ہوتا تھا، اور متعلقہ بینک کو کرنسی نوٹ کے عوض اتنی مقدار کا زرحقیقی دینے کا پابند تصور کیا جاتا تھا۔ بعد میں چاندی کو اس کے دائرہ سے نکال دیا گیا اور صرف سونا زرِ حقیقی قرار پا کر کچھ عرصہ تک کرنسی نوٹوں کی بنیاد بنا رہا۔ مگر اس سے اگلے مرحلہ میں سونے کی یہ حیثیت کمزور ہو گئی اور کسی کرنسی کی ساکھ کے تعین میں متعلقہ ملک کی بین الاقوامی تجارت کا سائز، لین دین اور ساکھ جیسے عوامل بھی شامل ہو گئے۔ جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ کاغذ کا نوٹ کسی بھی ملک کی کرنسی کی صورت میں دنیا کے کسی بھی شخص کی جیب میں ہو مگر اس کی قدر اور قیمت کا تعین بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور عالمی بینکوں کے کنٹرول میں رہتا ہے کہ وہ جب چاہیں اور جیسے چاہیں اس کی قیمت میں کمی بیشی کرتے رہیں۔

اس طرح پوری دنیا کے مالی معاملات ان بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی گرفت میں آ گئے جن کا اصل کنٹرول یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس کے ذریعے پوری دنیا کے معاشی وسائل پر قبضہ کرنے اور اپنے مخالفین بالخصوص مسلمانوں کو معاشی طور پر مفلوج کر دینے کے لیے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک سونے اور چاندی کی صورت میں حقیقی، ٹھوس اور موجود زرِ نقد کی بجائے کاغذی نوٹ اور کرنسی کی صورت میں زرِ حکمی کو رواج دینے اور پھر اس کی مالیت اور قدر و قیمت کے تعین کو اعداد و شمار کے چکر میں ڈالنے کا اصل مقصد ہی یہ تھا کہ اعداد و شمار کے ہیر پھیر میں عالمِ اسلام کے وسائل اور دولت کو ہڑپ کیا جائے اور پوری دنیا کے معاشی وسائل پر یہودی مالیاتی اداروں کا کنٹرول قائم ہو جائے، جو اس وقت عملاً قائم ہو چکا ہے، اور دنیا کا کوئی ملک ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے چکروں اور ہیر پھیر سے آزاد نہیں ہے۔

اس پس منظر میں اگر مسلم ممالک نے اس دھوکہ اور فراڈ کو سمجھ لیا ہے اور اس سے کم از کم اپنے باہمی لین دین کے دائرہ میں بچنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو یہ فی الواقع بڑی خوشی کی خبر ہے جس سے ان لوگوں کو حوصلہ ملا ہے جو عالمِ اسلام کو اقتصادی اور معاشی طور پر ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور ڈبلیو ٹی او کے چنگل سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر مسلم ممالک سنجیدگی کے ساتھ زرِ حکمی کے چکر سے نکل کر سونے کی صورت میں زرِ حقیقی کی طرف واپس آ جائیں تو وہ نہ صرف باہمی تجارت کو بین الاقوامی اداروں کی سٹہ بازی سے محفوظ رکھ سکیں گے بلکہ مسلم ممالک کے معاشی استحکام اور عالمِ اسلام کے معاشی وسائل کے بچاؤ کی بھی کوئی صورت نکل آئے گی۔

اس مسئلہ کو پاکستان کی داخلی صورتحال کے حوالہ سے بھی اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اب سے تیس پینتیس برس قبل سونے کی قیمت ڈیڑھ سو روپیہ فی تولہ تھی اور جو ملازم اس وقت ڈیڑھ سو روپے ماہانہ تنخواہ پاتا تھا اس کی قوتِ خرید ایک تولہ سونے کے برابر تھی۔ جبکہ آج سونے کی قیمت فی تولہ پانچ اور چھ ہزار روپے کے درمیان ہے۔ اور اگر اس ملازم کی تنخواہ اس دوران ڈیڑھ سو روپے سے بڑھ کر چار ہزار روپے بھی ہو گئی ہے تو اعداد و شمار کے لحاظ سے اس کی تنخواہ میں چھبیس گنا اضافہ ہو جانے کے باوجود اس کی قوت خرید کم از کم بیس فیصد کم ہو گئی ہے۔ اور اس عمل نے غربت اور ناداری کے اضافہ میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اس کی بجائے اگر کرنسی کا تعلق حقیقی زر سے ہو اور اعداد و شمار کے ہیر پھیر کی بجائے کاغذ کے نوٹوں کو سونے کے ساتھ منسلک رکھا جائے، یا سونے کے سکے ہی کو زرِ نقد کی صورت میں دوبارہ بحال کر دیا جائے تو باہمی لین دین کے ساتھ عام آدمی کی قوتِ خرید میں بھی توازن قائم رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ محنت کشوں اور مزدوروں کی بعض تنظیمیں ایک عرصہ سے مطالبہ کرتی آ رہی ہیں کہ انہیں ان کی محنت کا معاوضہ کاغذ کے نوٹوں کی بجائے سونے اور متعینہ مقدار کی صورت میں دیا جائے تاکہ کرنسی کی قیمت اور قدر میں اتار چڑھاؤ سے ان کی قوتِ خرید متاثر نہ ہو۔

بہرحال مسلم ممالک کے اس فیصلہ سے ہمیں خوشی ہوئی ہے اور ہم انہیں اس پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مسلم حکومتوں کو سنجیدگی کے ساتھ اس فیصلہ پر عمل کی توفیق دیں اور عالمِ اسلام کو بین الاقوامی صہیونی مالیاتی اداروں کے استحصالی چنگل سے نجات دلائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter