بعد الحمد والصلوٰۃ۔ رحمتِ کائنات فاؤنڈیشن کے سربراہ مولانا اسعد محمود مکی اور جامع مسجد خاتم النبیینؐ کے منتظمین کا شکرگزار ہوں کہ ’’تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کانفرنس‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس اجتماع میں مجھے بھی حاضری کی سعادت سے نوازا۔ اللہ پاک سب کو جزائے خیر عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
ابھی مولانا اسعد محمود مکی فرما رہے تھے کہ اسلام کی دعوت اور فروغ کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی اور سیرت طیبہ سے دنیا کو زیادہ سے زیادہ متعارف کرانے کی ضرورت ہے، ان کی اس بات کی تائید کرتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اسلام کی دعوت کا نقطۂ آغاز ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت و کردار کا تعارف ہے اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنی نبوت کی سب سے پہلی دعوت صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر مکہ والوں کو دی تھی اور اس میں دعوت دینے سے قبل یہ فرمایا تھا کہ میں نے ساری زندگی تمہارے درمیان گزاری ہے، تم نے مجھے کیسا پایاہے؟ ’’’ھل وجدتمونی صادقاً ام کاذباً؟‘‘ کیا تم مجھے سچا سمجھتے ہو یا نعوذ باللہ جھوٹا؟ سب نے بیک آواز جواب دیا تھا کہ ’’ما وجدنا فیک الا صدقاً‘‘ ہم نے آپ میں سچ کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ یہ دعوتِ اسلام کا آغاز ہے، اس لیے میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینی ہو یا اپنی نئی نسل کو اسلام سکھانا ہو تو اس کا آغاز جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و صفات اور شخصیت و کردار کے تعارف سے کرنا چاہیے، دین کی دعوت اور تعلیم دونوں کے لیے یہ سب سے پہلا سبق ہے۔
ہمیں آج کل اپنی نئی نسل کے نوجوان بچوں اور بچیوں کے بارے میں عام طور پر یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ دین سے بے بہرہ ہیں اور بے دینی ان میں سرایت کرتی جا رہی ہے۔ میرا سب حضرات سے سوال ہے کہ ہم نے انہیں دین سے متعارف کب کرایا ہے کہ ان سے بے دینی کا شکوہ کرنے لگے ہیں؟ آپ خود سوچیئے کہ ہم اپنے بچوں کو قرآن کریم، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ماحول سے متعارف نہیں کرائیں گے اور ہوش سنبھالتے ہی ان کے ہاتھوں میں موبائل آجائے گا تو انہیں گمراہی سے کون بچائے گا؟ اس ماحول میں کسی مسلم نوجوان کا دین اور دینی ماحول سے متعلق رہنا میرے نزدیک اس کی کرامت ہے۔ اس لیے یہ گزارش کر رہا ہوں کہ ہمیں اپنے بچوں کو قرآن کریم سے مانوس کرانا ہو گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنت سے متعارف کرانا ہو گا، اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاشرتی ماحول سے واقف کرانا ہو گا، اس کے بغیر ان کے دین کے ساتھ وابستہ رہنے کا اور کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے اور اس حوالہ سے قیامت کے دن بچوں کے بارے میں والدین سے پوچھا جائے گا اور ہم اس کے ذمہ دار قرار پائیں گے۔
تحفظِ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا جو اس سلسلہ میں ہمارا سب سے بڑا مورچہ ہے کہ عالمی حلقے اور اقوام متحدہ کے ادارے مسلسل ہم سے یہ تقاضہ کر رہے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین کو جرم قرار دے کر بہت سی مسلمان حکومتوں نے اس پر اپنے قانونی نظام میں جو سزائیں طے کر رکھی ہیں انہیں ختم کیا جائے، کیونکہ ان عالمی حلقوں کے بقول یہ مسئلہ حقوق کے دائرے میں آتا ہے کہ کسی بھی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرنا ہر شخص کا حق ہے جس سے اسے روکنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
میری گزارش یہ ہے کہ خود اقوام متحدہ کے عالمی منشور اور قوانین کے مطابق عزتِ نفس کا تحفظ دنیا کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور دنیا کے ہر ملک میں یہ قانون موجود ہے کہ کوئی شخص دوسرے شخص کی توہین نہیں کر سکتا اور نہ اس کی معاشرتی حیثیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو وہ مجرم قرار پائے گا اور دنیا کے ہر ملک میں اس کے لیے کوئی نہ کوئی سزا مقرر ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی سامنے رکھیں کہ یہ فرق بھی دنیا کے ہر ملک کے قوانین میں موجود ہے کہ جس شخص کی توہین کی گئی ہے اس کی سزا اس شخصیت کے مقام و مرتبہ کے حساب سے دی جائے گی، مثلاً پاکستان کے قوانین میں عام شہری کی توہین جرم ہے اور اس کی سزا مقرر ہے، اسی طرح بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کی توہین بھی جرم ہے اور اس کی سزا بھی مقرر ہے، مگر یہ دونوں سزائیں برابر نہیں ہیں، عام شہری کی توہین کی سزا اور ہے اور قائد اعظم کی توہین کی سزا اس سے مختلف ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ توہین پر سزا میں فرقِ مراتب کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
اس تناظر میں پوری دنیا میں یہ سوال ہوتا ہے کہ اگر عام شہری کی توہین جرم ہے تو حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام و اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین کیوں جرم نہیں ہے؟ اور ان کی توہین جرائم کی فہرست سے نکل کر حقوق کی فہرست میں کیسے شامل ہو گئی ہے؟ اس سلسلہ میں ایک یورپی عدالت کا فیصلہ بھی موجود ہے کہ عام شہری کی توہین قابلِ سزا جرم ہے مگر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین دوہرا جرم ہے، اس لیے کہ توہین تو جرم ہے ہی، مگر اس سے اس شخصیت کے لاکھوں اور کروڑوں عقیدت مندوں کے جذبات مجروح ہونا مستقل جرم ہے، اس لیے یہ دوہرا جرم ہے۔
اس بنیاد پر عالمی اداروں، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی حلقوں سے ہمارا یہ اصولی مطالبہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین کو قابلِ سزا جرم تسلیم کیا جائے ۔ اس سلسلہ میں مسلم حکومتوں کو بین الاقوامی فورموں پر محنت کرنی چاہیے اور اسے اقوام متحدہ اور دیگر اداروں سے تسلیم کرانے کا راستہ ہموار کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

