بخاری شریف اور عصر حاضر کی سماجی ضروریات

   
۲۹ فروری ۲۰۲۰ء

دینی مدارس کے اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں ختم بخاری شریف، دستار بندی اور تقسیم انعامات کے عنوانات سے تقریبات کا تسلسل جاری ہے۔ گزشتہ عشرہ کے دوران دارالعلوم محمدیہ (اٹھارہ ہزاری)، جامعہ حسینیہ (دینہ)، مدرسہ تعلیم القرآن (کوٹ بلال)، جامعہ اجمل المدارس (فیروز ٹواں)، جامعہ مظاہر العلوم (کوٹ ادو)، جامعہ نظامیہ حیدریہ (بہاولپور)، جامعہ حنفیہ بورے والا اور دیگر مقامات پر ایسے متعدد پروگراموں میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی اور طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ عوامی اجتماعات میں بھی کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ اس بار دو تین امور گفتگو کا بطور خاص موضوع ہیں جن کا مختصر تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

  1. پہلی بات یہ کہ آج کے عالمی حالات اور فکری مباحث کے تناظر میں حدیث نبویؐ کی حجیت و مقام اور اہمیت و ضرورت کے علاوہ اس کا وہ تعارفی پہلو بھی بطور خاص اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ احادیث نبویہ علی صاحبہا التحیۃ والسلام دین کی کسی بھی بات تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہیں حتٰی کہ قرآن کریم تک رسائی بھی حدیث کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً نزول کے حوالہ سے قرآن کریم کی پہلی پانچ آیات سورۃ العلق کی ہیں جو ہمیں غار حرا کے واقعہ سے ملی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حرا کی غار میں ایک واقعہ پیش آیا جو آپؐ سے سن کر صحابہ کرامؓ نے روایت کر دیا، اسے حدیث کہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہمیں پہلی وحی تک رسائی حاصل ہوئی۔ یہی معاملہ قرآن کریم کی باقی سورتوں اور آیات کا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم سے پہلے حدیث نبویؐ کو ماننا اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر قرآن کریم کی کسی سورت، آیت اور جملہ پر ایمان لانا ممکن ہی نہیں ہے۔
  2. دوسری بات جو ان مجالس میں عرض کر رہا ہوں کہ بخاری شریف احادیث نبویہؐ کا بیش بہا اور مستند ترین مجموعہ ہے جو حضرت امام بخاریؒ نے بڑی محنت اور ذوق کے ساتھ جمع کیا ہے، اور اسے امت میں سب سے زیادہ قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ مگر اس میں امام بخاریؒ نے انسانی سوسائٹی کو درپیش مسائل و مشکلات کا قرآن و سنت کی روشنی میں حل جس ترتیب اور اسلوب کے ساتھ پیش کیا ہے اسے زیادہ اہتمام کے ساتھ سامنے لانا ضروری ہے، کیونکہ آج کے انسانی سماج کو اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ جبکہ محض اصطلاحات کے فرق کے باعث ہم اس پہلو کی طرف پوری طرح متوجہ نہیں ہو پا رہے۔

    مثلاً ہمارے ہاں موضوعات کی جو ترتیب و تقسیم معروف ہے اس میں ’’کتاب الاحکام‘‘ کا یہ مطلب بنتا ہے کہ عقائد، فرائض، احکام، معاملات، آداب اور اخلاقیات کے دائروں میں سے ایک دائرہ کی احادیث اس میں مذکور ہوں گی، جبکہ واقعتاً ایسا نہیں ہے بلکہ حضرت امام بخاریؒ نے ’’کتاب الاحکام‘‘ میں اسلام کے نظم مملکت اور نظام حکومت کے اصول و ضوابط بیان کیے ہیں کہ حکومت و ریاست کیا ہوتی ہے؟ حکمران کیسا ہونا چاہیے؟ حکم و قانون کی بنیاد کیا ہے؟ حاکم و رعیت کے درمیان رابطہ اور کمٹمنٹ کی نوعیت کیا ہے؟ قضا و عدالت کا طریق کار کیا ہونا چاہیے؟ وغیر ذٰلک۔ اسی طرح زہد و رقائق کے حوالہ سے امام بخاریؒ نے جو روایات پیش کی ہیں وہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشاد کے مطابق سلوک و احسان اور روحانیات و وجدانیات کے دائرہ کی روایات ہیں، بلکہ امام ولی اللہؒ تو بخاری شریف کو علم تفسیر، علم حدیث، علم فقہ، علم تاریخ اور علم تصوف کا مجموعہ قرار دیتے ہیں۔ جبکہ ہم امام بخاریؒ کے اسلوب و ذوق اور اصطلاحات سے کماحقہ متعارف نہ ہونے کے باعث ان ابواب سے عمومی ماحول میں ہی گزر جاتے ہیں۔

  3. تیسری بات جس کا تذکرہ اس گفتگو میں ہو رہا ہے، یہ ہے کہ امام بخاریؒ کوئی مسئلہ بیان کرتے ہیں یا موقف اختیار کرتے ہیں تو اس کی تائید میں قرآن کریم کی آیات اور احادیث نبویہؐ پیش کرتے ہیں اور پھر ان کی وضاحت کے لیے آثار صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کو لاتے ہیں۔ گویا کسی بھی دینی مسئلہ میں استدلال کے لیے یہی معتمد دائرے ہیں اور یہ اہل سنت کا دائرہ استدلال ہے جسے واضح کرنا دور حاضر کی اہم ترین فکری و علمی ضرورت ہے، کیونکہ ہمارے عمومی ماحول میں دلیل و استدلال کے دائروں اور معیارات کو خلط ملط کیا جا رہا ہے جس سے بڑی خرابیاں جنم لے رہی ہیں۔ مثلاً امام بخاریؒ نے بخاری شریف کے آغاز میں کتاب الایمان کے عنوان سے عقائد و ایمانیات بیان کیے ہیں اور اختتام پر ’’کتاب التوحید‘‘ کے عنوان سے عقائد کی تعبیرات کو موضوع بحث بناتے ہوئے بعض غلط تعبیرات کا رد کیا ہے۔ اور دونوں جگہ استدلال کی بنیاد قرآن کریم، حدیث نبویؐ اور آثار صحابہؓ و تابعینؒ پر رکھی ہے۔ گویا ان کے نزدیک کسی عقیدہ کا ثبوت بھی ان دلائل سے ہوگا اور عقیدہ کی تعبیر و تشریح کے لیے بھی یہی تین دائرے دلیل ہوں گے۔ اگر اس بات کو ہم علمی انداز میں پیش کر کے اسے نئی نسل کو صحیح طور پر سمجھا سکیں تو لوگوں کے بہت سے فکری مغالطوں کا خودبخود ازالہ ہو جاتا ہے۔
  4. دینی مدارس کے ان اجتماعات میں مدارس کے حوالہ سے موجودہ صورتحال اور نصاب تعلیم کی یکسانیت کی سرکاری مہم بھی گفتگو کا موضوع بن رہی ہے اور کم و بیش ہر جگہ اس کے بارے میں سوالات ہو رہے ہیں، جس کے جواب میں عرض کر رہا ہوں کہ پہلے اس ساری بحث کے تاریخی پس منظر کو سامنے لانا ضروری ہے۔ مثلاً درس نظامی کا یہ نصاب حضرت ملا نظام الدین سہالویؒ نے اورنگزیب عالمگیرؒ کے دور میں مرتب اور رائج کیا تھا جو اس وقت سے ۱۸۵۷ء تک ڈیڑھ سو سال سے زائد عرصہ اس طرح پڑھایا جاتا رہا ہے کہ قرآن کریم، حدیث و سنت، فقہ و شریعت اور عربی و فارسی زبانوں کے ساتھ ساتھ اس دور کی معقولات و فلسفہ، سائنس، طب، ریاضی، معاشرتی علوم اور ٹیکنالوجی بھی نصاب کا حصہ تھے اور یہ سب مضمون اکٹھے پڑھائے جاتے تھے۔ مگر انگریزوں نے ۱۸۵۷ء میں اس خطہ پر قبضہ جمانے کے بعد جب قرآن، حدیث، فقہ، عربی اور فارسی کے مضامین کو نصاب سے خارج کر دیا تو ان کی تعلیم کو باقی رکھنے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر میں دینی مدارس وجود میں آئے اور اسکول اور مدرسہ کی یہ تقسیم سامنے آئی جو برطانوی حکومت کے اقدامات کا نتیجہ تھی۔ جبکہ قیام پاکستان کے بعد بھی ریاستی پالیسی کا یہی تسلسل اب تک چل رہا ہے۔ اس لیے اگر دونوں کو دوبارہ جمع کرنا ہے تو قرآن و حدیث اور فقہ و عربی کے وہ مضامین ریاستی نظام تعلیم میں واپس شامل کرنا ہوں گے جیسے ۱۸۵۷ء سے قبل تھے، اس کے بغیر اس کی اور کوئی صورت قابل قبول اور قابل عمل نہیں ہو سکتی۔ اور اس معروضی حقیقت کو نظر انداز کر کے نصاب تعلیم کی یکسانیت کا کوئی بھی فارمولا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔
   
2016ء سے
Flag Counter