حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی قبر کی بے حرمتی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۰۷ء

اخبارات میں ان دنوں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کی قبر کی بے حرمتی کے حوالہ سے احتجاج کی خبریں اور بیانات شائع ہو رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ تھانہ بھون (انڈیا) میں حضرت تھانویؒ کی قبر کی کچھ انتہا پسند ہندوؤں نے بے حرمتی کی ہے جس پر احتجاج کیا جا رہا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعہ کا سرکاری طور پر نوٹس لے اور سفارتی ذرائع سے انڈیا حکومت سے اس سلسلہ میں باقاعدہ احتجاج کرے۔

قبر کی بے حرمتی کی کوئی مذہب بھی اجازت نہیں دیتا اور مرنے کے بعد انسان کی قبر یا اس کے نشانات کے احترام کا تصور تمام اقوام میں پایا جاتا ہے، جبکہ حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ ایک برگزیدہ علمی، دینی اور روحانی شخصیت ہیں جن کے ساتھ جنوبی ایشیا کے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی عقیدت وابستہ ہے۔ جنوبی ایشیا کی سیاسی، علمی و روحانی تاریخ میں حضرت تھانویؒ کو نمایاں ترین مقام حاصل ہے اور انہیں تحریک پاکستان کے ان سرپرستوں میں شمار کیا جاتا ہے جن کے بارے میں تحریک پاکستان کے قائدین کا یہ اعتراف ریکارڈ میں موجود ہے کہ اگر حضرت تھانویؒ جیسے علماء کی سرپرستی حاصل نہ ہوتی تو تحریک پاکستان کا کامیابی کی منزل سے ہمکنار ہونا مشکل تھا۔

اس لیے حضرت تھانویؒ کی قبر کی بے حرمتی پر احتجاج جنوبی ایشیا کے کروڑوں مسلمانوں کے محبوب روحانی پیشوا ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک پاکستان کے سرپرست ہونے کے حوالہ سے بھی حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتا ہے اور ہم اس افسوسناک واقعہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

درجہ بندی: