برما کے مظلوم مسلمانوں کی جدوجہد

   
۱۷ جنوری ۱۹۹۹ء

گزشتہ روز برما کے علاقہ اراکان سے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین گوجرانوالہ تشریف لائے اور ان سے اراکان کے ان مسلمانوں کے حالات کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا جو ایک عرصہ سے ریاستی جبر و تشدد کا مسلسل نشانہ بنے ہوئے ہیں اور اب وہاں کے بہت سے نوجوانوں اور علماء نے اپنے دینی تشخص کے تحفظ اور آزادی کے حصول کے لیے ’’حرکۃ الجہاد الاسلامی‘‘ کے نام سے تحریک شروع کر رکھی ہے۔ ان صاحب نے حالات کا کچھ تذکرہ کیا اور اس کے ساتھ ایک کتابچہ دیا جس کا عنوان ہے ’’برمی جمہوریت اپنے مظالم کے آئینے میں‘‘۔ یہ کتابچہ اراکان سے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین مولانا مفتی عبد الشکور کا تحریر کردہ ہے جو حرکۃ الجہاد الاسلامی اراکان برما کے ناظم اعلٰی ہیں اور ان دنوں بنگلہ دیش میں نہیلہ کے مقام پر جامعہ دارالسنتہ میں حدیث نبویؐ کے استاذ کی حیثیت سے فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ کتابچہ اردو میں ہے اور پاکستان میں اسے غنی بک ڈپو برمی کالونی ۳۶ جی لانڈھی کراچی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کتابچہ میں جو معلومات فراہم کی گئی ہیں ان میں سے چند ایک کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

جنگ عظیم دوم کے بعد برما کو آزادی دینے کا فیصلہ ہوا اور آزادانہ الیکشن کرائے گئے تو جنرل اونگ سان کی راہ نمائی میں ملک کا دستور مرتب کیا گیا مگر اس دستور میں مسلمانوں کے حقوق کا کسی حوالہ سے بھی کوئی ذکر نہیں ہوا۔ حالانکہ مسلمان برما میں خاصی تعداد میں موجود ہیں، اراکان صوبہ میں ان کی اکثریت ہے اور انہوں نے تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ حتیٰ کہ اس الیکشن میں اراکان سے پارلیمنٹ کے دو مسلم ممبر جناب سلطان احمد بی اے اور مسٹر عبد الغفار بی اے منتخب ہوئے مگر انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے اجلاس میں شریک ہی نہیں ہونے دیا گیا اور اس دوران مسلمانوں نے دستور سازی کے سلسلہ میں جو مطالبات پیش کیے تھے انہیں بالکل نظر انداز کر دیا گیا۔

آزادی کے بعد حکومت نے زمینیں سرکاری تحویل میں لینے کی آڑ میں سینکڑوں دینی مدارس اور مساجد کی وقف زمینیں ضبط کر لیں جن میں منگڈو جامع مسجد کی بہت بڑی زمین بھی شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں اکثر مسجدیں ویران اور مدارس بند ہوگئے۔ جنوبی منگڈو میں جامعہ اشرف العلوم کے نام سے ایک بڑا دینی ادارہ تھا جس سے فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں حفاظ و علماء اور مبلغین دینی خدمات میں مصروف تھے، اسے نذر آتش کر دیا گیا اور جامعہ کی بلڈنگ کے ساتھ کروڑوں روپے کی مالیت کا عظیم الشان کتب خانہ بھی جل کر راکھ ہوگیا۔

شمالی منگڈو میں مسلمانوں کی ’تولاتولی‘‘ نامی بستی کے باشندوں کی تمام زمینیں چھین کر غیر مسلموں میں تقسیم کر دیں، بستی کا نام تبدیل کر دیا اور مسلمانوں کو دربدر کر دیا جس سے مسجدیں ویران ہوگئیں، مدارس اجڑ گئے اور لوگ ترک وطن پر مجبور ہوگئے، حتیٰ کہ وہ بستی ہی اب ویران ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کی گنجان آبادیوں کے درمیان طے شدہ پروگرام کے تحت غیر مسلموں کو بسایا گیا اور مسلمانوں سے زمینیں چھین کر ان میں تقسیم کی گئیں جس سے بہت سے علاقوں کے مسلمان ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے اور اس طرح مسلمانوں کی اجتماعیت کو جان بوجھ کر بکھیر دیا گیا۔

مسلم اکثریت کا علاقہ اراکان چاول کی کاشت کا علاقہ تھا اور اس کا دارالحکومت ’اکیاب‘‘ ایک دور میں رائس ملوں کا شہر کہلاتا تھا مگر جنرل نیون کی حکومت نے بتدریج ایسی پالیسیاں اختیار کیں جن کی وجہ سے چاول کی بین الاقوامی شہرت رکھنے والی یہ منڈی سنسان ہوگئی۔

اراکان اور برما کے دیگر حصوں میں آباد روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں یہ پراپیگنڈا شروع کیا گیا کہ یہ برما کے اصل باشندے نہیں ہیں اس لیے انہیں برما سے چلے جانا چاہیے۔ اور اس کے بعد مسلسل ایسی پالیسیاں اختیار کی جاتی رہیں جن کے باعث روہنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد وطن چھوڑنے پر مجبور ہوگئی اور مختلف مسلمان ملکوں میں پناہ گزین ہوئی۔

آبادی کے تناسب کے بارے میں اعداد و شمار کے حوالہ سے کتابچہ میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۳۱ء کی مردم شماری میں برما کی کل آبادی ایک کروڑ چھیالیس لاکھ ستاسٹھ ہزار کے لگ بھگ تھی اور اس میں مسلمانوں کی تعداد ۵ لاکھ پچاسی ہزار کے قریب بتائی گئی ہے۔ جبکہ ۱۹۹۱ء کی مردم شمار میں برما کے صوبے اراکان کی آبادی بائیس لاکھ چھپن ہزار اور اس میں مسلمانوں کی تعداد چھ لاکھ ترانوے ہزار ظاہر کی گئی ہے۔ مگر مختلف ذرائع پر ہونے والی مردم شماریوں کو سامنے رکھتے ہوئے مصنف نے مجموعی نتیجہ یہ بتایا ہے کہ اراکان کی آبادی پینتالیس لاکھ کے لگ بھگ تھی جس میں سے پندرہ لاکھ کے قریب مسلمان ہجرت کر گئے اور اب وہاں اتنے ہی مسلمان باقی رہ گئے ہیں۔ جبکہ باقی تعداد بدھ مت اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی ہے۔ برما کی مجموعی آبادی کے بارے میں مصنف کا کہنا ہے کہ اس وقت چار کروڑ تیس لاکھ سے اوپر ہے جس میں ۲۷ فیصد مسلمان ہیں۔

یہ ایک ہلکا سا نقشہ ہے جس میں برما میں گزشتہ نصف صدی کے دوران مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی ایک جھلک پیش کی گئی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پس منظر میں اراکان کے کچھ علماء اور غیور مسلمانوں نے ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے مصداق اگر ہتھیار اٹھا لیے ہیں تو اسے دہشت گردی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دینی تشخص، مذہبی حقوق اور شہری آزادیوں کا تحفظ دنیا کی ہر قوم کا حق ہے اور اگر کسی ملک میں ریاستی جبر اس حد تک آگے بڑھ جائے تو ہتھیار اٹھانا بھی قوموں کا جائز حق بن جاتا ہے۔ اس لیے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اراکان کے مسلمانوں کی جدوجہد کی اسی طرح حمایت اور پشت پناہی کرنی چاہیے جس طرح اس کا حق بنتا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter