کچھ آزاد کشمیر کے بارے میں

   
۴ جولائی ۱۹۷۵ء

علاقہ تھب تحصیل باغ آزاد کشمیر کے جماعتی بزرگوں کے ارشاد پر ۲۳ جون کو وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ تھب کا علاقہ آزادکشمیر کا مردم خیز خطہ ہے جہاں کے عوام کو دینی علوم کے ساتھ والہانہ عقیدت اور لگاؤ ہے۔ چنانچہ اس خطہ میں قرآن و حدیث کے علوم سے بہرہ ور حضرات کی ایک معتدبہ تعداد موجود ہے اور اب بھی دینی تعلیم کا عمومی رجحان موجود ہے۔

۲۳ جون کو تھب کی مرکزی جامع مسجد میں سالانہ جلسہ تھا جس سے راقم الحروف کے علاوہ حضرت مولانا محمد الیاس صاحب چناری، حضرت مولانا امیر الزمان خان نعمان پورہ، حضرت مولانا مفتی عبد المتین صاحب تھب، حضرت مولانا شفیع اللہ شاہ باغ، حضرت مولانا عبد الحئی صاحب دیول، حضرت مولانا محمد اظہر صاحب بکوٹ شریف، راجہ محمد سبیل خان ممبر آزاد کشمیر اسمبلی اور دوسرے حضرات نے خطاب کیا۔ اور بعد میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی یادگار کے طور پر جامع مسجد تھب میں امداد العلوم کے نام سے دینی مدرسہ کے آغاز کا اعلان کیا گیا۔

راقم الحروف نے علاقہ کے دین دار مسلمانوں خصوصاً علماء کرام کو اس طرف متوجہ کیا کہ انہیں عملی سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھنے کی بجائے اسے اپنانا چاہیے۔ کیونکہ ظلم و جبر کے نظام کی مخالفت اور دین حق کے اعلاء و اجراء کی جدوجہد کرنا علماء کرام کا دینی و ملی فرض ہے اور علماء کرام ہی کی سیاسی قیادت عوام کے مسائل کو مخلصانہ طور پر حل کر سکتی ہے۔ دراصل آزادکشمیر کے علماء کرام نے شروع ہی سے سیاسی مسائل میں عوام کی نمائندگی و رہنمائی کی ہے اور ان کی ایک تنظیم ’’جمعیۃ علماء آزاد کشمیر‘‘ کے نام سے تیس سال سے سیاسی و مذہبی میدان میں سرگرم عمل ہے۔ اور ان کی مسلسل محنت کا ثمرہ ہے کہ آزادکشمیر میں عائلی قوانین کا نفاذ نہیں ہو سکا۔

محکمہ قضا پوری ریاست میں شرعی قوانین کے نفاذ کی ذمہ داریوں سے ایک حد تک عہدہ برآ ہو رہا ہے اور سردار محمد عبد القیوم خان سمیت سابق حکمرانوں نے متعدد اسلامی اصلاحات نافذ کیں لیکن ایک بنیادی اور ناگزیر حقیقت سے صرفِ نظر کے باعث آزادکشمیر کے علماء کرام وسیع اور فیصلہ کن اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت میں اپنا صحیح مقام حاصل نہیں کر سکے، جس کے نتائج دینی سیاست کے مستقبل کو اس خطہ میں مخدوش بنا سکتے ہیں۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ ان بزرگ علماء کرام نے سیاسی میدان میں قربانی اور محنت کی ذمہ داریاں تو خود سنبھالے رکھیں لیکن عملی قیادت و سیاست کا پھل دوسروں کی جھولی میں ڈالتے رہے اور مخصوص قبائلی مصلحتوں کے خول سے خود کو باہر نہ نکال سکے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ قبائلی سیاست کے سرداروں نے ان بزرگ علماء کرام کی محنت، خلوص اور قربانیوں کا استحصال کر کے اب تک اپنی دکانیں چمکائی ہیں تو شاید یہ بے جا نہ ہو۔ حتیٰ کہ سدھن قبیلہ سے تعلق رکھنے والے بزرگ عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خان صاحب بھی آج تمام اجتماعی تقاضوں سے صرف نظر کرتے ہوئے سدھن برادری کے سردار محمد ابراہیم خان کے جلو میں سیاسی پیش قدمی پر مجبور ہوئے اور اب آزادکشمیر اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے بعد سردار ابراہیم کی معیت کے تمام تقاضے انہیں پورے کرنا پڑ رہے ہیں۔

الغرض سیاسی جدوجہد میں صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے باوجود سیاسی قیادت کو اپنے ہاتھ میں لینے سے ہچکچاہٹ کےطرز عمل نے آزادکشمیر کے علماء کو عجیب گومگو اور مخمصہ کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ اور دوسری طرف دینی سیاست کے محاذ کو خالی دیکھ کر دیگر جماعتیں آزاد کشمیر میں دھیرے دھیرے اپنے اثرات کا دائرہ وسیع کر رہی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر راقم الحروف نے تھب کے جلسہ کے موقع پر ان بزرگ علماء کرام سے گزارش کی اور اب بھی یہی استدعا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ آپ حضرات کسی خطرہ اور مصلحت کو خاطر میں لائے بغیر دینی سیاست کے محاذ کو سنبھالیں۔ کیونکہ آزادکشمیر کا دینی مستقبل آپ سے وابستہ ہے، ریاستی عوام کے دینی رجحانات کو الحاد و حریت کے اس دور میں اسی صورت میں دوام بخشا جا سکتا ہے کہ ان کی فکری و عملی زمام کار علماء کرام کے ہاتھ میں ہو۔ اس لیے اس صورتحال کو کنٹرول کرنا آپ کا ملی و شرعی فریضہ ہے۔

علماء کرام سے اس مؤدبانہ گزارش کے بعد آزادکشمیر کے سیاسی بحران کے بارے میں بھی کچھ بات ہو جائے۔ یہ بحران جسے سیاسی انارکی کہنا زیادہ موزوں ہوگا اس وقت شروع ہوا تھا جب مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو ورغلا کر ان کے سہارے آزادکشمیر میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس کے بعد ’’ضمیروں‘‘ کی خرید و فروخت کا بازار گرم رہا تاآنکہ سردار محمد عبد القیوم خان کو عدم اعتماد کی ایک نام نہاد تحریک کے ذریعہ فیڈرل فورس کی سنگینوں کے سائے میں اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔ پھر سردار صاحب اور ان کی جماعت کے لیے انتخابات حصہ لینے کے تمام شریفانہ راستے بند کر کے انہیں بائیکاٹ پر مجبور کر دیا گیا اور کشمیری سیاست میں سردار محمد عبد القیوم خان کے حریفوں نے انہیں سیاسی شکست دینے کے نشہ میں پی پی پی کی اس حد تک ناز برداری کی کہ آج اس کے نتیجہ میں وہ خود پٹخنیاں کھا رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی جس نے اپنے ’’مخصوص ذرائع‘‘ سے ۴۰ کے ایوان میں ۲۳ نشستیں ’’وصول‘‘ کر لی ہیں، اب سردار ابراہیم کی مسلم کانفرنس، کے ایچ خورشید کی لبریشن لیگ اور چوہدری نورحسین کی آزاد مسلم کانفرنس پر مشتمل متحدہ محاذ کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ان کی پارٹی کو اسمبلی میں قطعی اکثریت حاصل ہے اس لیے حکومت بنانا اس کا حق ہے۔ جبکہ کے ایچ خورشید کا کہنا ہے کہ الیکشن متحدہ محاذ نے جیتا ہے اس لیے حکومت مشترک ہوگی۔ ادھر خود پی پی پی کے رہنماؤں میں وزارت کے لیے رسہ کشی جاری ہے۔ علی جان شاہ فرماتے ہیں کہ ریاست میں پیپلز پارٹی کی بنیاد انہوں نے رکھی اس لیے وزارتِ اعلیٰ ان کا حق ہے۔ ممتاز راٹھور کا ارشاد ہے کہ سب سے زیادہ قربانیاں انہوں نے دی ہیں اس لیے وہ وزارتِ اعلیٰ کے صحیح مستحق ہیں۔ منظر مسعود صاحب کا دعویٰ ہے کہ سردار عبد القیوم خان کو چاروں شانے چت کرنے میں ان کا حصہ سب سے زیادہ ہے اس لیے یہ منصب انہیں ملنا چاہیے۔ اور خان عبد الحمید خان پارٹی کے صدر اور ’’مضبوط مرکزی وزیرداخلہ‘‘ خان عبد القیوم خان کے بھائی ہونے کے ناطے سے وزارتِ اعلیٰ کے ’’اصلی تے وڈے‘‘ حقدار ہونے کے دعوے دار ہیں۔ اس کے علاوہ مشترک حکومت کی صورت میں کے ایچ خورشید وزارت اعلیٰ سے کم کسی بات پر راضی ہونے کے لیے تیار نہیں اور شاید یہ منصب نہ ملنے پر وہ اپوزیشن کی بنچوں پر بیٹھنے کو ترجیح دیں۔

یہ رسہ کشی ان دنوں عروج پر ہے۔ اسمبلی کے دو اجلاس اب تک اس افراتفری میں ملتوی ہو چکے ہیں، اب سنا ہے کہ ۲۷ جون کو بھٹو صاحب آزادکشمیر کے ارکان اسمبلی سے ملیں گے اور ۲۸ جون کو

؏ جسے پیا چاہے وہی ہے سہاگن

کے مصداق بارگاہ عالی میں باریاب ہونے والے کسی رکن اسمبلی کو وزیراعلیٰ منتخب کر لیا جائے گا۔ اور یہ ہوگا اس ڈرامے کا ’’ڈراپ سین‘‘ جسے بقول شخصے بھٹو صاحب کے ’’بحرانوں سے عشق‘‘ نے آزادکشمیر کے سیاسی افق پر اسٹیج کر رکھا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter