مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ علماء اسلام کے درمیان مخاصمت پیدا کرنے کی کوشش

   
۳۰ جنوری ۱۹۷۶ء

گزشتہ ماہ چنیوٹ میں مجلس تحفظ ختم ختم نبوت پاکستان کے زیراہتمام سالانہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک کے تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے شرکت فرمائی۔ اس کانفرنس کے بارے میں لاہور کے ایک روزنامہ نے مندرجہ ذیل شرانگیز خبر شائع کی ہے:

’’یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحفظ ختم نبوت کے جلسہ کو جمعیۃ علماء اسلام مفتی محمود کے کارکنوں نے متعدد بار ناکام بنانے کی کوشش کی۔ جامعہ عربیہ میں مولانا منظور احمد چنیوٹی نے اپنے حواریوں کی ایک میٹنگ بلائی اور ان کو ہدایت کی کہ وہ سٹیج کے قریب بیٹھیں اور مقررین پر آوازیں کسیں لیکن جلسے کے منتظمین نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔‘‘

چونکہ اس خبر سے چند در چند غلط فہمیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے اس لیے اس کی تردید ضروری سمجھتا ہوں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اہل حق کی جماعت ہے جس نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کی قیادت میں فتنۂ قادیانیت کی بیخ کنی کے لیے قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں اور اب بھی حضرت العلام مولانا محمد یوسف بنوری مدظلہ اور حضرت مولانا محمد حیات صاحب مدظلہ کی سرپرستی میں اسی مشن کی خاطر جدوجہد میں مصروف ہے۔

جمعیۃ علماء اسلام اور اس کے اکابر نے اس مشن کو قائم رکھنے کے لیے مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ہمیشہ مخلصانہ تعاون فرمایا ہے، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نیز موجودہ بزرگوں حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم، قائد محترم حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مدظلہ، اور مرشدی حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ کا طرز عمل اس سلسلہ میں شاہدِ عدل ہے۔

تحریک ختم نبوت میں قومی اسمبلی کے اندر قائد جمعیۃ کا قائدانہ کردار اور ملک بھر میں جمعیۃ علماء اسلام کے ہزاروں کارکنوں کی سرفروشانہ جدوجہد سب کے سامنے ہے۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے بھی جو جمعیۃ علماء اسلام کے مخلص راہنما ہیں ملک کے اندر اور ملک سے باہر اس سلسلہ میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔

چنیوٹ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں ہر سال جمعیۃ علماء اسلام کے قائدین شرکت فرماتے ہیں، امسال قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود مدظلہ سفرِ حج کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے لیکن حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری اور جمعیۃ کے دیگر راہنماؤں نے کانفرنس میں شرکت کی اور اس سے خطاب فرمایا، نیز ملک بھر سے جمعیۃ کے بے شمار کارکن شریک ہوئے۔

ان حالات میں ایک اخبار میں اس شرانگیز اور بے بنیاد خبر کی اشاعت کا مقصد اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں اور کارکنوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جائیں۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی گزشتہ روز سیالکوٹ میں کسی مقدمہ کی تاریخ پر حاضری کے بعد گوجرانوالہ سے گزرتے ہوئے راقم الحروف کو ملے تو میرے استفسار پر انہوں نے اس خبر کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ نہ جامعہ عربیہ میں اس قسم کی کوئی میٹنگ ہوئی ہے اور نہ ہی جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں نے کانفرنس میں کسی قسم کی گڑبڑ کرنے کی کوشش کی ہے، یہ خبر من گھڑت اور بے بنیاد ہے۔

اس لیے میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی طرف سے اس خبر کی سختی کے ساتھ تردید کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ احباب کسی قسم کی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت ایک ہی سلسلۂ مقدسہ سے وابستہ دو تنظیمیں ہیں جو اپنے اپنے دائرہ کار میں دینِ حق کی مخلصانہ خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور ان شاء اللہ العزیز یہ خدمات آئندہ بھی اسی طرح جاری رہیں گی۔

   
2016ء سے
Flag Counter