فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے وحشیانہ حملے

   
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۰۰ء

مشرقِ وسطیٰ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے حملوں اور وحشیانہ تشدد سے علاقہ کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، اور اسرائیلی حملوں کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ کشیدگی کا پس منظر یہ ہے کہ امریکہ کی کوششوں سے اسرائیلی اور فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کے درمیان اوسلو مذاکرات کے مطابق جو معاہدہ طے پایا تھا اس میں امریکہ اور اسرائیل نے گارنٹی دی تھی کہ

  • ستمبر ۲۰۰۰ء تک معاہدہ کے تمام معاملات تکمیل تک پہنچ جائیں گے
  • اور اسرائیلی فوج دریائے اردن کے مغربی کنارے پر مقبوضہ علاقے کو خالی کرنے کا تیسرا مرحلہ ۱۳ ستمبر کو مکمل کر لے گی۔

لیکن اسرائیل نہ صرف اس سلسلہ میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے بلکہ مقبوضہ علاقوں میں آبادی کا توازن بگاڑنے کے لیے یہودی بستیوں کی تعمیر میں اضافہ کیے جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اوسلو مذاکرات کے بعد مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعداد ۱۳۰ سے بڑھ کر ۱۵۰ ہو گئی ہے، اور یہودیوں کی آبادی دو لاکھ اسی ہزار سے بڑھ کر چار لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ اور اس طرح اسرائیل مسلسل اس کوشش میں ہے کہ مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا سے پہلے یہودیوں کی اتنی تعداد میں وہاں آباد کر دیا جائے کہ وہ آزاد فلسطینی حکومت کے لیے مستقل مسئلہ بنے رہیں۔

اس کے ساتھ ہی مشہور یہودی لیڈر ایرل شیرون بھی مقبوضہ علاقہ میں آ گیا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فلسطین، اردن اور لبنان میں فلسطینیوں پر مظالم اور تشدد کے متعدد واقعات کا ذمہ دار ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں اس کے آنے پر فلسطینیوں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جس کے جواب میں اسرائیلی فورسز نے احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ حتیٰ کہ مسجد اقصیٰ کے اندر گھس کر فائرنگ کی جس سے سات فلسطینی مسجد میں شہید ہو گئے۔ جبکہ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد سینکڑوں تک پہنچ گئی ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف اسرائیلی فوج جدید ہتھیاروں سے مسلح ہو کر فلسطینیوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں، اور دوسری طرف فلسطینی غلیلوں اور پتھروں کے ذریعے اپنا دفاع کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ روزنامہ جنگ لندن نے ۱۶ اکتوبر ۲۰۰۰ء کو دلچسپ خبر شائع کی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری نے فلسطینی عوام کو ۵۰ ہزار غلیلوں اور بھاری مقدار میں سنگریزوں کا عطیہ بھجوایا ہے۔ اور اس طرح ایک بار پھر وہ پرانی یاد تازہ ہوتی نظر آ رہی ہے جب حضرت داؤد علیہ السلام اپنے وقت کے سب سے جابر حکمران جالوت کے مقابلہ میں میدانِ جنگ میں اترے تو جالوت مکمل طور پر مسلح اور آہن پوش تھا، مگر حضرت داؤد علیہ السلام کے جسم پر عام لباس اور ہاتھ میں غلیل تھی، اور اللہ تعالیٰ نے اس غلیل کے ذریعے حضرت داؤد علیہ السلام کو جالوت پر فتح عطا فرمائی تھی۔

بہرحال فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان یہ معرکہ جاری ہے، مگر دنیا کی مسلم حکومتوں کا طرز عمل اس سلسلہ میں ملی حمیت کے تقاضوں کو پورا کرتا دکھائی نہیں دیتا، بلکہ بیشتر مسلم حکومتیں صرف اسرائیلی مظالم کی زبانی مذمت کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتی ہیں۔ جیسا کہ ملائیشیا کے وزیر خارجہ سید حامد البار کے حالیہ دورہ اسلام آباد کے موقع پر پاکستان کے وزیرخارجہ جناب عبد الستار کے ساتھ ان کی مشترکہ پریس کانفرنس سے ظاہر ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ نے اسرائیلی مظالم کی مذمت کر کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بات قطعی طور پر ناکافی ہے کیونکہ مسلم حکومتوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ فوری طور پر مسلم سربراہ کانفرنس کا ہنگامی اجلاس بلا کر اسرائیل اور اس کے عملی سرپرستوں کے خلاف واضح حکمتِ عملی طے کی جائے، اور فلسطینیوں کو ان کے مستقبل کے تعین کے اس فیصلہ کن مرحلہ میں مکمل سیاسی، اخلاقی، سفارتی، مالی اور دیگر ضروری امداد فراہم کی جائے۔

   
2016ء سے
Flag Counter