مشرف حکومت کے عبوری دستور میں اسلامی دفعات کی شمولیت

   
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۰۰ء

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے بالآخر دستورِ پاکستان کی اسلامی دفعات کو اپنے عبوری آئین کا حصہ بنانے کا اعلان کر دیا ہے، اور ان کے سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک اعلانیہ میں بتایا گیا ہے کہ

  1. قرارداد مقاصد،
  2. اسلام کو سرکاری مذہب قرار دینے،
  3. قرآن و سنت کے منافی دستور سازی کی ممانعت،
  4. وفاقی شرعی عدالت،
  5. اسلامی نظریاتی کونسل،
  6. قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے،
  7. اور ملکی قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کی ضمانت

کے حوالے سے دستور پاکستان کی اسلامی دفعات عبوری آئین کا حصہ ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے برسر اقتدار آنے کے بعد ان کی طرف سے دستورِ پاکستان کی معطلی اور عبوری دستوری آرڈر کے نفاذ کے ساتھ ہی ملک کے دینی حلقوں کی طرف سے یہ مطالبہ شروع ہو گیا تھا کہ دستور کی اسلامی دفعات کو عبوری آئین کا حصہ بنایا جائے۔ جس کے جواب میں جنرل پرویز مشرف اور ان کے رفقاء نے بارہا کہا کہ دستور کی اسلامی دفعات معطل نہیں ہیں، مگر دینی حلقوں نے اس وضاحت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، اور آخرکار چیف ایگزیکٹو نے دینی جماعتوں کے اس مطالبہ کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا، جس پر وہ پوری قوم کی طرف سے شکریہ اور تبریک کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک جائز اور اصولی بات کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا اور دینی حلقوں کے موقف کو قبول کر لیا ہے۔

جنرل صاحب موصوف کے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس ضمن میں ہم دو گزارشات پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں:

  1. ایک یہ کہ ہم یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اس اعلان سے ملک میں اسلامی نظام نافذ نہیں ہو جائے گا۔ اور قرآن و سنت کے نظام کے عملی نفاذ کے لیے ابھی جدوجہد کا طویل، جانگسل اور صبر آزما مرحلہ باقی ہے۔ لیکن اس اقدام سے اصولی طور پر ملک کی اسلامی نظریاتی حیثیت کا تحفظ ضرور ہو گیا ہے۔ اور اسی مقصد کے پیش نظر دینی حلقے اس پر سنجیدہ اور یک آواز ہو گئے تھے۔ بالخصوص اس پس منظر میں کہ جنرل پرویز مشرف کے برسراقتدار آنے سے بہت سے بین الاقوامی حلقے اور ملک کے اندر بیرونی سرمائے کے بل بوتے پر کام کرنے والی این جی اوز کو یہ امید ہو گئی تھی، اور ان کی طرف سے اس کا اظہار بھی ہونے لگا تھا کہ پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کے لیے ان کی مہم کو اب تقویت حاصل ہو گی۔ لیکن جنرل پرویز مشرف نے ان کی خواہشات اور توقعات کو مسترد کر دیا ہے، جو ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہونے کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لیے بلاشبہ ایک نیک شگون ہے۔
  2. دوسری گزارش یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے جب عبوری آئین میں اسلامی دفعات کو باضابطہ شامل کرنے کا راستہ اختیار کر ہی لیا ہے تو اس کے منطقی تقاضوں کی طرف بھی انہیں اسی سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہیے۔ اور اس کے لیے سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کا جائزہ لیں اور انہیں قانونی شکل دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو سرکاری سطح پر قبول کر کے انہیں قانونی شکل دے دی جائے تو ملک میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ اور قرآن و سنت کے قوانین و احکام کی بالادستی کے لیے اور کسی پیشرفت کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اور اگر جنرل پرویز مشرف ایسا کر گزریں تو یہ عمل نہ صرف دنیا کی تاریخ میں بلکہ آخرت میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بھی ان کی سرخروئی کا باعث بنے گا۔
   
2016ء سے
Flag Counter