حضرت مولانا محمد طاسینؒ

   
فروری ۱۹۹۹ء

حضرت مولانا محمد طاسینؒ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ پاکستان کی علمی دنیا کی معروف شخصیت تھے، حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہ العزیز کے داماد اور مجلس علمی کے سربراہ تھے۔ متبحر اور محقق عالم دین تھے، اسلامی معاشیات پر ان کی گہری نظر تھی اور اس کے مختلف پہلوؤں پر ان کے گراں قدر مقالات مختلف دینی و علمی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اہم علمی مجالس میں انہیں اہتمام کے ساتھ بلایا جاتا اور ان کے مطالعہ و تحقیق سے استفادہ کیا جاتا تھا۔ مجلس علمی کے بہت بڑے کتب خانہ کے امین تھے اور ہر وقت کتابوں کی دنیا میں مگن رہتے تھے۔ افسوس کہ اس وضع کے لوگ اب ایک ایک کر کے اٹھتے جا رہے ہیں اور کوئی ان کی جگہ لینے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

(ماہنامہ الشریعہ ۔ فروری ۱۹۹۹ء)

حضرت مولانا محمد طاسینؒ کی زیارت و ملاقات سے تو صرف ایک بار مجلس علمی کی لائبریری میں شادکام ہوا ہوں مگر ان کا قاری ایک عرصے سے ہوں اور ان کے افکار و ارشادات سے مسلسل مستفید ہوتا رہا ہوں۔ ابتدا میں حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی نسبت اور ماہنامہ ’’بینات‘‘ اس دلچسپی کا باعث تھے مگر رفتہ رفتہ ذوق و فکر کی مناسبت اس کا رنگ گہرا ہوتا گیا اور میں باقاعدہ ان کے خوش چینوں میں شامل ہوگیا۔ ذوق و فکر کی ہم آہنگی اللہ تعالیٰ کی ایسی عجیب نعمت ہے کہ اس کے سامنے جسمانی اور جغرافیائی فاصلے ہیچ ہوتے ہیں اور ان دیکھے رابطے اپنا جلوہ دیکھانا شروع کر دیتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد طاسینؒ کے ساتھ میرا معاملہ بھی کچھ اسی نوعیت کا تھا کہ ملاقات اور خط و کتابت کی نوبت ایک آدھ بار کے سوا زندگی بھر نہیں آئی مگر فکر و نظر کے رابطوں کا عالم یہ تھا کہ جب کوئی مشترکہ ذوق کا مسئلہ کھڑا ہوتا تو میرے ذہن کی سکرین پر حضرت مولانا محمد طاسین صاحب کا نام نمودار ہوتا اور میں اپنے ذہن میں تانے بانے بننے لگتا کہ اب حضرت مولانا صاحب اس کے بارے میں لکھیں گے اور یہ یہ لکھیں گے اور لطف کی بات یہ ہے کہ اکثر ایسا ہی ہوتا۔

میرے نزدیک حضرت مولانا طاسینؒ کی سب سے بڑی خصوصیت اور امتیاز یہ تھا کہ وہ آج کے دور میں معیشت و اقتصاد کی اہمیت اور نسل انسانی کے ارتقا اور انسانی سوسائٹی میں رونما ہونے والے انقلابات میں اس کی کارفرمائی کا پوری طرح ادراک رکھتے تھے۔ اس حوالے سے قرآن و سنت اور فقہ اسلامی پر ان کی گہری اور ماہرانہ نظر تھی۔ اقتصاد و معیشت کے جدید تصورات و افکار اور انسانی معاشرہ کی جدلیت میں ان کے کردار سے آگاہ تھے۔ وہ ان معاملات میں وسعت مطالعہ اور دقت نظر کے ساتھ ساتھ مجتہدانہ بصیرت سے بھی بہرہ ور تھے، مگر ان کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ جس طبقہ سے وہ مخاطب تھے اور جن احباب و افراد کو وہ وقت کی اس سب سے بڑی ضرورت کی تکمیل کے لیے آگاہ کرنا چاہتے تھے، وہ سرے سے اس کی ضرورت و اہمیت سے ہی نا آشنا تھے۔ اور مسائل و احکام کے مباحثہ میں شریک کرنے سے پہلے انہیں اس کی اہمیت اور افادیت کا قائل کرنا ہی بجائے خود ایک مسئلہ بن کر رہ جاتا تھا۔ اقتصاد و معیشت کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے اور ہمارے فقہاء نے ہر زمانے میں اس دور کی ضروریات اور تقاضوں کو سامنے رکھ کر اس کے بارے میں اسلامی احکام و قوانین کو پیش کیا ہے اور زمانہ کے ارتقا کے ساتھ ساتھ اجتہادی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نئے پیش آمدہ مسائل کا حل نکالا ہے۔ لیکن گزشتہ دو صدیوں میں صورتحال قدرے مختلف رہی ہے۔ یورپ کے صنعتی انقلاب، سائنس اور ٹیکنالوجی کی برق رفتار پیشرفت، اور فاصلوں کے تیزی کے ساتھ سمٹتے چلے جانے سے انسانی سوسائٹی میں اقتصاد و معیشت کے ارتقا کی رفتار کئی گنا بڑھ گئی ،جبکہ اجتہادی عمل کی رفتار وہی رہی بلکہ مزید کمزوری اور سستی کا شکار ہوتی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم وقت کا ساتھ نہ دے سکے اور اقتصاد و معیشت کے جدید عالمی بحث و مباحثہ میں کارنر ہوتے چلے گئے۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ نے عراق کی زمینوں کے بارے میں بہت بڑا اجتہادی فیصلہ صادر فرما کر امت کے لیے مثال قائم کر دی کہ وقت اور حالات کی تبدیلیوں کے ساتھ امت کے اجتماعی مفاد و ضرورت کو ہم آہنگ رکھنے کے لیے چوکنا رہنے اور اجتہادی صلاحیتوں کو بروقت بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ لیکن گزشتہ دو صدیوں میں ہم ایسا نہیں کر سکے اور میری طالب علمانہ رائے میں ہمارے اس خطہ یعنی جنوبی ایشیا میں حضرت امام شاہ ولی اللہؒ کے بعد ابھی تک علمی حلقوں میں اس بات کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی کہ سیاست، معیشت و اقتصاد اور معاشرت و عمرانیات کے شعبوں میں احکام و مسائل کی اجتماعی نوعیت پر ازسرِنو غور کیا جائے اور زمانے کی تبدیلیوں کو محسوس کرتے ہوئے کم از کم شاہ ولی اللہؒ کے بیان کردہ اصولوں پر ہی نئے فقہی ڈھانچے کی بنیاد رکھ لی جائے۔

ہمارے ہاں فتویٰ اور قانون سازی میں سب سے بڑی بنیاد فتاویٰ شامیہ اور فتاویٰ عالمگیریہ ہیں۔ ہم انہی کی جزئیات کے دائرے میں محصور ہیں۔ ان دونوں علمی ذخیروں کی اہمیت و ضرورت سے کسی درجہ میں انکار کی گنجائش نہیں مگر ہم افتا اور بیان حکم میں انہی کو حتمی معیار قرار دیتے وقت دو باتیں بالکل بھول جاتے ہیں کہ یہ دونوں فتاویٰ اپنے اپنے دور کے اجتہادی عمل کا نتیجہ ہیں اور اس حقیقت کا مظہر ہیں کہ پہلے سے موجود فقہی ذخیروں اور احکام و مسائل پر نظر ثانی کی ضرورت ہر زمانے میں موجود اور تسلیم شدہ رہی ہے۔ ان دو عظیم الشان علمی و فقہی ذخیروں کے وجود میں آنے کے بعد بھی حالات میں تبدیلی رونما ہوئی ہے، وقت کی رفتار تھم نہیں گئی اور انسانی معاشرت کے ارتقا کو بریک نہیں لگی۔ بلکہ اپنی رفتار ،تنوع اور وسعت کے حوالہ سے ان کا موازنہ سابقہ تبدیلیوں سے کیا جائے تو گزشتہ ایک صدی کی تبدیلیاں اس سے قبل کے ایک ہزار سال کی تبدیلیوں پر بھاری ہیں۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے فقہاء نے اس کے بعد اجتہادی عمل جاری رکھا ہے اور ہمارے علمی مراکز کے دارالافتاء اس اجتہادی عمل سے کلیتاً‌ لاتعلق نہیں ہوئے مگر یہ عمل عبادات، خاندانی احکام اور اخلاقیات و معاملات کے شعبوں تک محدود ہے جبکہ عمرانیات، سیاسیات اور اقتصاد و معیشت کے شعبوں کو اس کارِ خیر سے ان کا حصہ نہیں ملا اور ان کا قرض ابھی تک اہل علم کے ذمہ باقی ہے۔

میرے خیال میں حضرت مولانا محمد طاسینؒ نے اقتصاد و معیشت کے باب میں اسی خلا کی طرف توجہ دلانے کی زندگی بھر محنت کی ہے اور مختلف مسائل کو چھیڑ کر اس خلا کے احساس کو اجاگر کرنے کے لیے وہ مصروف عمل رہے ہیں۔ اس ذوق میں اس حد تک ایک خوشہ چین اور طالب علم کے طور پر میں بھی شریک رہا ہوں اور اب بھی ہوں کہ مسائل کی طرف توجہ دلائی جائے اور علمی خلا کا احساس دلاتے ہوئے اہل علم کو اسے پر کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ اس سے آگے خود مسائل پر بحث کرنا اور علم و تحقیق کے سمندر میں غوطہ زنی کرنا اہلیت اور مصروفیت دونوں حوالوں سے میرے بس کی بات نہیں ہے۔ مگر حضرت مولانا محمد طاسینؒ نے ان مراحل کو بھی خوبی سے طے کیا ہے ،مختلف مسائل پر علمی بحث کی ہے، تجزیہ و تحلیل اور نکتہ رسی کے جوہر دکھائے ہیں اور اقتصاد و معیشت کے مسائل پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بحث و مباحثہ اور استنباط و استخراج کے دائروں کی طرف اہل علم کی راہنمائی کی ہے۔

حضرت مولانا محمد طاسینؒ کی کسی رائے اور ان کی علمی تگ و دو کے کسی نتیجہ سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان کی اصولی جدوجہد اور علمی محنت آج کے دور کی ایک اہم ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائیں اور اہل علم و دانش کو ان کے مشن کا تسلسل قائم رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

(ماہنامہ تعمیر افکار کراچی، مولانا محمد طاسینؒ نمبر)
   
2016ء سے
Flag Counter