مسئلہ سود پر دو اہم باتیں

   
تاریخ بیان: 
۲ جون ۲۰۱۰ء

( اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام سود کے مسئلہ پر منعقدہ سیمینار سے خطاب)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں اسلامی نظریاتی کونسل کا شکرگزار ہوں کہ سود کے بارے میں منعقدہ دو روزہ سیمینار میں مجھے بھی شرکت کا موقع عطا کیا گیا جس میں مختلف مکاتب فکر کے ارباب علم و دانش سود اور سودی نظام کے حوالہ سے موجودہ معروضی صورتحال اور اس سلسلہ میں مشکلات و مسائل کے حل کے موضوع پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ میں اس مرحلہ میں اس موضوع پر کوئی تفصیلی بات نہیں کرنا چاہتا اور مختلف الخیال ارباب دانش کے خیالات سننے کی نیت سے حاضر ہوا ہوں، مگر مجھ سے پہلے ایک فاضل دوست نے اپنے خطاب میں کچھ اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے جن میں سے دو نکات پر مختصرًا کچھ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔

  1. انہوں نے فرمایا ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری خطبۂ جمعہ میں فرمایا تھا کہ جناب نبی اکرمؐ دنیا سے تشریف لے گئے مگر انہوں نے ’’ربوٰا‘‘ کے بعض پہلوؤں کی وضاحت نہیں فرمائی۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق یہ درست ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمرؓ نے یہ بات فرمائی تھی لیکن میں اس پر یہ سوال کرنا چاہوں گا کہ:
    • ربوٰا کے ان بعض پہلوؤں کی وضاحت، جو حضرت عمرؓ کے اس ارشاد کے مطابق وضاحت طلب تھے، خود جناب نبی اکرمؐ نے واپس آ کر فرمانا تھی؟ یا اب یہ امت کا کام تھا کہ وہ اس کی وضاحت تلاش کرے؟
    • اور امت کے اہل علم نے ان پہلوؤوں کو اسی طرح وضاحت طلب چھوڑ دیا یا ان کی وضاحت کا فریضہ ادا کیا؟
    • اور پھر امت کے اہل علم نے ان ابواب کی وضاحت کر کے ربوٰا کے بارے میں امت کا جو جمہوری موقف طے کیا اور صدیوں سے امت کے جمہور اہل علم کا وہی موقف چلا آرہا ہے اس کی کیا علمی حیثیت ہے؟ کیا اس سارے عمل کو نظر انداز کر کے ہم پھر اسی مقام پر جا کھڑے ہوں گے جب حضرت عمرؓ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی؟
  2. دوسری بات فاضل مقرر نے فرمائی ہے کہ ہمیں سود کے حوالہ سے آج کے حالات کے تناظر میں اپنے موقف پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ نظرثانی کب سے کرنی ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم امت کے چودہ سو سالہ علمی موقف کو مسترد کر کے پھر سے زیرو پوائنٹ پر جا کھڑے ہوں؟

جہاں تک نظر ثانی کا تعلق ہے ہم اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں کہ حالات کے تغیر اور عرف و تعامل کی تبدیلی سے جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان پر مسلمہ اصولوں کی روشنی میں غور کرایا جائے اور جہاں ضرورت و گنجائش ہو وہاں نظر ثانی بھی کی جائے۔ (خلافت عثمانیہ کا ’’مجلۃ الاحکام العدلیۃ‘‘ اور مغل حکومت کا ’’فتاوٰی عالمگیری‘‘ اسی نظرثانی پر مشتمل ہے)۔ لیکن پورے فقہی ڈھانچے کی تشکیلِ نو اور تمام اسلامی احکام و قوانین اور ان کے اصول و قواعد کے ازسر نو تعین کی بات قبول کرنا مشکل ہے، اس لیے کہ ارتقا ماضی کے علمی تعامل و توارث کو مسترد کر کے زیروپوائنٹ پر واپس جانے کا نام نہیں ہے بلکہ اب تک کے تمام علمی سفر اور پراسیس کو تسلیم کرتے ہوئے، اس کے مکمل احترام کے ساتھ اسے برقرار رکھتے ہوئے اس سے آگے بڑھنے کو ارتقا کہا جاتا ہے، اس لیے فقہی احکام پر نظرثانی کی بات کرتے ہوئے اس کو ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

موضوع: