قادیانیت ہدف کیوں؟

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ مارچ ۲۰۰۳ء

صدر جنرل پرویز مشرف کے پرسنل سیکرٹری اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جناب طارق عزیز کے حوالے سے ایک بار پھر قادیانیت کا مسئلہ منظر عام پر آیا ہے اور لاہور کے بعض علمائے کرام کی طرف سے اس مطالبہ نے اب تک زیر لب ہونے والی باتوں کو باقاعدہ خبر کی زبان دے دی ہے کہ جناب طارق عزیز کے والد بزرگوار کا جنازہ پڑھنے والے مسلم حکام کو تجدید ایمان کرنی چاہیے کیونکہ وہ قادیانی تھے۔ اس کے جواب میں طارق عزیز صاحب کے فرزند شعیب عزیز کا بیان آیا ہے کہ ان کی فیملی کا قادیانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور انھیں قادیانیت کے ساتھ ملوث کرنا افسوسناک ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ان کے پردادا قادیانی ہو گئے تھے لیکن ان کے دادا عزیز احمد نے، جن کے جنازے کے حوالے سے علماء کا مذکورہ بیان شائع ہوا ہے، قادیانیت سے توبہ کر لی تھی۔

یہ کم و بیش ہر حکومت کے دور میں ہوتا رہا ہے کہ حکومت یا اس کے پس پردہ کام کرنے والے اہم حکام کے بارے میں اس قسم کے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ وہ قادیانی ہیں اور ان میں سے بہت سے حضرات کو اپنی پوزیشن کی کھلے بندوں وضاحت کرنا پڑی ہے۔ بعض حضرات کو اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ ایسا صرف قادیانیت کے بارے میں کیوں ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے۔

اصولی طور پر تو یہ مسئلہ سب اقلیتوں کے بارے میں ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں کسی کلیدی منصب پر، جس کا تعلق پالیسی سازی سے ہو، کسی غیر مسلم کو مقرر کرنا درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی ریاست کی پالیسیوں کی بنیاد قرآن و سنت پر ہوتی ہے اور غیر مسلموں کے لیے قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں ہے۔ نیز کسی غیر مسلم کو اس کے عقیدہ اور دین کے خلاف پالیسی سازی کے عمل میں شریک کرنا خود اس کی مذہبی آزادی کے منافی اور اس پر مذہبی جبر کے مترادف ہے، اس لیے اسلام نے انھیں کسی بھی ایسی ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے جس میں انہیں اپنے مذہب اور عقیدہ کے خلاف دوسرے دین اور عقیدہ کی بنیاد پر کام کرنا پڑے۔ اسی لیے پاکستان میں دینی حلقوں کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ چلا آ رہا ہے کہ ملک کی کلیدی آسامیوں پر غیر مسلموں کے تقرر کو ممنوع قرار دیا جائے۔

یہی صورتحال فوج اور دفاع کی بھی ہے کہ اسلامی ریاست میں جنگ، دفاع اور فوج کا تعلق اسلام کے فریضہ جہاد سے ہے حتیٰ کہ پاکستانی فوج کا ماٹو بھی ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے۔ اب ظاہر بات ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا دینی فریضہ تو صرف مسلمان پر لاگو ہوتا ہے، کسی غیر مسلم کو اس کے لیے بھرتی کیا جائے گا تو یہ اس سے اس کے عقیدہ کے خلاف کام لینے کے مترادف ہوگا اور اسلام اس کا روادار نہیں ہے، اس لیے اسلام نے اسلامی ریاست کے تمام غیر مسلم باشندوں کو ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے ایک معمولی سے ٹیکس کے عوض ہر قسم کی فوجی ذمہ داری سے مستثنیٰ کر دیا ہے اور فوجی ڈیوٹی سے استثنا پر عائد کیا جانے والا ٹیکس شرعی اصطلاح میں ’’جزیہ‘‘ کہلاتا ہے۔

مگر اس اصولی مسئلہ اور موقف سے قطع نظر پاکستان میں بہت سے کلیدی عہدوں حتیٰ کہ فوج میں بھی غیر مسلم افسران کو ہر دور میں قبول کیا جاتا رہا ہے اور علمائے کرام نے اصولی موقف کے اظہار کے باوجود سول یا فوج کے کسی غیر مسلم افسر کو شخصی طور پر کبھی اپنی مہم اور مطالبات کا ہدف نہیں بنایا۔ البتہ قادیانیوں کا معاملہ اس سے الگ ہے اور پاکستان بننے کے بعد سے ہی اس مہم اور جدوجہد کا آغاز ہو گیا تھا کہ کسی قادیانی کو ملک کے کسی اہم منصب پر برداشت نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں دینی حلقوں کی تنقید کا سب سے پہلا ہدف وزیر خارجہ چودھری ظفر اللہ خان تھے جو کھلم کھلا قادیانی تھے بلکہ قادیانیت کے پرچارک تھے اور ۱۹۵۳ء کی مشہور تحریک ختم نبوت میں دینی حلقوں کے مطالبات میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ساتھ ساتھ وزارت خارجہ سے ان کی برطرفی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کی اس حساسیت کی بہت سی وجوہ ہیں:

  • مثلاً ایک وجہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نہ صرف نبوت کا دعویٰ کیا اور نئی وحی اور نبوت کا ڈھونک رچایا بلکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں ایسی ایسی گستاخیاں کی ہیں کہ کوئی مسلمان ان سے واقف ہوتے ہوئے کسی قادیانی کو اپنے افسر کے طور پر قبول نہیں کر سکتا۔
  • دوسری وجہ یہ ہے کہ قادیانیوں نے متحدہ ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کو قبول نہیں کیا اور ان کے تیسرے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کی یہ پیشین گوئی اب بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ پاکستان ختم ہوگا اور دوبارہ اکھنڈ بھارت قائم ہوگا، چنانچہ اس وصیت یا پیشین گوئی کی موجودگی میں پاکستان کی سالمیت اور وجود کے ساتھ قادیانیوں کی دلچسپی اور وفاداری مشکوک ہو جاتی ہے۔
  • تیسری وجہ یہ ہے کہ متعدد اہم مواقع پر قادیانی افسران کا یہ کردار قومی تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ انھوں نے ہمیشہ بیرونی وفاداریوں اور ہدایات کو ترجیح دی ہے۔ اور یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ قادیانیوں کا کردار پاکستان میں بلکہ اس کے قیام سے پہلے بھی استعماری قوتوں کے آلہ کار کا چلا آ رہا ہے۔
  • چوتھی وجہ یہ ہے کہ قادیانیوں نے اپنے بارے میں پاکستان کی سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت اور منتخب پارلیمنٹ کے اس متفقہ فیصلے کو قبول کرنے سے صراحتاً انکار کر رکھا ہے جس میں انھیں عالم اسلام کے تمام دینی حلقوں کے مشترکہ فتویٰ کی رو سے غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے، اور اس طرح قادیانی جماعت وہ واحد گروہ ہے جو دستور پاکستان کو تسلیم کرنے سے صاف طور پر منحرف ہے۔

ان کے علاوہ اور وجوہ بھی ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کے عوام بالخصوص دینی حلقے قادیانیوں کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہیں اور وہ بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ فوج یا سول کے کسی بھی اہم عہدے پر کسی قادیانی کی موجودگی اسلامیان پاکستان کے دینی جذبات کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی سالمیت اور قومی خود مختاری کے تقاضوں کو بھی نظر انداز کرنے کے مترادف ہے اور خاص طور پر موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال میں اس قسم کے خطرہ اور رسک کا ملک کسی طرح بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔

جناب طارق عزیز صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے پرسنل سیکرٹری ہیں، نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری بھی ہیں، انھیں عملی طور پر صدر پاکستان کے دست راست کی حیثیت حاصل ہے اور قومی معاملات میں ان کا متحرک کردار سب واقفان حال کے سامنے ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب ان کا نام پنجاب کے نئے گورنر کے طور پر لیا جا رہا ہے اور بین الاقوامی میڈیا کے حوالے سے یہ خبر آ چکی ہے کہ جناب طارق عزیز، جنرل خالد مقبول کی جگہ پنجاب کے آئندہ گورنر ہو سکتے ہیں۔

جہاں تک ان کے قادیانی ہونے کا تعلق ہے، اب تک ہمارا سامنا صرف افواہوں اور قیاس آرائیوں سے تھا اور اسی وجہ سے ہم نے اس سلسلہ میں ابھی تک کچھ عرض نہیں کیا، حتیٰ کہ گزشتہ دنوں لاہور اور اسلام آباد کی بعض محافل میں کچھ ذمہ دار دوستوں نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا کہ جناب طارق عزیز کا قادیانی ہونا قطعی بات ہے، لیکن ہم نے گزارش کی کہ جب تک اس کا ثبوت فراہم نہیں ہوگا ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے۔ لیکن اب طارق عزیز کے فرزند شعیب عزیز نے اپنے وضاحتی بیان میں یہ کہہ کر معاملہ کو خود مشکوک بنا دیا ہے کہ ان کے پردادا قادیانی ہو گئے تھے مگر دادا نے قادیانیت سے توبہ کر لی تھی۔ پھر یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ بات طارق عزیز کی ہو رہی ہے اور وہ خود اس کی وضاحت کرنے کے بجائے بیٹے کا سہارا لے رہے ہیں، اس لیے ہمارے خیال میں شعیب عزیز کے وضاحتی بیان سے مسئلہ صاف ہونے کے بجائے مزید الجھ گیا ہے اور طارق عزیز صاحب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خود اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے صاف طور پر بتائیں کہ قادیانیوں کے بارے میں خود ان کا عقیدہ کیا ہے؟

یہ بات کوئی نئی نہیں ہے، اس سے قبل صدر محمد ایوب خان مرحوم، صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں منظور وٹو عوامی مطالبہ پر اپنے قادیانی نہ ہونے کی وضاحت کر چکے ہیں اور انھوں نے اپنے اوپر قادیانی ہونے کا الزام نہ لیتے ہوئے کھلے بندوں اپنے عقیدہ کا اظہار کیا ہے۔ لہٰذا جناب طارق عزیز بھی اگر اپنے عقیدہ کی خود وضاحت کریں گے تو اس سے ان کی عزت اور اعتماد میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوگا۔