الشریعہ لاء سوسائٹی کا اجلاس
چار جنوری کو مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں الشریعہ لاء سوسائٹی کا ایک اہم اجلاس جناب معظم محمود ایڈووکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا مفتی فضل الہادی، مولانا مفتی نعمان احمد، مولانا مفتی واجد حسین، میاں فضل الرحمٰن چغتائی، فہد زمان ایڈووکیٹ، حافظ دانیال عمر، اور عبد القادر عثمان نے شرکت کی۔
اجلاس میں دینی و معاشرتی مسائل کے حل کے لیے عوام کی راہنمائی اور تنازعات میں شرعی اصولوں کی روشنی میں ثالثی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے الشریعہ لاء سوسائٹی کو منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور مفتیانِ کرام، وکلاء اور تاجر راہنماؤں کی مشاورت سے عملی طریقہ واضح کرنے کا پروگرام طے کیا گیا، جس کے لیے جناب معظم محمود ایڈووکیٹ، مفتی نعمان احمد اور میاں فضل الرحمٰن چغتائی پر مشتمل ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو آئندہ دو ہفتے کے اندر ان کی تفصیلات مرتب کریں گے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ دنیا کے ہر ملک میں کونسلنگ کا نظام موجود ہے جو تنازعات کو عدالت سے باہر باہمی مصالحت کے ذریعے حل کروانے کا کردار ادا کرتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں کونسلنگ کے اس نظام کو شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں منظم کیا جائے تاکہ عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہو اور عوام کو ان کے عقیدہ و ایمان کے مطابق اپنے تنازعات حل کرنے کی سہولت حاصل ہو۔
مداحِ رسول حافظ طاہر بلال چشتی مرحوم کی وفات پر اظہارِ رنج
آج جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں قرآن مجید کے ترجمہ و تفسیر کے سبق کے بعد استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی نے مداح رسول حافظ طاہر بلال چشتی مرحوم کی وفات پر اظہار رنج و غم کرتے ہوئے ان کی دینی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ پاکستان میں لوگوں کے عقائد و نظریات کی اصلاح کے لئے جن شعراء اور نعت خواں حضرات نے مسلسل خدمات سر انجام دی ہیں ان میں چشتی خاندان کے محمد بخش چشتی، احمد بخش چشتی اور ان کے بعد طاہر بلال چشتی کی جدوجہد نمایاں ہے۔ ان حضرات کی نعت خوانی اور شاعری بامقصد ہوتی تھی اور عقیدہ توحید ختمِ نبوتؐ اور ناموس صحابہ کرامؓ کے موضوعات ان کے اہم عنوانات تھے، اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائیں اور تمام لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یارب العالمین۔
مسجد ہمارے معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے
آج مؤرخہ ۱۰ جنوری ۲۰۲۵ء بروز جمعہ بعد نماز عصر گلوٹیاں کلاں میں استاد گرامی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم نے جامع مسجد عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب فرمایا: مسجد ہمارے معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبا پہنچ کر سب سے پہلے مسجد تعمیر فرمائی، اسی طرح جب مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت بھی سب سے پہلے مسجد کی تعمیر کی۔ مغرب کے معاشرے میں نفسیات کی علاج گاہیں موجود ہیں اور وہاں بھاری فیس لے کر ماہر نفسیات علاج کرتے ہیں، اور ہمارے ہاں جو پریشان ہوتا ہے وہ مسجد آ کر نماز پڑھتا ہے، قرآن کریم کی تلاوت کر کے نفسیات کا علاج کر لیتا ہے۔ مسجد و مدرسہ دونوں ہمارے لیے راہنمائی کا ذریعہ ہیں، مسجد و مدرسہ دونوں لازم و ملزوم ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے ساتھ مدرسہ بھی بنایا ہے۔ مسجد میں عبادت ہوتی ہے اور عبادت کا طریقہ مدرسہ سکھاتا ہے۔
تقریب میں مفتی شہر مولانا مفتی واجد حسین صاحب، مولانا حافظ ارشد صاحب، مولانا رشید احمد صدیقی، بھائی شاہد میر صاحب کے علاوہ عوام الناس اور علاقہ کے علماء کرام نے شرکت کی۔
مولانا فضل الرحمٰن اور سنیٹر کامران مرتضیٰ سے ملاقات
پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے ۹ جنوری کو اسلام آباد میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی اور ملک کی موجودہ صورتحال میں دینی جدوجہد کے تقاضوں پر ان سے صلاح مشورہ کیا۔ سنیٹر کامران مرتضیٰ بھی مشاورت میں شریک تھے۔ اس موقع پر مدارس رجسٹریشن کے حوالے سے قانون سازی میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور اس پر عملدرآمد کے ضروری تقاضوں کا جائزہ لیا گیا۔
مولانا زاہد الراشدی نے سنیٹر کامران مرتضیٰ کی مسلسل محنت پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس اصولی اور مؤثر پیشرفت کو آگے بڑھانے اور اس کے عملی نفاذ کے لیے اہلِ دین کو جدوجہد مستقل جاری رکھنا ہو گی جس کے لیے پاکستان شریعت کونسل اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے آزادانہ تعلیمی کردار اور پالیسی سازی میں خودمختاری کو قائم رکھنا بہرحال ضروری ہے، اس کے بغیر دینی مدارس اپنے دینی اور معاشرتی فرائض صحیح طور پر سرانجام نہیں دے پائیں گے۔ جناب عبد القادر عثمان اور حافظ دانیال عمر بھی مولانا راشدی کے ہمراہ تھے۔
یکجہتی فلسطین و شام علماء و عوامی کنونشن ڈیرہ اسماعیل خان سے خطاب
۱۲ جنوری ۲۰۲۵ء کو جامع مسجد امان، اسلامیہ کالونی، ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان شریعت کونسل، سنی اتحاد کمیٹی اور بزم خطباء ڈیرہ اسماعیل خان کے اشتراک سے یکجہتئ فلسطین و شام کے موضوع پر علماء و عوامی کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کی آزادی کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرنا تھا۔
کنونشن کے مہمان خصوصی مفکر اسلام حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب نے اپنے مدلل اور فکر انگیز خطاب میں فلسطین کے مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے اسرائیل کے قیام کے تاریخی پس منظر کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد یورپی طاقتوں نے فلسطین کی تقسیم کی منصوبہ بندی کی اور برطانیہ نے بالفور معاہدے کے تحت دنیا بھر سے یہودیوں کو فلسطین لا کر اسرائیل کی ریاست قائم کی۔ انہوں نے فلسطینی مزاحمت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مفتی اعظم فلسطین الحاج امین الحسینیؒ نے یہودیوں کو زمین فروخت کرنے کے خلاف فتویٰ دیا مگر زمینیں فروخت ہو گئیں جس کے نتیجے میں فلسطینی اپنی زمینوں سے محروم ہو گئے۔
مولانا زاہد الراشدی نے اقوام متحدہ کے دوہرے معیار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ نے اسرائیل کو تسلیم کیا مگر فلسطینیوں کو آزاد ریاست کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ انہوں نے عالم اسلام کی تقسیم پر بھی بات کی جہاں کچھ مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے، جبکہ دیگر فلسطینیوں کے لیے الگ ریاست کے حامی ہیں۔ فلسطینی تنظیمیں بھی مختلف موقف رکھتی ہیں جس کا اسرائیل فائدہ اٹھاتا ہے۔ مسلم حکمرانوں کی بے حسی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی دہشت گردی پر سنجیدہ اقدام نہیں کر رہے اور صرف بیانات تک محدود ہیں۔
آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسلم ممالک کو فلسطین کے مسئلے پر متفقہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے مضبوط پالیسی اپنانا چاہیے اور پاکستان کو اس میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
پنجاب قرآن بورڈ کا ایک اہم فیصلہ
پنجاب قرآن بورڈ کے ۵۸ ویں اجلاس کے حوالہ سے ایک خبر سوشل میڈیا پر چل رہی ہے کہ پنجاب قرآن بورڈ کے چیئرمین حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی دامت برکاتہم کی صدارت میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں توہینِ رسالت، توہینِ مذہب اور توہینِ قرآن کریم کے حوالے سے درج مقدمات کے بارے میں سوشل میڈیا میں جو مختلف خبریں چل رہی ہیں ان کا جائزہ لینے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری آف ساہیوال کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے جو درج شدہ مقدمات کے حوالے سے ملزمان اور مدعیان دونوں کے شکوک و شبہات کا جائزہ لے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ اداروں کو بھیجے گی تاکہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ہو اور کوئی گنہگار سزا سے بچ نہ سکے۔
پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سنگین ترین جرائم کے حوالے سے درج مقدمات کا دونوں پہلوؤں سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس پہلو سے بھی کہ کوئی گستاخ اپنے جرم کی سزا سے بچ نہ سکے، اور اس طور پر بھی کہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ہو۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری کی سربراہی میں پنجاب قرآن بورڈ کی قائم کردہ یہ کمیٹی دونوں حوالوں سے پائے جانے والے شبہات و تحفظات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر اس سلسلے میں شکوک و شبہات کے ازالے کے لیے مؤثر سفارشات پیش کرے گی۔
فلسطین فلسطینیوں کا ہے
پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے یکم فروری کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا جو ہدف مسلسل جنگوں سے حاصل نہیں کر سکی، امریکی صدر ٹرمپ سیاسی دباؤ کے ذریعے وہ پلیٹ میں رکھ کر اسرائیل کو گفٹ کرنا چاہتے ہیں جو یہود نوازی کی انتہا ہے مگر مجاہدین ان کے اس خواب کو پورا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی سوا سال کی مسلسل اور صبر آزما جنگ میں فلسطینی شہریوں کو غزہ چھوڑ دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکا اور وہ تمام تر قربانیوں کے باوجود اپنی زمین اور وطن میں کھڑے رہے، انہیں کسی اور جگہ آباد کرنے کی بات تاریخ کی سب سے بڑی نا انصافی ہو گی جس کے خلاف پوری دنیا بالخصوص عالم اسلام کو آواز بلند کرنی چاہیے۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ فلسطین سے اس کے اصل باشندوں کو بے دخل کرنے اور دنیا بھر سے یہودیوں کو وہاں لا کر آباد کرنے کی جو مہم ایک مدت قبل برطانیہ نے شروع کی تھی اسے اب امریکہ نے سنبھال رکھا ہے اور ٹرمپ کا یہ اعلان اس کا حصہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے مسلم ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اس موقف کا ایک بار پورے عزم کے ساتھ اعلان کریں کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور وہی اس زمین کے حقدار ہیں۔
ٹرمپ ہٹلر کے نقشِ قدم پر
پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے ایک مجلس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کو فلسطینیوں سے جبری طور پر خالی کرانے کا ٹرمپ پلان ہٹلر کے روایتی کردار کی صدائے بازگشت ہے اور امریکی صدر ہٹلر کے نقشِ قدم پر چلتے نظر آ رہے ہیں جس کا پوری دنیا کو نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو کام اسرائیل جنگوں کے ذریعے حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے وہ ٹرمپ سیاسی دباؤ کے ذریعے کرنے پر تل گئے ہیں جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس حوالے سے پاکستان اور بعض عرب ممالک کے موقف کو مناسب قرار دیا اور کہا کہ عرب ممالک اور او آئی سی کو اس بارے میں فوری طور پر مشترکہ اور ٹھوس حکمت عملی طے کرنا ہو گی۔
نئی نسل کو قرآن مجید سے جوڑنے کی ضرورت
جامعہ تحفیظ الفرقان، ملتان روڈ، موہلنوال، لاہور میں ’’پیغامِ قرآن کانفرنس‘‘ کا انعقاد ہوا جس میں جید علماء کرام، طلبہ اور مقامی احباب نے شرکت کی۔ مفکر اسلام مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنے خصوصی خطاب میں فرمایا کہ اگر نئی نسل کا قرآن مجید کے ساتھ فہم اور شعور کا تعلق قائم کر دیا جائے تو وہ الحاد اور لادینیت کے فتنوں سے بچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے اور ہمیں اپنی زندگیاں اس کی تعلیمات کے مطابق گزارنی چاہئیں۔ انہوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’کان وقافا عند کتاب اللہ‘‘ یعنی وہ ہمیشہ قرآن کے احکامات کے سامنے رک جایا کرتے تھے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالتے تھے۔ یہی طرز عمل آج کے مسلمانوں کو بھی اپنانا ہو گا۔
تقریب میں قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا اور شرکاء کو اس مبارک کتاب سے اپنی وابستگی مضبوط کرنے کی تلقین کی گئی۔ تقریب کے آخر میں استاذ العلماء حضرت مولانا قاری محمد رمضان صاحب مدظلہ نے دعا کرائی۔