مولانا اللہ وسایا قاسمؒ

   
۲۲مئی ۲۰۰۳ء

گزشتہ روز گوجرانوالہ گھر فون کیا تو یہ غمناک اطلاع ملی کہ مولانا اﷲ وسایا قاسم ٹریفک کے حادثہ میں شہید ہو گئے ہیں، انا ﷲ و انا الیہ راجعون ۔وہ میرے بہت پرانے اور قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے شاگرد اور عقیدت مند تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان جب درخواستی گروپ اور فضل الرحمن گروپ میں تقسیم تھی ،وہ جمعیۃ علماءاسلام درخواستی گروپ کے نظم میں شریک ہوئے اور اپنی جوانی کا پورا زور جمعیۃ علماءاسلام کی تنظیم و ترقی اور خاص طور پر ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی اشاعت کو بڑھانے میں صرف کردیا ۔قریہ قریہ بستی بستی گھومے اور دن رات ایک کر دیے۔جن حضرات نے اپنے مخلصانہ ورک اور شب و روز محنت کے حوالے سے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں مولانا اﷲ وسایا قاسم سرفہر ست ہیں۔جہانیاں خانیوال کے ایک غریب گھرانے سے تعلق تھا لیکن خود کو انہوں نے پہلے جمعیۃ علماءاسلام اور پھر جہادی سرگرمیوں کے لیے وقف کر رکھا تھا اور آخر دم تک انہی سرگرمیوں میں مگن رہے اور اسی شعبہ میں محنت کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیا۔

ابھی گزشتہ سال اپریل کے آخر میں ان کی دعوت پر میں خانیوال اور جہانیاں گیا۔ دعوت دینے کے لیے خود گوجرانوالہ آئے اور پروگرام ترتیب دیا۔ خانیوال کی ایک دینی درسگاہ کا جلسہ تھاوہاں سے رات مجھے جہانیاں لے گئے جہاں ان کے بے تکلف دوست قاری سالک صاحب کے ہاں قیام تھا۔دوسرے روز صبح مولانا ﷲ وسایا قاسم کے گھر حاضری ہوئی جو انہوں نے حال ہی میں تعمیر کیا ہے، ایک چھوٹا سا مکان ہے جو ان کی زندگی بھر کی کمائی ہے۔ گھر دیکھا اور ان کے والد محترم اور بچوں کو دیکھا، گھر کے اندر گئے تو کہا گیا کہ برکت کے لیے دعا کریں۔ کسے خبر تھی کہ یہ آخری ملاقات ہے اور اس کے بعد ایک دوسرے کو اس دنیا میں دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔یہ اﷲ تعالیٰ کے بھید ہیں وہی بہتر جانتا ہے اور وہی ان کی حکمتیں بہتر سمجھتا ہے۔امام غزالیؒ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ یہ دنیا میں جو رونق اور چہل پہل ہر طرف نظر آرہی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کی زندگی کا کنکشن کس وقت آف ہو جانا ہے کیونکہ اگر ہر شخص کو اپنے وقت اور موت کا علم ہو جائے تو وہ اس کی تیاری میں لگا رہے، زندگی کی رونق اور چہل پہل ختم ہو جائے ۔

مولانا اﷲ وسایا قاسم کے گھر سے نکلے،مجھے چیچہ وطنی جانا تھا ۔قاری سالک صاحب کو ساتھ لے کر مجھے خود چھوڑ کر آئے۔دوپہر ساتھ گزاری اور حسب معمول یہ کہہ کر رخصت ہو گئے کہ ’اچھا استاذ جی!میں چلتا ہوں۔“

حضرت درخواستیؒ کے ساتھ عقیدت کا خصوصی تعلق تھا اور اکثر ان کا تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ اس سفر میں بھی زیادہ تر تذکرہ حضرت درخواستیؒ کا ہی رہا ۔یہ ہم دونوں کی خصوصی دلچسپی کا موضوع تھا اس لیے اس کے بہت سے پہلوؤں پر دل کھول کر باتیں ہوئیں۔کہنے لگے کہ حضرت درخواستیؒ کے خطبات اور مطبوعہ ارشادات کو جمع کر رہا ہوں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کے دفتر میں ہفت روزہ ترجمان اسلام کی فائل چیک کر کے بہت سی چیزیں جمع کر چکا ہوں۔اس سلسلے میں مجھ سے بھی تعاون کے لیے کہااور دو باتیں میرے ذمہ لگائیں ،ایک یہ کہ سارا مواد ایک بار دیکھ کر ترتیب میں مدد دوں اور دوسری یہ کہ اس پر مقدمہ بھی لکھوں۔ میں نے دونوں باتیں قبول کر لیں لیکن جب ہم اس مشترکہ دلچسپی کے کام کی ترتیب و تدوین کے معاملات طے کر رہے تھے ،تقدیر ایک طرف کھڑی مسکرا رہی تھی کہ انسان کتنے لمبے منصوبے بناتا ہے اور کتنی دور کی پلاننگ کرتا ہے مگر ”وماتدری نفس ما ذا تکسب غدا“۔ اس کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ آنے والے کل میں اس نے کیاکرنا ہے۔

مولانا اﷲ وسایا قاسم کی صورت میں میرا ایک عزیز ترین ساتھی، دینی جدوجہد کا ایک انتھک کارکن اور سینکڑوں نوجوانوں کو دین کی محنت کے لیے ابھارنے اور تیار کرنے والا رہنما اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے اور میں ہزاروں میل دور نیویارک میں بیٹھا اسے یاد کرتے ہوئے بارگاہ ایزدی میں اس کے لیے دعا گو ہوں کہ یا رب العالمین! اس نوجوان کی دینی خدمات کو قبول فرما اس کے گناہوں سے درگزر کر اور اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نواز کہ وہ زندگی بھر اسی کے لیے محنت کرتا رہا ہے، آمین یا رب العا لمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter