دینی مدارس ۔ پس منظر اور موجودہ کردار

  1. دینی مدارس کی ضرورت
  2. دینی مدارس کا تعلیمی اور انتظامی پس منظر
  3. دینی مدارس پر چند نمایاں اعتراضات

دینی مدارس کی ضرورت

اہل اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے انفرادی و اجتماعی اور شخصی و معاشرتی تمام معاملات میں وحی الٰہی کے پابند ہیں۔ اور اخروی نجات کے ساتھ ساتھ ان کی دنیوی کامیابی اور فلاح بھی آسمانی تعلیمات کی پیروی پر موقوف ہے۔ اہل اسلام حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام پیغمبروں کی تعلیمات کو حق مانتے ہیں اور ان پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ جناب محمد رسول اللہؐ کی تعلیمات تمام انبیاء کرامؑ کی تعلیمات کا نچوڑ و خلاصہ ہیں اور قرآن کریم وحی الٰہی کا فائنل اور مکمل ایڈیشن ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں جو معروضی حقائق سے مکمل مطابقت رکھتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات اور وحی الٰہی کا صرف وہی حصہ تاریخ کے ریکارڈ میں مکمل طور پر محفوظ ہے جو قرآن کریم اور جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات و تعلیمات پر مشتمل ہے۔ جبکہ اس کے سوا اللہ تعالیٰ کے کسی پیغمبر پر نازل ہونے والی وحی اور اس کی اپنی تعلیمات اس وقت دنیا میں کہیں بھی محفوظ حالت میں موجود نہیں ہیں۔ اس لیے آج جو شخص یا قوم بھی آسمانی تعلیمات کو اپنی زندگی کے معاملات میں راہنما بنانا چاہتا ہے اس کے لیے قرآن کریم اور اسوۂ محمدؐ کی طرف رجوع کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

اہل اسلام یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ چونکہ آسمانی تعلیمات ہی نسل انسانی کی صحیح راہنمائی کی ضامن ہیں، اور انسان محض اپنی انفرادی یا اجتماعی عقل و خواہش کی بنیاد پر مسائل حل کرنے اور مثالی انسانی سوسائٹی تشکیل دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور چونکہ دنیا کے تمام مذاہب میں صرف اسلام ہی آسمانی تعلیمات کو مکمل او رمحفوظ حالت میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، اس لیے اہل اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود اپنی انفرادی اور معاشرتی زندگی میں قرآن و سنت پر مکمل طور پر عمل کریں بلکہ دنیا کی دوسری اقوام کے سامنے بھی اسلامی تعلیمات کو پیش کریں۔ اور انہیں دعوت دیں کہ وہ محض انسانی عقل و خواہش پر بھروسہ کرنے کی بجائے وحی الٰہی کی بالاتر راہنمائی کو قبول کریں اور آسمانی تعلیمات کے محفوظ ترین اور فائنل ایڈیشن قرآن و سنت کی طرف رجوع کر کے انسانی سوسائٹی کو عقل و خواہش کی بے لگام پیروی سے نجات دلائیں، تاکہ دنیا کی انسانی آبادی مجموعی طور پر فطری قوانین اور نظام کے تحت امن و خوشحالی کی حقیقی منزل سے ہمکنار ہو سکے۔

اس پس منظر میں ہر مسلمان اور عورت کا قرآن و سنت کی تعلیمات سے آراستہ ہونا اس کے دینی فرائض میں شامل ہے۔ اور مسلمانوں کی مذہبی قیادت اسے اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے کہ وہ ہر مسلمان خاندان اور فرد کو ضروری دینی تعلیمات سے بہرہ ور کرنے کے لیے جو کچھ اس کے بس میں ہو کر گزرے اور اس معاملہ میں کوئی کوتاہی روا نہ رکھے۔

دینی مدارس کا تعلیمی و انتظامی پس منظر

بیشتر مسلم ممالک پر برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، پرتگال اور دیگر استعماری قوتوں کے تسلط سے قبل ان ممالک میں دینی تعلیمات کے فروغ کو ریاستی ذمہ داری شمار کیا جاتا تھا۔ اور ہر مسلمان حکومت اپنے ملک کے باشندوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات اور دینی احکام و فرائض سے آگاہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتی تھی جس کے لیے ہر ریاستی نظام میں خاطر خواہ بندوبست موجود ہوتا تھا۔ مگر جب استعماری قوتوں نے مختلف حیلوں اور ریشہ دوانیوں سے مسلم ممالک کے اقتدار پر قبضہ کر کر کے ان ملکوں کے نظام تبدیل کیے تو دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبہ میں بھی تبدیلی کر کے مسلم عوام کو دینی تعلیم کے صدیوں سے چلے آنے والے تسلسل سے محروم کر دیا۔ اس صورتحال میں آسمانی تعلیمات کے تحفظ، دینی تعلیمات کے فروغ، اور مسلم عوام کو قرآن و سنت کی تعلیمات و احکام سے آراستہ کرنے کی ذمہ داری کو اپنا بنیادی اور ناگزیر فریضہ سمجھتے ہوئے مسلمانوں کی مذہبی قیادت نے اس کے لیے امداد باہمی کی بنیاد پر رضاکارانہ اور پرائیویٹ تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی جو آج مختلف مسلم ممالک بالخصوص جنوبی ایشیاء کے ممالک میں ہزاروں بلکہ لاکھوں دینی مدارس کی شکل میں موجود ہے۔ برصغیر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں مغل حکومت کے دور میں ’’درس نظامی‘‘ کا یہی نصاب ملک کا سرکاری نصاب تعلیم تھا جو آج ضروری ترامیم اور تبدیلیوں کے ساتھ اسی نام سے دینی مدارس میں رائج ہے۔

درس نظامی ۔ دینی مدارس کا تعلیمی نصاب

اس نصاب کو ’’درس نظامی‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ملا نظام الدین سہالویؒ نے، جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے معاصرین میں سے تھے، کئی نسلوں سے پڑھائے جانے والے تعلیمی نصاب کو باقاعدہ اور مربوط نصاب کی شکل دی تھی۔ اس کے بعد یہ نصاب انہی کے نام سے موسوم ہوگیا۔ اس نصاب میں بنیادی طور پر مندرجہ ذیل علوم شامل ہیں۔

  1. قرآن کریم اور حدیث رسولؐ۔ ترجمہ و تشریح کے ساتھ۔
  2. صرف و نحو اور عربی ادب و گرامر کے دیگر فنون۔ تاکہ قرآن و سنت تک براہ راست رسائی آسان ہو۔
  3. فقہ اسلامی۔ تاکہ قرآن و سنت سے مستنبط احکام و قوانین سے آگاہی ہو۔
  4. یونانی منطق و فلسفہ۔ تاکہ اس منطق و فلسفہ کے عروج اور عملداری کے دور میں لکھے گئے اسلامی لٹریچر کے وسیع ذخیرہ تک رسائی ممکن ہو۔
  5. علم کلام۔ تاکہ دیگر مذاہب کے ساتھ اسلامی عقائد کا فرق اور عقائد کے حوالہ سے مسلمان فرقوں کی تعبیرات کا باہمی فرق ذہنوں میں واضح ہو۔
  6. ریاضی اور حساب۔ تاکہ باہمی لین دین اور حساب کتاب کو نمٹانا آسان ہو۔
  7. فارسی زبان جو کہ مغل دور کی سرکاری زبان تھی اور درس نظامی کے نصاب کا لازمی حصہ تھی۔ تاکہ دفتری اور سرکاری امور میں بلا جھجھک شرکت ہو سکے۔
  8. کتابت و تحریر۔ تاکہ لکھنا پڑھنا آسان ہو۔

اس طرح ایک مہذب اور منظم سوسائٹی میں تعلیم کے تمام ضروری تقاضے مثلاً خواندگی، دفتری زبان، مروجہ قوانین، مذہبی زبان، عقائد و نظریات، کلچر و ثقافت، اسلامی لٹریچر تک رسائی، حساب و کتاب، اور قرآن و سنت کی تعلیمات سے آگاہی تک کے سب اہم اور ناگزیر امور اس نصاب کے اندر سمو دیے گئے تھے۔ ملک کی عام آبادی کے لوگ مسلم اور غیر مسلم سب یہی نصاب پڑھتے تھے اور اسی نصاب کی بنیاد پر انتظامی، عدالتی، اور مالیاتی شعبوں میں تمام مناصب تک پہنچتے تھے۔ مگر جب برطانوی استعمار نے مغل حکومت سے اقتدار چھین کر اس خطہ میں اپنی حکومت قائم کر لی اور انتظامی، مالیاتی، اور عدالتی نظام کو یکسر بدل دینے کے ساتھ ساتھ سرکاری زبان بھی فارسی کی بجائے انگریزی مقرر کر دی تو اجتماعی اور ریاستی معاملات سے لاتعلق ہونے کی وجہ سے درس نظامی کی بنیاد پر چلنے والا یہ پورا نصاب و نظام بے مصرف ہو کر رہ گیا اور اس کی جگہ نئے حکمرانوں کے نافذ کردہ جدید تعلیمی نظام نے لے لی۔

دینی مدارس کا قیام

اس خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے کچھ مردانِ خیر نے مسجد و مدرسہ کے معاشرتی کردار کو بحال رکھنے کی حد تک درس نظامی کے اس سسٹم کو بہرحال قائم رکھنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے رضاکارانہ عوامی چندہ اور امداد باہمی کے اصول کو بنیاد بنا کر پرائیویٹ دینی مدارس کے قیام کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ابتداء میں دیوبند، سہارنپور، مراد آباد، اور دیگر چند شہروں میں دینی مدارس قائم ہوئے۔ لیکن یہ ضرورت چونکہ پورے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی مشترکہ ضرورت تھی اس لیے ایک قابل عمل مثال سامنے آتے ہی ملک کے طول و عرض میں اس قسم کے دینی مدارس کا ایک جال بچھ گیا۔ ان مدارس کا نصاب بنیادی طور پر وہی چلا آرہا ہے جس کا تذکرہ سطور بالا میں درس نظامی کے حوالہ سے کیا گیا ہے۔ مگر اسے بے لچک اور جامد نصاب کے طور پر نہیں اختیار کیا گیا بلکہ ہر دور میں اجتماعی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اس میں مناسب تبدیلیاں بھی کی گئیں اور ان تبدیلیوں کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ تاہم تعلیمی نصاب اور نظام کے حوالہ سے ان مدارس کے ارباب حل و عقد نے بعض ناگزیر تحفظات کے پیش نظر دو باتوں کو بنیادی پالیسی کے طور پر اختیار کیا۔ اور یہی دو باتیں عالم اسباب میں ان مدارس کے نظام میں استحکام اور ان کے جداگانہ تشخص و امتیاز کی بقا کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوئیں۔

  1. مالیاتی امور میں مدارس کے اس نظام نے ریاستی اداروں سے مکمل بے نیازی کا رویہ اختیار کیا۔ سرکاری امداد کسی صورت میں قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور نہ ہی کسی سطح پر سرکاری مداخلت کو در آنے کا موقع فراہم کیا۔ ان مدارس نے اپنے اخراجات اور مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے عوام کے صدقات، زکوٰۃ، عطیات، اور چندے کی دیگر صورتوں پر بھروسہ کیا اور قناعت و بے نیازی کے ساتھ بہت تھوڑے خرچ سے کام چلایا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی بھی حکومت ان مدارس کے معاملات میں مداخلت کے لیے راہ نہ پاسکی اور یہ مدارس پوری آزادی اور خود مختاری کے ساتھ اپنے کام میں مصروف رہے۔
  2. ان مدارس نے شعوری طور پر یہ پالیسی اختیار کی کہ ان کے فارغ التحصیل علماء کی غالب اکثریت مسجد و مدرسہ کے سوا کسی اور شعبۂ زندگی میں نہ کھپ سکے۔ اسی وجہ سے یہ مدارس جدید تعلیم کو اپنے نصاب میں پوری طرح شامل کرنے سے اب تک گریزاں ہیں۔ کیونکہ انہیں بجا طور پر یہ خطرہ ہے کہ اگر ان کے تربیت یافتہ افراد بھی مسجد و مدرسہ کے نظام کا حصہ بننے کی بجائے دوسرے شعبوں میں چلے جائیں گے تو مسجد و مدرسہ کے لیے امام اور استاد فراہم کرنے کا کام پھر سے ادھورا رہ جائے گا۔ اور وہ خلاء بدستور موجود رہے گا جس کو پر کرنے کے لیے دینی مدارس کا یہ سلسلہ شروع کیا گیا تھا، اور اس طرح پرائیویٹ دینی مدارس کے اس نظام کا بنیادی مقصد ہی فوت ہو کر رہ جائے گا۔

ان مدارس کے نصاب میں انگریزی زبان اور دیگر جدید علوم و فنون کو داخل نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان مدارس کے ارباب حل و عقد انگریزی زبان کو ناجائز سمجھتے تھے، جیسا کہ بعض حلقوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ کیونکہ انگریزی کو بطور زبان سیکھنے کے جواز کا فتویٰ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے اس دور میں دے دیا تھا جبکہ ابھی دہلی پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی۔ اور یہ فتویٰ آج بھی فتاویٰ عزیزی میں موجود ہے۔ اسی طرح یہ علماء جدید سائنسی علوم کے بھی مخالف نہیں تھے بلکہ وہ عام مسلمانوں کو ان کے حصول کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔ البتہ یہ ضرور چاہتے تھے کہ دینی مدارس سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے علماء مسجد و مدرسہ کے ماحول تک محدود رہیں اور یہاں سے نکل کر زندگی کے دوسرے شعبوں میں نہ کھپ جائیں تاکہ وہ خلاء دوبارہ عود نہ کر آئے جو برطانوی حکومت کی طرف سے درس نظامی کے مدارس کو ختم کرنے سے پیدا ہوگیا تھا۔ اور جس خلاء کو پر کرنے کے لیے یہ دینی مدارس پرائیویٹ سطح پر کامیاب کوشش کر رہے تھے۔

مگر ان بنیادی تحفظات کے باوجود دینی مدارس نے اپنے نصاب میں ضروری تبدیلیوں اور ترامیم سے کبھی گریز نہیں کیا اور ہر دور میں نصاب میں رد و بدل کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ مثلاً

  • مغل دور میں درس نظامی کے نصاب میں حدیث نبویؐ کی صرف ایک کتاب ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ شامل تھی۔ جبکہ اس کے بعد صحاح ستہ یعنی بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، اور ابن ماجہ کے ساتھ موطا امام مالک اور دیگر کتب احادیث بھی شامل نصاب کی گئیں۔
  • مختلف فنون میں پرانی کتابوں کی جگہ نئی کتابیں شامل کی گئی ہیں بلکہ بعض کتابیں بطور خاص اس مقصد کے لیے لکھوائی گئیں۔
  • سینکڑوں دینی مدارس کے ساتھ مڈل اور ہائی سکول کی سطح پر عصری تعلیم کے سکول قائم ہیں۔ جبکہ انگریزی اور ریاضی جیسے ضروری مضامین بنیادی ضرورت کی حد تک خود درس نظامی کے نصاب میں بھی شامل کر لیے گئے ہیں۔
  • امتحانات کے نظام کو باہمی طور پر مربوط بنانے کے لیے مختلف بورڈ ملکی سطح پر قائم ہیں جو جدید اسلوب اور معیار کے مطابق امتحانات کا نظام مرتب کرتے ہیں، ان کی نگرانی کرتے ہیں، امتحانات کے لیے پرچے تیار کیے جاتے ہیں، ان کی مارکنگ ہوتی ہے، رزلٹ جاری کیے جاتے ہیں اور ملک گیر سطح پر امتحانات کے نظام میں یکسانیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
  • بہت سے بڑے مدارس نے مختلف مضامین میں تخصص (پی ایچ ڈی) کے شعبے قائم کر رکھے ہیں جن میں افتاء، دعوت و ارشاد، اور تقابل ادیان کے مضامین بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
  • ان مدارس کی اسناد کو مختلف سطحوں پر یونیورسٹی گرانٹس کمیشن آف پاکستان نے تسلیم کیا ہے۔ ان مدارس کے فضلاء بیرون ملک معروف تعلیمی اداروں بالخصوص جامعہ ازہر قاہرہ، مدینہ یونیورسٹی، اور دیگر بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور امتیازی پوزیشن سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔

دینی مدارس کا معاشرتی کردار

اس تناظر میں ان دینی مدارس کی معاشرتی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو اس کا سرسری خاکہ کچھ اس طرح سامنے آتا ہے کہ

  1. ملک کے لاکھوں نادار افراد کو نہ صرف تعلیم سے بہرہ ور کرتے ہیں بلکہ ان کی ضروریات مثلاً خوراک، رہائش، علاج، اور کتابوں وغیرہ کی کفالت بھی کرتے ہیں۔
  2. معاشرہ میں بنیادی تعلیم اور خواندگی کے تناسب میں معقول اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔
  3. قرآن و سنت کی تعلیم اور دینی علوم کی اشاعت و فروغ کا باعث بنتے ہیں۔
  4. عام مسلمانوں کو عبادات، دینی رہنمائی، اور مذہبی تعلیم کے لیے رجال کار فراہم کرنے کا واحد ذریعہ ہیں۔
  5. عام مسلمانوں کے عقائد، عبادات، اخلاق، اور مذہبی کردار کا تحفظ کرتے ہیں اور دین کے ساتھ ان کا عملی رشتہ قائم رکھے ہوئے ہیں۔
  6. اسلام کے خاندانی نظام اور کلچر و ثقافت کی حفاظت کر رہے ہیں، اور غیر اسلامی ثقافت و کلچر کی یلغار کے مقابلہ میں مسلمانوں کے لیے مضبوط حصار کی حیثیت رکھتے ہیں۔
  7. اسلامی عقائد و احکام کی اشاعت کرتے ہیں اور ان کے خلاف غیر مسلم حلقوں کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات و شبہات کا جواب دیتے ہیں۔
  8. اسلام کی بنیادی تعلیمات اور عقائد و احکام سے انحراف اور بغاوت کا مقابلہ کرتے ہیں اور مسلمانوں کی ’’راسخ العقیدگی‘‘ کا تحفظ کرتے ہیں۔
  9. مادہ پرستی، مفادات، خود غرضی، اور نفسانفسی کے اس دور میں قناعت، ایثار، اور سادگی کی روحانی اقدار کو مسلمانوں کے ایک بہت بڑے حصے میں باقی رکھے ہوئے ہیں۔
  10. وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کے مکمل اور محفوظ ذخیرہ کی نہ صرف حفاظت کر رہے ہیں بلکہ سوسائٹی میں اس کی عملی تطبیق کا نمونہ بھی باقی رکھے ہوئے ہیں۔ تاکہ نسل انسانی کے وہ سلیم الفطرت لوگ جو ’’عقل و خواہش‘‘ کی مطلق العنانی کے تلخ اور تباہ کن معاشرتی نتائج کو محسوس کرتے ہیں اور جن کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، انہیں وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کے حقیقی سرچشمہ تک رسائی میں کوئی دقت نہ ہو۔ اس طرح یہ مدارس صرف مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ پوری نسل انسانی کی خدمت کر رہے ہیں اور اس کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں۔

دینی مدارس پر چند نمایاں اعتراضات

اس موقع پر ضروری محسوس ہوتا ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ سسٹم کے بارے میں عام طور پر کیے جانے والے چند سوالات کا بھی جائزہ لے لیا جائے تاکہ ان مدارس کے ناقدین کا موقف اور ان کی حقیقت بھی سامنے آجائے۔ مثلاً

  1. یہ مدارس بنیاد پرستی کو فروغ دے رہے ہیں جو گلوبلائزیشن کے اس دور میں ملٹی نیشنل کلچر اور مشترکہ عالمی معاشرے کی تشکیل میں رکاوٹ ہے۔
  2. ان مدارس کے تعلیم یافتہ حضرات مختلف جہادی تحریکات میں عسکری خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اس طرح یہ مدارس دہشت گردی کے فروغ کا باعث ہیں۔ نیز ان مدارس میں تعلیم کے ساتھ عسکری ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔
  3. قومی سطح پر مدارس اجتماعی دھارے میں شامل ہونے کی بجائے الگ تشخص قائم رکھنے پر مصر ہیں اور مروجہ ریاستی نظام تعلیم کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ قبول نہیں کر رہے جس کی وجہ سے قوم میں ’’دو ذہنی‘‘ کی فضا موجود ہے اور یہ دوہرا نظام قومی یکجہتی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

دینی مدارس اور بنیاد پرستی

جہاں تک بنیاد پرستی کا تعلق ہے، اگر اس سے مراد یہ ہے کہ مدارس عام مسلمانوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے وابستہ رکھے ہوئے ہیں جس کی بدولت مسلم معاشرہ میں اس سولائزیشن کے فروغ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے جو مذہب کے اجتماعی کردار کی نفی کرتے ہوئے سوسائٹی کی اجتماعی عقل و خواہش کی بنیاد پر سیکولر ثقافت کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کے درپے ہے، تو دینی مدارس کو اس الزام کے قبول کرنے سے کوئی انکار نہیں ہے۔ بلکہ وہ اسے اپنے لیے الزام کی بجائے اعزاز اور کریڈٹ سمجھتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں کہ ان کے اس کردار کی اثر خیزی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

دینی مدارس کا بنیادی موقف ہی یہ ہے کہ انسانی سوسائٹی کی راہنمائی اور قیادت کے لیے انفرادی یا اجتماعی عقل و خواہش کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کی نگرانی اور بالادستی ضروری ہے۔ اور اس سے ہٹ کر اباحیت مطلقہ اور ہمہ نوع آزادی کی بنیاد پر جو کلچر ’’گلوبل سولائزیشن‘‘ کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے وہ سراسر غلط ہے، گمراہی ہے، اور نسل انسانی کو مزید تباہی و انارکی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ اگر دینی مدارس اس موقف میں لچک پیدا کر لیں تو خود ان کا مقصد وجود ختم ہو کر رہ جاتا ہے اور ان کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ اس لیے اس معاملہ میں دینی مدارس کسی قسم کی کوئی لچک قبول کرنے کے روادار نہیں ہیں۔

دینی مدارس اور جہادی تحریکات

دوسرا سوال جہادی اور عسکری تحریکات میں دینی مدارس کے طلباء کی کثرت کے ساتھ شمولیت کے بارے میں ہے۔ اس سلسلہ میں دو مسئلے قطعی طور پر الگ الگ ہیں۔

ایک مسئلہ جہاد کے بارے میں شرعی احکام اور قرآن و سنت کے فرمودات کی تعلیم کا ہے۔ یہ تعلیم یقیناً ان مدارس میں ہوتی ہے اور اسی طرح ہوتی ہے جس طرح قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے باقی شعبوں کی ہوتی ہے۔ یہ دینی تعلیمات کا حصہ ہے اور کسی دینی ادارے کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ قرآن و سنت کی دیگر تعلیمات کا تو اپنے ہاں اہتمام کرے مگر جہاد سے متعلقہ آیات قرآنی، احادیث نبویؐ، اور فقہی ابواب کو صرف اس لیے نصاب سے خارج کر دے کہ دنیا کے کچھ حلقے اس سے ناراض ہوتے ہیں۔

دوسرا مسئلہ جہاد کی عملی تربیت اور عسکری ٹریننگ کا ہے۔ یہ ان مدارس میں کسی سطح پر نہیں ہوتی اور نہ ہی ان مدارس میں ایسا کوئی نظام موجود ہے جو طلبہ کو اس طرح کی ٹریننگ دیتا ہو۔ حتیٰ کہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں این سی سی طرز کی جو نیم فوجی تربیت عام طلبہ کو دی جاتی ہے، دینی مدارس کے نظام میں وہ بھی باضابطہ طور پر موجود نہیں ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ دینی مدارس اپنے طلبہ کو عسکری ٹریننگ دیتے ہیں۔ البتہ دینی مدارس کے طلبہ یہاں سے فارغ ہو کر یا چھٹیوں کے دوران اپنی آزادانہ مرضی سے کسی دباؤ کے بغیر جہادی تحریکات کے مراکز میں جاتے ہیں، ٹریننگ حاصل کرتے ہیں، اور کسی نہ کسی محاذ پر جہاد میں شریک بھی ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا مدارس کے نظام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ٹریننگ کے یہ مراکز مدارس کے سسٹم میں شامل ہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے سرکاری اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ ہزاروں نوجوان مختلف عسکری تنظیموں میں شامل ہو جاتے ہیں جن میں جہادی تحریکات بھی ہیں، لسانی گروپ بھی ہیں، علاقائی تنظیمیں بھی ہیں، اور طبقاتی گروہ بھی ہیں، حتیٰ کہ ڈکیتی اور رہزنی کے گینگ بھی ان میں شامل ہیں۔ یہ نوجوان بھی مختلف ٹریننگ سنٹروں میں عسکری تربیت حاصل کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں، لیکن ان میں سے کسی گروہ کی کارروائیوں کا ذمہ دار ان کے تعلیمی اداروں کو قرار نہیں دیا جاتا بلکہ انہیں ان کے ذاتی فعل اور پسند پر محمول کیا جاتا ہے۔ بالکل ایسے ہی دینی مدارس کے طلبہ بھی اگر تعلیمی نظام اور ڈسپلن سے ہٹ کر جہادی تحریکات میں شامل ہوتے ہیں اور عسکری تربیت حاصل کر کے کسی کارروائی میں حصہ لیتے ہیں تو ان کے لیے دینی مدارس کو ذمہ دار قرار دینا قرین انصاف نہیں ہے۔

دینی مدارس اور اجتماعی قومی دھارا

تیسرا سوال قومی اجتماعی دھارے سے الگ رہنے اور جداگانہ تشخص قائم رکھنے کا ہے۔ اس سلسلہ میں گزارش ہےکہ اس کا تعلق بھی ان مدارس کے مقصد وجود سے ہے۔ کیونکہ جب تک ریاستی نظام ہمارے معاشرہ میں دینی تعلیمات کے فروغ، مساجد کے لیے ائمہ کی فراہمی، دینی رہنمائی کے لیے علماء کی تیاری، اور قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے اساتذہ مہیا کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور اس کے لیے قابل قبول عملی نظام پیش نہیں کرتا اس وقت تک ان مدارس کے قیام و وجود کی ضرورت بہرحال باقی رہے گی۔ ورنہ وہی خلاء پیدا ہو جائے گا جس کو پر کرنے کے لیے مدارس قائم کیے گئے تھے اور اس خلاء کو باقی رکھنے کا کوئی باشعور مسلمان رسک نہیں لے سکتا۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے نہ صرف ان مدارس کا وجود ضروری ہے بلکہ ان کی اس مالیاتی خودمختاری، انتظامی آزادی، اور نصابی تحفظات کا برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے جس کے بغیر یہ اپنا کردار اعتماد کے ساتھ ادا نہیں کر سکتے۔
اس لیے دینی مدارس کے جداگانہ تعلیمی نظام اور معاشرہ میں ’’دو ذہنی‘‘ اور ’’تعلیمی دوئی‘‘ کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری ریاستی نظام پر عائد ہوتی ہے جو اس کردار کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جو ان مدارس کے جداگانہ وجود کا باعث ہے۔ مگر ان مدارس کو اجتماعی دھارے میں شامل کرنے کی خواہش کا مسلسل اظہار کرنے کا منطقی نتیجہ معاشرہ میں دینی تعلیم کے اس نظام کو یکسر ختم اور بے اثر کر دینے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ چنانچہ مدارس دینیہ کے خلاف اس مسموم فضا میں وہ حق پسند و حقیقت پسند حضرات قابل تحسین ہیں جو ان کی ضرورت و افادیت اور خدمات کے نہ صرف معترف ہیں بلکہ ان مدارس کے ساتھ مالی و اخلاقی تعاون کرتے ہوئے اسلام کی آواز کو سربلند کرنے میں برابر کے حصہ دار ہیں۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۲۴ جولائی ۲۰۰۲ء