اقبالؒ کے نام پر فتنہ خیزی

   
۶ مئی ۱۹۸۸ء

ماہِ رواں کی اکیس تاریخ کو علامہ محمد اقبال مرحوم کی پچاسویں برسی منائی گئی اور حسب معمول مختلف مقامات پر اجتماعات منعقد ہوئے۔ اس موقع پر لاہور کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد اقبالؒ کے فرزند اور سپریم کورٹ کے جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے حسب سابق اپنے اس موقف کو علامہ اقبالؒ کے حوالہ سے دہرایا کہ نئے دور کے تقاضوں کے مطابق پورے دین کی نئی تعبیر و تشریح ضروری ہے اور یہ کام اجتہاد کے نام پر پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے۔ ہم اس سے قبل اس گمراہ کن موقف پر ان صفحات میں اظہارِ خیال کر چکے ہیں اور ہمارے نزدیک پارلیمنٹ کے ذریعے اجتہاد کے نام پر پورے دین کی نئی تعبیر و تشریح کا یہ مجوزہ کام بنی اسرائیل کے نام نہاد دانشوروں کے اس طرز عمل کے مشابہ ہے جو انہوں نے توراۃ اور انجیل کی نئی تعبیر و تشریح کرتے ہوئے اختیار کیا تھا اور جسے قرآن کریم نے جابجا تحریف قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

چند روز پہلے ’’ایوانِ وقت‘‘ میں کچھ اور جسٹس صاحبان نے بھی اسی موضوع پر ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ کی تصنیف پر تبصرہ کرتے ہوئے اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے دین کے تمام امور حتیٰ کہ منصوص مسائل میں بھی اجتہاد کی ضرورت ہے۔

اس بحث کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ روزنامہ نوائے وقت کی مکمل پشت پناہی کے ساتھ یہ فتنہ بڑھتا جا رہا ہے مگر علماء کرام اور ملک کے علمی حلقے اس بحث کی سنگینی کو محسوس نہیں کر رہے۔ ہم تمام مکاتب فکر کے علماء کرام سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا احساس کریں اور اپنے روایتی کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے علمی بنیاد پر اس فتنہ کا تعاقب کر کے رائے عامہ کو گمراہی سے بچائیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter