علم کی پختگی اور زمانے کی پہچان

   
تاریخ: 
۱۶ جنوری ۲۰۲۴ء

(ختمِ بخاری شریف کی تقریب سے خطاب)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر کے سالانہ اجتماع میں حاضری میرے لیے ہمیشہ سعادت کی بات ہوتی ہے کہ بزرگوں کی زیارت، طلباء سے ملاقات اور گفتگو میں شرکت ہو جاتی ہے۔ اور میرے لیے توسب سے بڑی بات یہ ہے کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا قاری سعید الرحمٰن صاحبؒ جوہمارے بزرگ تھے اور جماعتی، تحریکی اور تعلیمی زندگی میں ہم آپس میں ساتھی تھے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ایک عرصہ تک رفاقت نصیب فرمائی، اس رفاقت کی کچھ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے عزیز محترم ڈاکٹر عتیق الرحمٰن صاحب کو صحت کاملہ و عاجلہ کے ساتھ اور ان کے بھائیوں، خاندان اور رفقاء کو یہ تسلسل جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔

جن فضلاء کرام نے آج بخاری شریف کا آخری سبق اپنے استاذ گرامی سے پڑھا ہے اور ان کی نصیحتیں سماعت کی ہیں، ان سب کو مبارک باد دیتا ہوں۔ جنہوں نے قرآن پاک مکمل کیا ہے اور جنہوں نے دورۂ حدیث کی تکمیل کی ہے اور بخاری شریف کی آخری روایت پڑھی ہے ان کو بھی۔ اور اس کے ساتھ ان کے والدین، اہل خاندان، جامعہ کے اساتذہ، منتظمین اور معاونین سب کو مبارک باد دیتا ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا پڑھنا اور پڑھتے رہنا ہم سب کے لیے دنیا و آخرت کی خوشیوں، برکتوں اور سعادتوں کا ذریعہ بنائیں۔

شرکت کے لیے دو تین باتیں عرض کرنا چاہوں گا اور ابتدا ایک لطیفے سے کروں گا۔ میرا مزاج ہے کہ کوئی نہ کوئی کہانی یا لطیفہ بیان کرتا ہوں، بالخصوص جب طلبہ سے بات ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور کرتا ہوں۔ آج ایک جگہ طلباء سے گفتگو ہو رہی تھی تو میں نے کہا کہ ایک محاورہ مشہور ہے ”نیم حکیم خطرہ جان اور نیم مُلا خطرۂ ایمان“۔ اس لیے میں ہمیشہ طلباء سے یہ بات کرتا ہوں کہ مُلا بننا، نیم مُلا نہ بننا، مولوی صحیح بننا، ادھورا مولوی نہ بننا۔ حکیم ادھورا رہ جائے تو لوگوں کی جانیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں، پھر قبرستان آباد ہوتے ہیں اور آبادیاں ویران ہوتی ہیں ۔ اور اگر مُلا ادھورا رہ جائے تو لوگوں کے ایمان، اعمال اور اخلاق خراب ہوتے ہیں۔ نیم مُلا کون ہوتا ہے؟ اگر تعلیم توجہ سے حاصل نہیں کی، اسباق نہیں پڑھے، ناغے کیے ہیں، سبق توجہ سے نہیں سمجھا، تونیم مُلا بنے گا۔ اور نیم مُلا کیا کرتا ہے اس پر ایک مثال ذکر کرنا چاہوں گا۔ مولانا رومؒ نے مثنوی میں بہت سے سبق آموز واقعات لکھے ہیں، ان میں سے ایک واقعہ عرض کرتا ہوں:

پرانے زمانے میں جب چھاپہ خانے نہیں ہوتے تھے تو کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں۔ قرآن مجید بھی ہاتھ سے لکھے جاتے تھے، لوگ پڑھنے کے لیے کسی کاتب سے نسخہ لکھوا لیتے تھے۔ ایک صاحب کو قرآن مجید کی ضرورت پڑی تو کسی کاتب سے کہا کہ مجھے ایک قرآن مجید لکھ دو۔ اس نے کہا ٹھیک ہے لکھ دوں گا۔ مدت طے کر دی کہ دو تین مہینے میں لکھ دوں گا۔ لہٰذا اس نے دوسرے نسخے سے دیکھ کر لکھ کر مکمل کر لیا۔ جب وہ آدمی کاتب کے پاس نیا نسخہ لینے کے لیے گیا تو اس سے پوچھا کہ دھیان سے لکھا ہے؟کاتب نے کہا جی دھیان سے لکھا ہے۔ پوچھا، نظر ثانی کر لی ہے؟ کہا، ہاں جی کر لی ہے۔ غلطیاں چیک کر لی ہیں، کوئی غلطی رہ تو نہیں گئی؟ کاتب نے کہا کہ میں نے بڑی توجہ سے لکھا ہے اور بڑی محنت اور کوشش کی ہے کہ کوئی غلطی نہ ہو، لیکن جس قرآن پاک کو دیکھ کر میں نے یہ نسخہ لکھا ہے اس میں دو تین غلطیاں تھیں، وہ میں نے صحیح کر دی ہیں۔ اس آدمی نے پوچھا وہ کون سی غلطیاں تھیں؟ کاتب نے کہا کہ

  1. اس قرآن میں لکھا ہوا تھا ”وعصیٰ آدم ربہ فغویٰ“ ۔ تو میں نے سوچا کہ عصا حضرت آدم ؑکا تو نہیں تھا، عصا تو حضرت موسٰی ؑکا تھا، اس لیے میں نے اسے ٹھیک کر کے لکھ دیا ”وعصیٰ موسیٰ ربہ فغوی“۔
  2. اس نے کہا کہ اس نسخے میں دوسری غلطی یہ تھی کہ اس میں لکھا ہوا تھا ”ولقد نادانا نوح“۔ میں نے سوچا کہ نوح علیہ السلام تو اللہ کے پیغمبر تھے اور پیغمبر نادان نہیں ہوتا وہ تو عقلمند اور دانا ہوتا ہے۔ تو میں نے اس کو لکھ دیا ”ولقد دانانا نوح“۔
  3. اس قرآن میں تیسری جگہ لکھا ہوا تھا ”خر موسیٰ صعقا“۔ میں نے سوچا کہ خر حضرت موسیٰ ؑکا تو نہیں تھا، خر تو حضرت عیسٰیؑ کا تھا۔ خرِ عیسٰی مشہور ہے، تو وہ غلطی بھی میں نے ٹھیک کر دی اور ”خر عیسیٰ صعقا“ لکھ دیا۔
  4. اس کے بعد کاتب نے کہا کہ ایک غلطی بہت زیادہ مرتبہ دہرائی گئی تھی کہ اس میں جگہ جگہ شیطان اور فرعون کا نام لکھا ہوا تھا جو مجھے اچھا نہیں لگا، کیونکہ قرآن پاک اللہ کا کلام ہے، اس کے ہر حرف پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔ نماز میں قرآن پڑھا جاتا ہے تو کیا نماز میں بھی شیطان اور فرعون کا نام لیں گے ؟ فرعون کا نام قرآن مجید کے لفظ کے طور پر پڑھیں گے تو پچاس نیکیاں ملیں گی؟ تو میں نے سوچا کہ قرآن مجید کے ہر حرف پر تو دس نیکیاں ملتی ہیں، اس میں فرعون اور شیطان کا کیا کام؟ اس لیے یہ دو لفظ میں نے ہر جگہ اس طرح بدل دیے ہیں کہ ایک کی جگہ اپنے باپ کا نام لکھ دیا ہے اور ایک کی جگہ تمہارے باپ کا نام لکھ دیا ہے۔

یہ میں نے اس لیے عرض کیا ہے تاکہ سمجھ میں آئے کہ نیم مُلا کیا کرتا ہے۔ وہ اپنی اصلاح کی بجائے قرآن اور حدیث کی اصلاح کرتا ہے، اس لیے میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ مُلا بنیں تو ٹھیک ٹھاک مُلا بنیں، نیم مُلا نہ بنیں۔ اس میں ایک بات یہ شامل کروں گا کہ آپ کو جہاں جہاں بھی فتنے نظر آئیں گے،آپ کسی بھی فتنہ کی کھوج لگائیں تو ہر فتنے کے پیچھے کوئی نیم مُلا کھڑا نظر آئے گا جو قرآن مجید اور شریعت کی اصلاح کی نیت رکھتا ہو گا ۔ اس لیے میں نے پہلی گزارش یہ کی ہے کہ صحیح مُلا بنیں، نیم مُلا بن کر سوسائٹی میں مت جائیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ آپ کے استاذ گرامی فرما رہے تھے آپ نے سوسائٹی میں جانا ہے اور عوام تک دین پہنچانا ہے۔ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے طلباء کرام کے لیے اپنا ایک ذاتی واقعہ عرض کرنا چاہوں گا۔ میں نے مکمل بخاری شریف ۱۹۶۹ء میں والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز سے پڑھی تھی۔ اس زمانے میں مدرسہ نصرۃ العلوم کا الحاق وفاق المدارس کے ساتھ نہیں تھا، ہمارے ہاں تقریری امتحان ہوتا تھا۔ دورہ حدیث میں ہم چودہ ساتھی تھے۔ ہمارا زبانی امتحان لینے کے لیے حضرت مولانا مفتی بشیر احمد پسروری نور اللہ مرقدہ تشریف لائے تھے، جو اپنے وقت کے مشہور بزرگ اور حضرت لاہوریؒ کے اکابر خلفاء میں سے تھے۔ انہوں نے ہمیں سب کو سامنے بٹھا یا اور فرمایا کہ کوئی روایت پڑھیں۔ مولانا شمس الدین شہیدؒ جن کا تعلق بلوچستان سے تھا انہوں نے ایک روایت پڑھی۔

ہمارے ہاں امتحان کاعام اسلوب یہ ہوتا ہے کہ اس روایت میں کیا مسئلہ بیان ہوا ہے؟ اس مسئلے میں احناف کاموقف کیاہے؟ احناف کے موقف سے کس کواختلاف ہے؟ ان کی دلیل کیا ہے اور ہماری دلیل کیا ہے؟ حدیث کاامتحان عموماًاسی طرح لیاجاتاہے تو ہم اسی طرح تیاری کرکےگئے ہوئے تھے۔ لیکن جب عبارت پڑھ لی تومولانا بشیر احمدؒ نے فرمایا کہ میں تم سے یہ نہیں پوچھوں گا کہ اس میں کیا مسئلہ ذکر ہواہے، احناف کاموقف کیا ہے،شوافع کاموقف کیا ہے،دلائل کیا ہیں؟ مجھے معلوم ہے کہ یہ سب آپ نے رٹا ہوا ہے۔ مجھے یہ بتاؤکہ یہ حدیث جوتم نے ابھی پڑھی ہے، پنجاب کے دوردراز کسی گاؤں میں خالص اَن پڑھ دیہاتیوں کو یہ حدیث سمجھانی ہوتوآپ کیسے سمجھائیں گے؟ میں نے کہا کہ میں عرض کرتا ہوں۔ آپؒ نے فرمایا ٹھیک ہے،بیان کرو۔ میں درمیانے درجے کاطالبعلم رہاہوں، نہ بہت نیچے تھا نہ بہت اوپرتھا، لیکن بیان کرنا میرا کام تھا۔ چنانچہ میں نے چھ سات منٹ ٹھیٹھ پنجابی میں اس حدیث کی وضاحت کی، جیسے سامنے دیہاتی بیٹھے ہوئے ہیں اوران کوحدیث سمجھانی ہے۔ اس پر حضرتؒ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے مجھے میرے عمومی استحقاق سے بڑھ کر نمبر دے دیے۔

یہ واقعہ میں نے اس لیے عرض کیا ہے کہ آپ نے سوسائٹی اور معاشرے میں جا کر ان سے گفتگو کرنی ہے،اگر گفتگو اپنی علمی سطح پر کریں گے تو کسی کے پلے کچھ نہیں پڑے گا۔ گفتگو کے لیے آپ کو مخاطبین کی ذہنی سطح پر جانا پڑے گا۔ تاجروں کے سامنے ان کی زبان میں بات کرنا ہوگی، وکلاء، سیاستدانوں، علماء، ہر ایک کے سامنے اس کی زبان میں بات کرنا ہوگی۔ بات ایک ہی ہے لیکن اگر آپ بار میں گفتگو کر رہے ہیں تو لہجہ اور ہوگا،چیمبر میں ہیں اور لہجہ ہوگا، انجمن تاجران میں کھڑے ہیں تو اور لہجہ ہوگا، اساتذہ میں بات کر رہے ہیں تو اور لہجہ ہوگا۔ ماحول کے مطابق اپنے مخاطب کی ذہنی سطح کو دیکھ کر بات کریں گے تو بہتر، ورنہ آپ پیغام نہیں پہنچا سکیں گے، میسج ڈیلیور نہیں کر سکیں گے۔

یہ بات حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے بھی ”الفوز الکبیر“ میں فرمائی ہے اور کہا ہے کہ اللہ رب العزت انسانوں سے بات کرنے کے لیے عام سطح پہ آئے، اگر اللہ تعالیٰ اپنے لیول پر بات کرتے تو کسی کے پلے کچھ نہ پڑتا۔ اس لیے مکھی اور مچھر کی مثالوں سے بات سمجھائی، حتیٰ کہ لوگوں کو کہنا پڑاکہ اللہ تعالیٰ مکھی اور مچھر کی مثالیں کیوں دیتے ہیں؟اور اللہ تعالیٰ نے اس پر وضاحت دی ”ان اللہ لایستحی ان یضرب مثلا ما بعوضۃ“ کہ میں مچھر کی بات کسی مقصد کے لیے کرتا ہوں۔ اللہ رب العزت نے لوگوں سے بات کرنے کے لیے لوگوں کی سطح پر آ کر،مخاطب کی ذہنی سطح کو سامنے رکھ بات کی ہےاور قرآن مجید میں فرمایا کہ بادل دیکھو، پہاڑ دیکھو،زمین دیکھو، ہوا دیکھو،سمندر دیکھو، اونٹ دیکھو وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے چھوٹی چھوٹی مثالیں دے کر بات سمجھائی ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہؒ ہمارے جنوبی ایشیا کے امام اعظم ہیں، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے اور ہمیں یہ سمجھا رہے ہیں کہ عام آدمی سے اس کی سطح پر بات کرو، لیکن اس پر لطیفے کی بات یہ ہے حضرت شاہ صاحبؒ خود کبھی چوتھے آسمان سے نیچے نہیں اترے کہ ان بات کا لیول بہت بلند ہوتا ہے۔ بہرحال یہ میں نے دوسری بات کی ہےکہ آپ سوسائٹی میں جا رہے ہیں تو سوسائٹی کو سمجھ کر عام لوگوں کی ذہنی سطح پر بات کریں۔ آپ جس ماحول میں جا رہے ہیں، اگر اسے نہیں سمجھیں گے، ان کی زبان، لیول اور نفسیات نہیں سمجھیں گے تو صحیح طور پر اپنا پیغام نہیں پہنچا سکیں گے۔ اسی لیے ہمارے فقہاء فرماتے ہیں ”من لم یعرف اہل زمانہ فھو جاہل“ جو اپنے عرف کو نہیں سمجھتا وہ جاہل ہے۔ وہ جس سوسائٹی سے بات کر رہا ہے اگر اسے خود سمجھتا نہیں ہے تو اس کو کیا سمجھائے گا؟ اس لیے آپ جس ماحول میں بات کر رہے ہیں پہلے اس ماحول کو سمجھیں۔

ہمارا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم آٹھ دس سال ’’جزیرہ‘‘ میں بند رہتے ہیں۔ جب اس سے باہر نکلتے ہیں تو باہر کا ماحول مختلف ہوتا ہے۔ ہماری زبان اور ہوتی ہے، لوگوں کی زبان اور ہوتی ہے۔ ہمارا لہجہ اور ہوتا ہے، لوگوں کا لہجہ اور ہوتا ہے۔ ہمارے مسائل اور ہوتے ہیں، لوگوں کے مسائل اور ہوتے ہیں۔ ہمارے تقاضے اور ہوتے ہیں، لوگوں کے تقاضے اور ہوتے ہیں۔ ہم ان کی نہیں بلکہ اپنی فریکونسی میں بات کرتے ہیں۔فریکونسی سیٹ نہیں ہوتی تو ہم انجانے کے انجانے رہ جاتے ہیں۔ اس لیے میں نے دوسری بات یہ عرض کی ہے کہ بات کرنے سے پہلے ماحول کو سمجھیں اور اس کے مطابق گفتگو کریں۔

تیسری بات یہ کرنا چاہوں گا کہ آج کے سوالات میں سےایک بڑا سوال یہ ہے۔ سوال ہر زمانے میں ایک ہی ہوتا ہے، صرف اس کا لہجہ بدلتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک سوال یہ تھا کہ کیا قرآن مجید پر ایمان لانے کے بعد حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے؟ اس سوال نے سو سال بہت سے ذہنوں کو پریشان کیا ہے۔ اہلِ علم کے ذہنوں کو بھی اور عوام کےذہنوں کو بھی کہ جب ہم قرآن مجید پر ایمان لے آئے تو کیا حدیث پر ایمان لانا بھی ضروری ہے؟ آج بھی وہی سوال ہے لیکن لہجہ بدل گیا ہے۔ آج آپ کسی مسئلے پر کوئی بات کریں گے تو آپ کو سادہ سا جواب ملے گا کہ ”قرآن خاموش ہے‘‘۔ جب قرآن پاک کچھ نہیں کہتا تو آپ کیوں کہتے ہیں؟ میں اس سوال کو سامنے رکھ کر ایک واقعہ عرض کروں گا کہ کیاقرآن پاک کے بعد حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے یا نہیں؟ اور دوسری بات کہ اگر کسی مسئلے پر قرآن خاموش ہے تو وہ مسئلہ ہے یا نہیں ہے؟

مسند دارمی کی روایت ہے۔ امام دارمیؒ امام بخاریؒ کے استاد ہیں اور ”مسند دارمی“ کے نام سے ان کی اپنی مسند ہے جوکہ بخاری شریف سے متقدم کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ حضرت عمران بن حصینؓ، جو فقہاء صحابہ میں سے ہیں، اپنی محفل میں بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا، اس نے سلام عرض کرنے کے بعد کہا کہ میں نے ایک مسئلہ پوچھنا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ آپ نے مسئلہ قرآن سے بتانا ہے۔ آج کل بھی یہ رویہ عام ہو گیا ہے کہ مسئلہ قرآن سے بیان کرو۔ حضرت عمران بن حصینؓ ذرا جلالی بزرگ تھے۔ جلالی حضرات کا بات کرنے کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ آپؓ نے اس سے پوچھا کہ آج تم نے فجر کی نماز میں کتنی رکعتیں پڑھی تھیں؟ اس نے کہا دو رکعتیں۔ آپؓ نے پوچھا کہ فجر کی دو رکعتیں پڑھنے کا ذکر قرآن مجید میں ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ تو آپؓ نے فرمایا کہ پھر دو رکعتیں کیوں پڑھی تھیں؟ پھر اس سے پوچھا کہ دو رکعتوں میں کتنے سجدے کیے تھے؟ اس نے کہا چار۔ آپ نے پوچھا کہ ان چار سجدوں کا ذکر قرآن مجید میں ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ تو آپؓ نے فرمایا کہ پھر چار سجدے کیوں کیے تھے؟ اس پر اس آنے والے نے کہا کہ ٹھیک ہے بات سمجھ میں آگئی ہے۔ حضرت عمران بن حصینؓ نے فرمایا کہ نماز کے اصولی احکام قرآنِ مجید میں ہیں جبکہ تفصیلی احکام حدیثِ رسولؐ میں ہیں۔ قرآن اور حدیث مل کر کسی حکم کو مکمل کرتے ہیں۔ نماز کا ایک حصہ قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے تو دوسرا حصہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔ قرآن اور حدیث کو اکٹھے ملا کر عمل کریں گے تو نماز مکمل ہوگی۔ وہ آنے والا سمجھ گیا۔ لیکن اُس زمانے اور آج کے زمانے کا فرق یہ ہے کہ اُس زمانے میں بات سمجھ میں آتی تھی تو انڈرسٹینڈ کر جاتے تھے، آج بات سمجھ میں نہیں آتی تو سٹینڈ ہو جاتے ہیں کہ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ لیکن سوال وہی ہے، اسے سامنے رکھ کر صرف ایک بات ذکر کروں گا کہ قرآن مجید اور حدیث کا تعلق کیا ہے؟

یہ بات ہمارے علم میں ہے کہ قرآن کریم کی پہلی آیات جو نازل ہوئی تھیں وہ سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں: ’’اقرأ باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرأ وربک الاکرم۔ الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم‘‘۔ کم و بیش ہر مسلمان یہ جانتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے کہ یہ پانچ آیات قرآن کریم کی وہ پہلی آیات ہیں جو غار حرا میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھیں۔ قرآنِ مجید کی پہلی وحی کی یہ آیات ہمیں غارِ حرا سے ملی ہیں کہ وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، حضورؐ نے وہ بیان کیا اور صحابہ کرامؓ نے اس واقعہ کو روایت کیا۔ اور صحابہ کرامؓ جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کریں اسے حدیث کہتے ہیں۔ تو گویا ہمیں یہ پانچ آیتیں حدیث کے ذریعے سے ملی ہیں۔ اگر یہ واقعہ ہے تو آیتیں بھی ہیں، واقعہ نہیں ہے تو آیتیں کہاں سے ملیں گی؟ اور اگر یہ حدیث ہے تو واقعہ بھی ہے، حدیث نہیں ہے تو واقعہ بھی نہیں ہے۔

اس لیے میں نے عرض کیا ہے کہ ہمیں قرآن مجید حدیثِ مبارکہ کے ذریعہ سے ملا ہے۔ حدیث کے علاوہ کسی کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ہے کہ ان پانچ آیات تک رسائی حاصل کر سکے۔ اور یہ صرف پانچ آیات کی بات نہیں ہے، بلکہ ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘ سے ’’من الجنۃ والناس‘‘ تک قرآن مجید کی کوئی ایک سورت، کوئی آیت یا کوئی جملہ ایسا نہیں ہے جو ”قال رسول اللہ“ کے بغیر قرآن میں درج ہو گیا ہو۔ اور اگر خدانخواستہ بالفرض کوئی آدمی ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے“ کے حوالہ کے بغیر کوئی لفظ قرآن مجید میں لکھ دے تو وہ قرآن کا حصہ شمار نہیں ہوگا۔ اس لیے میں عرض کرتا ہوں کہ ہمیں تو سارا قرآن مجید احادیث مبارکہ سے ملا ہے۔

بعض دوست سوال کرتے ہیں کہ قرآن مجید پر ہمارا ایمان ہے، کیا قرآن مجید کے بعد حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے؟ تو میں ان سے عرض کیا کرتا ہوں کہ قرآن کے بعد نہیں، قرآن مجید سے پہلے حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے۔ حدیث پر ایمان ہوگا تو قرآن پرایمان ہوگا، حدیث پر ایمان نہیں ہوگا تو قرآن مجید کےایک لفظ پہ ایمان ممکن نہیں ہے۔ آپ کے لیے طالب علمانہ زبان میں بات کرتا ہوں کہ دلائل کی ترتیب میں قرآن پہلے ہے، حدیث بعد میں ہے۔ جبکہ ایمان کی ترتیب میں حدیث پہلے ہے، قرآن بعد میں ہے۔ یہ بات آپ کو ذہنوں میں پختہ کرلینی چاہیے کیونکہ یہ آج کا عمومی سوال ہے۔

آخری بات یہ عرض کروں گا کہ آپ نے بخاری شریف مکمل پڑھی ہے۔ آپ نے امام بخاریؒ کا طرزِ استدلال دیکھا ہے کہ امام بخاریؒ کی ترتیب اور اسلوب یہ ہے کہ وہ ایک مسئلہ بیان کرتے ہیں، ترجمۃ الباب قائم کرتے ہیں، اپنا موقف قائم کرتے ہیں اور پھر اس کے حق میں دلیل لاتے ہیں۔ تائید میں پہلی دلیل قرآن مجید سے لاتے ہیں، دوسری دلیل حدیث مبارکہ، اور تیسری دلیل آثارِ صحابہؓ اور آثارِ تابعینؒ سے لاتے ہیں۔ یہی اہلِ سنت کا دائرۂ استدلال ہے۔ میں نے آپ کے سامنے پوری بخاری شریف کے طرزِاستدلال کا خلاصہ عرض کیا ہے کہ امام بخاریؒ نے اہلِ سنت کا دائرہ استدلال یہ بیان کیا ہے۔ آپ بخاری شریف کے کسی ترجمۃ الباب میں اس اصول کے خلاف نہیں دیکھیں گے کہ وہ پہلے موقف بیان کریں گے، پھر اس پر قرآن مجید سے دلیل نقل کریں گے، اگر قرآن مجید کا کوئی جملہ دلیل نہیں بن رہا تو پھر حدیث کو بطور دلیل لائیں گے۔ امام بخاریؒ نے دلیل میں ہزاروں حدیثیں نقل کی ہیں۔ اور قرآن مجید اور حدیث مبارکہ کی تشریح اور تعبیر وہ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ سے لیتے ہیں۔

میں عزیز طلبہ کو ایک بار پھر مبارکباد دیتے ہوئے یہ عرض کروں گا کہ آپ سمندر میں جا رہے ہیں تو اس ماحول کو سمجھ کر اور اپنے بزرگوں کی روایات پر قائم رہتے ہوئے دین کی تعلیم و ابلاغ، دین سمجھانا، دین پر خود عمل کرنا اور دوسروں کو عمل کی تلقین کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو یہ ذمہ داری بطریق احسن پوری کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

2016ء سے
Flag Counter