افغان طالبان کا موقف

   
تاریخ : 
۲۹ اکتوبر ۱۹۹۶ء

راقم الحروف کو آٹھ تا گیارہ جون تین چار یوم افغانستان کی تحریک طالبان اسلام کے مختلف حضرات کے ساتھ ملاقاتوں کا موقع ملا تو اس دوران کوئٹہ، قندھار اور افغانستان کے سرحدی قصبہ سپین بولدک میں طالبان کے متعدد ذمہ دار حضرات سے افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں طالبان کا موقف اور مختلف مسائل کے حوالے سے ان کے خیالات ان سطور کی صورت میں قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں کیونکہ یہ بات میں نے شدت سے محسوس کی ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ساتھ طالبان کا رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس وجہ سے ان کا موقف اور خیالات پاکستان کے دینی حلقوں اور عوام کے سامنے صحیح طور پر نہیں آ رہے اور بہت سی غلط فہمیاں صرف اس وجہ سے پیدا ہو گئی ہیں۔ یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ طالبان کا موقف اور مختلف امور پر ان کا نقطہ نظر سامنے لایا جائے تاکہ پاکستان کے عوام اور راہنما افغانستان کے موجودہ حالات کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت طالبان کے موقف سے بے خبر نہ رہیں، لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ یہ خیالات طالبان کے ہیں اور ان تمام امور سے میرا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

طالبان اپنی تحریک کے آغاز کے بارے میں بتاتے ہیں کہ کابل میں نجیب حکومت کے خاتمہ کے بعد افغان مجاہدین کی حکومت قائم ہوئی تو وہ چونکہ بہت سے گروپوں پر مشتمل تھی اور ان گروپوں کے اتحاد میں رخنے پیدا ہوتے رہتے تھے اس لیے افغانستان بھر میں جہاں جہاں جس گروپ کے کمانڈر کا قبضہ تھا وہاں عملاً اس کی حکومت قائم ہو گئی، اور باہمی محاذ آرائی نے امن کے قیام کے بجائے امن کی صورتحال کو اور زیادہ مخدوش بنا دیا۔ قندھار کی صورتحال یہ تھی کہ شہر اور علاقہ کے چھوٹے چھوٹے حصوں پر پانچ چھ کمانڈروں کی الگ الگ حکومت تھی اور ان کے درمیان بھی تعاون کے بجائے محاذ آرائی اور مقابلہ بازی کی فضا موجود تھی۔ اس لیے لوٹ مار، قتل و غارت اور چوری و ڈکیتی کا بازار گرم رہا۔

ملا محمد عمر اخوند ایک مخلص اور متقی نوجوان ہیں، افغانستان کے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی ہے، دورانِ تعلیم جہادِ افغانستان سے وابستہ ہو گئے اور کئی معرکوں میں حصہ لیا۔ متعدد بار زخمی ہوئے، ایک معرکہ میں آنکھ زخمی ہوئی اور اس کو خاصا نقصان پہنچا۔ ایک بار زخمی ہو کر علاج کیلئے پاکستان لائے گئے، اس کے علاوہ زندگی میں وہ کبھی افغانستان سے باہر نہیں گئے۔ مولوی صاحب موصوف قندھار کے قریب منگ حصار کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال پر اپنے دیگر ساتھیوں سے رابطہ کیا اور پندرہ بیس ساتھیوں نے مل کر اصلاح احوال کے لیے مہم کا آغاز کیا۔ ان کا طریق کار یہ تھا کہ مختلف گروپوں کے کمانڈروں سے ملتے اور انہیں حالات کی سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے ان سے مطالبہ کرتے کہ باہمی محاذ آرائی ختم کر کے لوٹ مار اور قتل و غارت کی صورتحال کو کنٹرول کریں اور شرعی احکام نافذ کر کے لوگوں کو جان و مال اور آبرو کا تحفظ فراہم کریں۔

یہ مہم تقریباً تین چار ماہ جاری رہی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ اتنے میں طلباء کی تعداد پچاس تک پہنچ گئی۔ یہ سب دینی مدارس کے طلباء تھے جو جہادِ افغانستان میں عملاً شریک رہے ہیں اور بعض ان میں سے زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اپنی جدوجہد اور قربانیوں کے نتائج خانہ جنگی اور لوٹ مار کی صورت میں دیکھ کر ان کی قوتِ برداشت جواب دے گئی اور اصلاحِ احوال کی پرامن محنت کو بے نتیجہ پا کر انہوں نے ’’فلیغیرہ بیدہ‘‘ کے ارشاد نبویؐ پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا اور آگے بڑھ کر منگ حصار کے قریب ایک چوکی پر قبضہ کر لیا، جہاں سے طالبان کی مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا۔ اس چوکی پر قبضہ کے بعد وہاں سے اسلحہ اور دیگر سامان کے علاوہ دو عورتوں کی سربریدہ لاشیں بھی برآمد ہوئیں، جن کے بارے میں طالبان کا کہنا ہے کہ راہ چلتے قافلوں کو لوٹنا اور عورتوں کو اپنے قبضے میں رکھ لینا بعض کمانڈروں کا معمول بن گیا تھا۔ یہ عورتیں بھی ان مظلوم اور بے بس خواتین میں سے تھیں جن کے پہچانے جانے کے خوف سے غالباً چوکی کے طالبان کے قبضہ سے قبل ان کے سر الگ کر دیے گئے تھے۔

پاشمون نامی اس چوکی پر قبضہ کے بعد طالبان کا حوصلہ بڑھا اور انہوں نے مختلف علاقوں میں ان طلباء سے رابطے شروع کر دیے جو جہادِ افغانستان میں حصہ لے چکے تھے اور اب حالات سے پریشان ہو کر گھروں میں بیٹھے تھے۔ حتیٰ کہ طلباء کی تعداد تین سو تک پہنچ گئی اور انہوں نے چمن کے قریب افغانستان کے سرحدی قصبہ سپین بولدک پر ہلہ بول دیا اور معمولی مزاحمت کے بعد اس پر قبضہ کر لیا، جہاں سے انہیں پچاس کلاشنکوفوں سمیت بہت سارا اسلحہ اور گولہ بارود ہاتھ لگا، اور انہوں نے ایک باقاعدہ مسلح قوت کی حیثیت اختیار کر لی۔ اب طالبان نے قندھار اور اردگرد کے کمانڈروں اور گورنر قندھار گل آغا سے مطالبہ کیا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور اقتدار ان کے حوالے کر دیں۔ قندھار کے کمانڈروں میں ملا نقیب اللہ خود طلباء میں سے تھے اس لیے انہوں نے طالبان کے ساتھ لڑنے سے انکار کر دیا اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ جبکہ باقی تمام کمانڈر جو افغان مجاہدین کی مختلف تنظیموں سے وابستہ تھے اور اب تک مسلسل آپس میں لڑ رہے تھے، طالبان کے مقابلہ کے لیے متحد ہوگئے، اور نجیب دور کے ایک کمیونسٹ کمانڈر منصور کی قیادت میں طالبان سے جنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ان کمانڈروں کا سب سے بڑا مسئلہ سرحدی قصبہ سپین بولدک کو طلباء سے واپس لینا تھا کیونکہ اس کے بغیر آمدورفت ممکن نہ رہی تھی۔ اس لیے کمیونسٹ کمانڈر منصور کی کمان میں ان کمانڈروں نے اپنی قوت مجتمع کر کے سپین بولدک کی طرف پیش قدمی کی اور راستے میں (تختہ پل) کے مقام پر طالبان سے آمنا سامنا ہو گیا۔ جنگ ہو گئی اور طالبان کے ہاتھوں شکست کھا کر یہ کمانڈر ایسے پسپا ہوئے کہ پھر کسی مقام پر کھڑے نہ ہو سکے۔ تختہ پل کی فتح کی خبر سن کر گھروں میں بیٹھے ہوئے باقی طلباء بھی باہر نکل آئے۔ قندھار میں ملا نقیب اللہ نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا۔ اور اس طرح دو تین روز میں سپین بولدک سے قندھار تک کا علاقہ، قندھار شہر اور قندھار ایئرپورٹ پر طالبان کی عملداری قائم ہو گئی اور طالبان نے اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان کر دیا، اور رفتہ رفتہ پورے افغانستان سے دینی طلباء ملا عمر کی قیادت میں جمع ہونے لگے، جن کی تعداد اب کم و بیش تیس ہزار تک بیان کی جاتی ہے۔

طالبان کے رہنماؤں کے بقول ان کا سب سے بڑا ہدف امن و امان کا قیام اور شریعتِ اسلامی کا نفاذ تھا، اس لیے انہوں نے سب سے پہلے اسلحہ کو اپنے قبضے میں لینے کی حکمتِ عملی اختیار کی، اور جو علاقہ بھی ان کی تحویل میں آیا وہاں انہوں نے کسی عام شہری کے پاس بھی اسلحہ نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہنے دی، اور تمام آبادی کو نہتا کر دیا جو ان کے نقطۂ نظر سے امن کے قیام کے لیے ناگزیر تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے شرعی عدالتیں قائم کیں، قاضی مقرر کیے اور تمام معاملات قرآن و سنت کی رہنمائی میں چلانے کا اعلان کر دیا۔ چنانچہ اس وقت جن علاقوں بشمول کابل پر طالبان کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے، طالبان کی قیادت کے مطابق اس پورے خطے میں شرعی نظام نافذ ہے، آبادی کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جا چکا ہے، امن و امان قائم ہے، ہر سطح پر شرعی عدالتیں کام کر رہی ہیں جو لوگوں کے تنازعات و مقدمات کے فیصلے قرآن و سنت اور فقہ حنفی کے مطابق کر رہی ہیں۔ مہاجرین واپس آرہے ہیں، اپنے گھروں میں آباد ہو رہے ہیں۔ ایک افغان رہنما کے بقول اب قندھار میں مکان کرائے پر حاصل کرنا اور خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور لوگ مکانات کی تعمیر کے لیے گردونواح کا رخ کر رہے ہیں۔ زراعت اور کاروبار میں لوگوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے اور رفتہ رفتہ لوگ پرانے معمولات کی طرف واپس آ رہے ہیں۔

ہیروئن کی اسمگلنگ کے الزام کے بارے میں طالبان کا کہنا یہ ہے کہ یہ ہم پر جھوٹا الزام ہے، جبکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ ہم ہیروئن اور چرس سمیت ہر نشہ آور چیز کو حرام سمجھتے ہیں اور ہم نے نہ صرف مختلف علاقوں میں ہیروئن بنانے والے پچاس کے لگ بھگ کارخانے تباہ کر دیے ہیں بلکہ ہیروئن کی تیاری اور اسمگلنگ پر ہمارے ہاں مکمل پابندی ہے۔ ہم اس کی نگرانی کرتے ہیں اور پکڑے جانے والوں کو سزا دیتے ہیں اور اس قسم کے متعدد واقعات بین الاقوامی پریس کے ریکارڈ میں لا چکے ہیں۔

اسلحہ کی اسمگلنگ کے الزام کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ہم تو اپنے ملک کے شہریوں کے پاس اسلحہ نہیں چھوڑ رہے، دوسرے ممالک کو کیسے اسمگل کر سکتے ہیں؟ البتہ ہمارے دور سے پہلے اسلحہ سمگل ہوتا تھا بلکہ صحیح حالت میں ٹینکوں اور دیگر موٹروں وغیرہ کو تباہ کر کے اسکریپ کی صورت میں بیچ دیا جاتا تھا، ہم نے اسے کنٹرول کیا اور اس سلسلہ کو ختم کیا ہے۔ ہم اسلحہ کو بیت المال کی ملکیت سمجھتے ہیں اس لیے اس میں خیانت کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں طالبان کی قیادت کا موقف یہ ہے کہ ہم اسلام پر یقین رکھتے ہیں اور خلافت راشدہ کو معیار مانتے ہیں، اس لیے ان تمام حقوق کا احترام کرتے ہیں جو اسلام اور خلافت راشدہ کے دائرے میں شہریوں کو حاصل ہیں، البتہ انسانی حقوق کے بارے میں مغربی تصورات کو ہم تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے پروپیگنڈے سے مرعوب ہو کر اپنے نظریات اور اصولوں میں کسی قسم کی لچک پیدا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

لڑکیوں کی تعلیم کے ادارے بند کر دینے کے بارے میں ایک سوال پر بتایا گیا کہ ہم نے نظام تعلیم کی تبدیلی کے لیے ابتدائی طور پر ایسا کیا ہے، کیونکہ کمیونسٹ دور کا نظامِ تعلیم بدستور چلا آرہا تھا جسے ہم جاری نہیں رکھ سکتے تھے، جبکہ ہنگامی حالات کی وجہ سے نئے تعلیمی نظام اور نصاب کی تیاری فوری طور پر ممکن نہ تھی اس لیے ہم نے اسکول بند کر دیے۔ اب ہم نے خواندگی اور دینی تعلیم کی حد تک ابتدائی تعلیم کے لیے بچیوں کے تعلیمی ادارے ازسرنو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس کے بعد کے تعلیمی نظام کے لیے ہم اکابر علماء سے رجوع کر رہے ہیں، جیسے بڑے علماء مشورہ دیں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔ جس شعبہ میں (مثلاً میڈیکل وغیرہ) لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کی ضرورت ہے ہمیں اس سے قطعاً انکار نہیں ہے، البتہ غیر ضروری اور غیر متعلقہ امور میں لڑکیوں کی تعلیم کے ہم مخالف ہیں، مگر اکابر علماء کرام اس بارے میں بھی جو رائے دیں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔ اس سلسلہ میں طالبان کے ایک ذمہ دار لیڈر نے شکوہ کیا کہ اجتماعی نظام کے بارے میں پاکستان کے بڑے علماء ہماری رہنمائی نہیں فرما رہے اور وہ ضروری توجہ نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان کی ہائی کمان کی طرف سے اجتماعی نظام کی مشکلات کے بارے میں ۲۱ سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ پاکستان کے بڑے بڑے علماء کرام کو بھجوایا گیا مگر وہ مسلسل جواب کے انتظار میں ہیں۔

تحریکِ طالبان کے رہنماؤں کے بقول افغان صدر ابتدا میں طالبان کو ’’ملائکہ‘‘ اور ’’جند اللہ‘‘ کے خطاب سے یاد کرتے رہے ہیں، لیکن جب ہم نے ان سے دو ٹوک مطالبات کیے تو ان کا لہجہ یکسر بدل گیا، ہم نے ربانی حکومت سے مصالحت کی بات کی تھی اور ان سے درج ذیل مطالبات کیے تھے:

  1. افغان فوج سے جنرل بابا جان، جنرل آصف دلاور، جنرل مومن اور جنرل مصلح الدین جیسے کٹر کمیونسٹ جرنیلوں کو الگ کیا جائے جو جہاد افغانستان کے دوران مجاہدین کے خلاف سرکاری فوجوں کی کمان کرتے رہے ہیں اور اب بھی افغان فوج میں عہدوں پر فائز ہیں۔
  2. افغانستان میں مکمل شریعتِ اسلامی کے نفاذ کا باقاعدہ اعلان کیا جائے اور اس پر عملدرآمد کا اہتمام کیا جائے۔
  3. دفاتر میں کمیونسٹ دور کی بھرتی کی ہوئی روس کی تربیت یافتہ خواتین کو نکال دیا جائے۔

ہم نے ان شرائط پر عملدرآمد کی صورت میں ربانی حکومت کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا، لیکن ابھی احمد شاہ مسعود کے ساتھ ہمارے مذاکرات جاری تھے کہ ربانی حکومت نے ہمارے خلاف جنگ شروع کر دی۔

آخر میں ایک اور سوال کا ذکر بھی ضروری ہے جو میں نے طالبان کے بیشتر ذمہ دار رہنماؤں سے کیا کہ کہا جاتا ہے کہ آپ کی صفوں میں پاک فوج کے سپاہی سادہ لباس میں شامل ہیں اور آپ کی کمان آئی ایس آئی کے کمانڈر کر رہے ہیں؟ کم و بیش سب ہی رہنماؤں کا جواب یہ تھا کہ جہاں تک کمان کا تعلق ہے ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ ہمارا عملی تجربہ پاکستان کے فوجی افسروں بلکہ امریکہ کے فوجی افسروں سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ ہم نے چودہ سال تک عملاً جنگ لڑی ہے، جبکہ ان افواج کو ایسی جنگوں کا اتنا طویل تجربہ حاصل نہیں ہے۔ اگر ہماری بات پر یقین نہ ہو تو ان افواج کے کمانڈروں کے ساتھ ہمیں ایک میز پر بٹھا دیا جائے اور کسی جنگ کا نقشہ مرتب کرنے کے لیے کہا جائے، اگر ان میں سے کوئی جنرل ہم سے بہتر جنگی پلان بنا دے تو ہم ہر الزام قبول کرنے کو تیار ہوں گے۔ باقی رہی بات ہماری صفوں میں پاک فوج کے سپاہیوں کی موجودگی کی تو ہم دنیا کے ہر شخص کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئے اور خود دیکھے، وہ جہاں جانا چاہے گا ہم لے جائیں گے، اگر ہماری صفوں میں پاکستان کی فوج نہیں بلکہ افغانستان سے باہر کا کوئی شخص دکھا دیں تو ہم سر تسلیم خم کر دیں گے۔

اس ضمن میں ایک سوال اور تھا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ طالبان کی صفوں میں روسی دور کی کمیونسٹ پارٹیوں خلق اور پرچم کے افراد کی کثرت ہے اور وہ طالبان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ طالبان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن مولوی محمد صدیق نے اس کے جواب میں کہا کہ دراصل ہمارے مخالفین کو اس بات پر یقین نہیں آ رہا کہ طالبان بھی اتنی تعداد میں جمع ہو سکتے ہیں اور ایسی جنگ لڑ سکتے ہیں، اس لیے وہ اس قسم کی باتیں گھڑتے رہتے ہیں، حالانکہ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ ہم کم و بیش سب دینی مدارس کے طلبہ ہیں اور وہی لوگ ہیں جو جہادِ افغانستان میں روسی افواج کے خلاف عملاً برسرپیکار رہے ہیں۔ آپ ہماری مجلس شوریٰ کو دیکھ لیں اس میں کوئی ایسا رکن نہیں ہے جو جہاد کے دور میں جنگ میں شریک نہ ہوا ہو اور زخمی نہ ہوا ہو۔ یہی حال اکثر عام طلبہ کا ہے۔ پھر خلق اور پرچم پارٹی کے لوگوں کا ہمارے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ہم تو امن اور اسلامی شریعت کا عملاً نفاذ کر رہے ہیں جو کھلی آنکھوں دیکھا جا سکتا ہے، اور اگر بالفرض وہ لوگ ہمارے ساتھ موجود ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر شریعتِ اسلامی کے نفاذ کے لیے لڑ رہے ہیں۔ پھر اس میں اعتراض کی کون سی بات ہے؟

یہ بات محض جواب کے طور پر ہے، ورنہ طالبان کی صفوں میں خلقیوں اور پرچمیوں کی موجودگی کی بات محض ایک افسانہ ہے اور لطف کی بات ہے کہ ہمارے مخالفین کو ربانی اور انجینئر حکمتیار کی صفوں میں وہ بڑے بڑے کمیونسٹ جرنیل نظر نہیں آتے جو روسی دور میں بھی فوج کی کمان کر رہے تھے اور آج بھی ان لشکروں میں جنرل کی حیثیت سے موجود ہیں، البتہ طالبان کی صفوں میں کمیونسٹ سپاہی تلاش کرنے کے لیے وہ پورا زور صرف کر رہے ہیں، اسی سے اس الزام کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter