جامعہ اشرفیہ لاہور کے ساٹھ سال

   
تاریخ اشاعت: 
۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء

جامعہ اشرفیہ لاہور اپنی عمر کی ساٹھ بہاریں مکمل کر کے ساتویں عشرہ میں قدم رکھ رہا ہے۔ یہ تعلیمی ادارہ جو صرف ایک درسگاہ اور ادارہ نہیں بلکہ تحریک ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ہم عمر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے قیام کی جدوجہد کا وارث بھی ہے۔ جامعہ اشرفیہ کے بانی حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کا شمار برصغیر کے ان نامور علماء کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان بنانے میں حصہ لیا اور قیامِ پاکستان کے بعد اسے ایک اسلامی جمہوریہ بنانے میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔

حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ ایک بلند پایہ عالمِ دین اور نامور صوفی تھے۔ انہوں نے حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کی صحبت میں فیض حاصل کیا اور پھر اس فیض کو زندگی بھر بانٹتے رہے۔ ان سے ایک دنیا نے سلوک و احسان کی تربیت حاصل کی۔ اس بھٹی سے کندن بننے والوں نے لاکھوں افراد کو رشد و ہدایت کا راستہ دکھایا۔ جامعہ اشرفیہ کا آغاز قیامِ پاکستان کے بعد نیلا گنبد لاہور کی مسجد سے ہوا، اور مسجد کے قریب ایک عمارت میں دینی علوم و فیوض کا یہ مرکز قائم کیا گیا۔ میں پہلی بار اس تعلیمی روحانی تربیت گاہ میں حاضر ہوا تو میرا طالب علمی کا دور تھا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ کے سالانہ جلسے کی ایک نشست میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ سن یاد نہیں مگر گزشتہ عیسوی صدی کے ساتویں عشرے کی بات ہے، حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ انتقال فرما چکے تھے، حضرت والد صاحب نے اس نشست سے خطاب کرنا تھا، وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے۔

جب ہم جلسہ گاہ میں پہنچے تو ایک سادہ سے بزرگ لوگوں سے مخاطب تھے اور سب لوگ جن میں علماء و طلباء کی اکثریت تھی، مؤدب بیٹھے ان کی باتیں سن رہے تھے۔ والد صاحب بھی سامنے ایک طرف بیٹھ گئے اور میں اس بزرگ کی باتیں سننے لگا۔ میرے پلے کچھ نہیں پڑ رہا تھا، چند لمحے خاموشی سے سمجھنے کی کوشش کرتا رہا، مگر جب دیکھا کہ ساری باتیں ہی سر کے اوپر سے گزر رہی ہیں تو والد صاحب کو توجہ دلا کر پوچھا کہ یہ بزرگ کیا کہہ رہے ہیں؟ والد صاحب نے مجھے گھور کر دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں خاموشی سے بیٹھو اور مجھے تقریر سننے دو۔ میں خاموش ہوگیا، تھوڑی دیر کے بعد والد صاحب کو خطاب کی دعوت دی گئی، انہوں نے مختصر بیان کیا اور ہم وہاں سے رخصت ہو گئے۔ بعد میں والد صاحب نے بتایا کہ یہ حضرت مولانا رسول خان صاحبؒ تھے جو خطاب فرما رہے تھے۔

حضرت مولانا رسول خانؒ کا نام سن رکھا تھا اور ان کی عظمت کا کچھ نقشہ بھی ذہن میں تھا کہ اس دور کے کامل علماء کرام کے استاد اور معقولات کے امام ہیں، اس لیے ان کی باتیں سمجھ نہ سکنے کی وجہ بھی ذہن میں آ گئی۔ ہمارے ہاں دینی مدارس میں یونانی منطق و فلسفہ کو معقولات کا درجہ حاصل ہے اور اس میں عبارت پر معقولی ہونے کا خطاب ملتا ہے۔ مجھے اس سے کبھی مناسبت نہیں رہی اور اس حوالے سے اپنے حلقوں میں ہمیشہ ’’نامعقول‘‘ سمجھا جاتا رہا ہوں۔ حتیٰ کہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ایک سال سالانہ امتحان کے لیے جامعہ اشرفیہ لاہور کے موجودہ مہتمم حضرت مولانا محمد عبید اللہ المفتی دامت برکاتہم تشریف لائے تو میری کلاس کا ’’قطبی‘‘ کا امتحان ان کے سپرد کر دیا گیا جو یونانی منطق کی زیرِ درس کتابوں میں سب سے مشکل سمجھی جاتی ہے۔ حضرت مولانا عبید اللہ دامت برکاتہم کا اس فن کے ائمہ میں شمار ہوتا ہے، جبکہ امتحان دینے والا میں تھا، نتیجہ ظاہر ہے کہ صفر کی شکل میں ہی ظاہر ہونا تھا، چنانچہ وہ زیرو اب تک ذہن میں تازہ ہے اور مجھے اپنی نالائقی کا احساس دلاتا رہتا ہے۔

اسے یونانی فلسفہ و منطق میں میری نالائقی کا ردعمل سمجھ لیجیے، یا افتادِ طبع اور ضروریاتِ زمانہ کا احساس کہ میں نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے عالمی منظر پر یونانی فلسفہ و منطق کی جگہ لینے والے موجودہ مغربی فکر و فلسفہ میں پناہ لی، اور اسے بھی فن اور علم کے طور پر نہیں بلکہ اس کے معروضی کردار اور اثرات کے حوالے سے اپنی فکری اور تدریسی تگ و دو کا موضوع بنا لیا۔ ویسے بھی اس حوالے سے میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یونانی فکر و فلسفہ کا زمانہ گزر چکا ہے اور اس علم و فن کو حاصل کرنے کی ضرورت اب صرف اپنے علمی ماضی سے وابستہ رہنے کی حد تک باقی رہ گئی ہے، جو اس حد تک ضروری بھی ہے۔ لیکن آج کی دنیا میں مغربی فکر و فلسفہ کا غلبہ ہے اور اس کا سکہ رائج الوقت ہے، اس لیے دینی مدارس کو اپنے نصاب میں مغربی فکر و فلسفہ اور دنیا میں اس کے علمی و تہذیبی اثرات کو ایک فن اور موضوع کے طور پر اسی طرح شامل کرنا چاہیے جس طرح یونانی فلسفہ و منطق کے عروج کے دور میں اسے دینی تعلیم کے نصاب کا حصہ بنایا گیا تھا۔

خیر بات حضرت مولانا رسول خانؒ کی ہو رہی تھی، میں نے جامعہ اشریفہ میں اپنی پہلی حاضری کے موقع پر سب سے پہلے ان کی زیارت کی اور ان کے ارشادات سے سماع کی حد تک مستفید ہوا۔ اس لیے وہ منظر اب تک ذہن کی اسکرین پر موجود ہے اور اس کو سامنے لا کر کبھی کبھی حظ اٹھاتا ہوں۔ حضرت مولانا رسول خان صاحبؒ ہمارے ہم وطن تھے، وہ ضلع مانسہرہ میں اچھڑیاں نامی بستی کے رہنے والے تھے اور وہیں ان کی قبر ہے۔ ہمارا مرکزی گاؤں بھی وہی ہے اور ہماری برادری اچھڑیاں میں اور اس کے اردگرد اَب بھی آباد ہے۔ اس کے بعد ان کی خدمت میں کئی بار حاضری ہوئی اور مشفقانہ دعاؤں سے فیضیاب ہوا۔

میں حضرت مولانا مفتی محمد حسن قدس اللہ سرہ العزیز کی زیارت نہیں کر سکا، البتہ کبھی کبھی ان کے فرزند و جانشین حضرت مولانا محمد عبید اللہ المفتی دامت فیوضہم کی ڈرتے ڈرتے اور تعارف کرائے بغیر زیارت کر کے اس محرومی کو کم کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔ البتہ ان کے بعد جامعہ اشرفیہ میں شیخین کا درجہ حاصل کرنے والے دونوں بڑے بزرگوں امام المعقولات حضرت مولانا رسول خان صاحبؒ اور امام المنقولات حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی زیارت اور ان کی باتوں سے خوشبو حاصل کرنے کا کئی بار موقع ملا ہے۔ حضرت مولانا رسول خانؒ کے ایک پوتے مولانا قاری عبد الرشید رحمانی میرے قریبی دوستوں میں سے ہیں جو برطانیہ میں کراڈلی کی جامع مسجد میں کئی سالوں سے خطابت و تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، میں جب بھی برطانیہ جاتا ہوں ان کی میزبانی سے فیضیاب ہوتا ہوں۔

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی زیارت پہلی بار جامع مسجد نیلا گنبد لاہور میں ہوئی جہاں مجھے میرے ایک دوست جمعہ پڑھنے کے لیے لے گئے۔ یہ بھی گزشتہ صدی کے ساتویں عشرے کی بات ہے، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ خطاب فرما رہے تھے اور معجزات پر ان کا بیان ہو رہا تھا۔ ان کا اندازِ بیان ایسا دل نشیں تھا کہ ایک ایک لفظ دل میں اتر رہا تھا، چنانچہ وہ منظر بھی اب تک یاد ہے۔ حضرت مولانا کاندھلویؒ ایک بار ہمارے ہاں گکھڑ بھی تشریف لائے اور مرکزی جامع مسجد میں بیان فرمایا۔ اس موقع پر والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے بتایا کہ مولانا کاندھلویؒ ان کے استاد ہیں اور انہوں نے غالباً مشکوٰۃ شریف مولانا کاندھلویؒ سے پڑھی تھی۔ اپنی سادگی، قناعت اور زہد و تقویٰ کے حوالے سے فی الواقع وہ اس دور کے بزرگ نہیں لگتے تھے، یوں محسوس ہوتا تھا کہ پچھلی صدی کے کوئی بزرگ ہمیں اس دور کا نمونہ دکھانے کے لیے ہمارے پاس بھیج دیے گئے ہیں۔ ان کی خدمت میں ایک حاضری اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ یاد ہے۔

میں اپنے ایک دوست اور جامعہ اشرفیہ کے فاضل مولانا قاری محمد یوسف عثمانی کے ہمراہ حضرت کاندھلویؒ کے درِ دولت پر حاضر ہوا۔ میرا معمول ہے کہ بزرگوں کی خدمت میں حاضری ہوتی ہے تو اپنا تعارف کرا کے خواہ مخواہ تکلف کا ماحول پیدا کرنے سے گریز کرتا ہوں اور خاموشی کے ساتھ استفادہ کو ترجیح دیتا ہوں۔ انہوں نے میرے بارے میں پوچھا تو میں نے عثمانی صاحب کو تعارف کرانے سے روک دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں ان دنوں جمعیۃ علماء اسلام کے ذمہ دار حضرات میں سے تھا، اور یہ تعارف حضرت مولانا کاندھلویؒ کے ہاں کوئی مثبت تعارف شمار نہیں ہوتا تھا۔ میں نے خود ہی گول مول سا تعارف کرایا کہ ایک مدرسہ میں پڑھاتا ہوں۔ پوچھا کہ کون سی کتابیں پڑھاتے ہو؟ میں نے بتایا تو بے حد خوشی کا اظہار کیا۔ اس بات پر ان کی خوشی قابلِ دید تھی کہ ایک نوجوان مولوی مدرسے میں پڑھاتا ہے اور اس کے زیر درس یہ کتابیں ہیں۔ اس خوشی میں انہوں نے زم زم پلایا، کھجوریں کھلائیں، اور اپنی تصنیف ’’سیرۃ المصطفٰیؐ‘‘ کی ایک جلد ہدیہ کے طور پر عطا فرمائی۔ پھر فرمایا کہ مولوی صاحب مجھے خوشی ہوئی کہ تم پڑھاتے ہو، اس لیے کہ آج پڑھانے کا ذوق کم ہو گیا ہے اور نوجوان علماء پڑھانے کی بجائے خطابت اور دیگر مشاغل پر زیادہ توجہ دینے لگے ہیں۔ پھر انہوں نے چند نصیحتیں بھی فرمائیں اور دعا کے ساتھ رخصت کیا۔

جامعہ اشرفیہ نے اپنی عمر کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر اپنے خلفاء کو ایک بڑی تقریب میں جمع کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ تقریب شروع ہو چکی ہے، برادر محترم حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم صاحب نے، جو اس عظیم درسگاہ کو دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق زیادہ سے زیادہ مؤثر اور متحرک بنانے کے لیے سرگرم ِعمل ہیں، مجھے بھی حاضری کی دعوت دی ہے۔ حاضری تو ہو گی، مگر اس کے ساتھ میں نے اس کالم کے ذریعے حاضری کو بھی ضروری سمجھا ہے کہ ایسے بزرگوں کی ہر بات ہمارے پاس نئی نسل کی امانت ہے جو اسے صحیح طور پر پہنچنی چاہیے۔ دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت جامعہ اشرفیہ کو حضرت مولانا محمد عبید اللہ، حضرت مولانا عبد الرحمٰن اشرفی، حضرت مولانا فضل الرحیم اور ان کے رفقاء کی قیادت میں مسلسل کامیابیوں اور ترقیات سے نوازتے رہیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter