میری صحافتی زندگی

   
۳ ستمبر ۲۰۱۵ء

اخبارات و جرائد میں کسی نہ کسی بہانے مراسلے، بیانات، اجلاسوں کی رپورٹیں اور ہلکے پھلکے مضامین لکھنے کا ’’چسکہ‘‘ تو ۱۹۶۴ء میں ہی شروع ہوگیا تھا جب میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اپنی طالب علمی کے تیسرے سال میں تھا۔ حافظ سید جمیل الحسن مظلوم مرحوم ’’نوائے گوجرانوالہ‘‘ کے نام سے ہفت روزہ اخبار نکالتے تھے۔ گھنٹہ گھر کے قریب چوک غریب نواز میں دفتر تھا جو ہمارے مدرسہ سے چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ مولانا عزیز الرحمن خورشید اور مولانا سعید الرحمن علویؒ بھیرہ کے حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ کے فرزند تھے اور نصرۃ العلوم میں زیر تعلیم تھے۔ ان کا اور میرا مشترکہ ذوق یہ تھا کہ بیانات اور مضامین لکھ کر اخبارات میں شائع کرانے کی کوشش کرنا۔ اور پھر شائع شدہ بیان یا مضمون دوستوں کو پڑھانا۔ ’’نوائے گوجرانوالہ‘‘ کے علاوہ ہفت روزہ ’’قومی دلیر‘‘ اور سہ روزہ ’’تحفہ‘‘ بھی مقامی اخبارات تھے اور ہماری ابتدائی جولانگاہ یہی جرائد تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے آرگن ہفت روزہ ’’ترجمان اسلام‘‘ لاہور کو بھی مضامین بھجوائے جاتے تھے جن میں اکثر شائع ہو جاتے تھے۔

البتہ صحافتی زندگی میں میری باضابطہ انٹری ستمبر ۱۹۶۵ء میں ہوئی جب میں نے گکھڑ میں روزنامہ وفاق لاہور کے نامہ نگار کے طور پر کام شروع کیا۔ ۶ ستمبر کو جنگ کے پہلے مرحلہ میں ہی صبح نماز کے وقت گکھڑ ریلوے اسٹیشن پر بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے بمباری کی جس میں ہمارے ایک دوست صفدر باجوہ شہید ہوگئے۔ وہ ریلوے اسٹیشن کی دوسری جانب اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے کہ بھارتی طیارے کی بمباری کا نشانہ بن گئے۔ میں نے اس واقعہ پر ایک فیچر لکھا جو روزنامہ وفاق لاہور میں شائع ہوا تھا۔ یہ میری صحافتی زندگی کا عملی آغاز تھا اور اس کے بعد روزنامہ وفاق کے نامہ نگار کے طور پر کچھ عرصہ کام کرتا رہا۔

حافظ سید جمیل الحسن مظلومؒ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مجاز صحبت حضرت حافظ عنایت علی رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرزند تھے۔ انجمن صحافیان کے ضلعی صدر تھے اور قائد صحافت کہلاتے تھے۔ میری خبر نویسی کی حوصلہ افزائی میں ان کا بہت حصہ ہے۔ ’’نوائے گوجرانوالہ‘‘ میں ہی راشد بزمی مرحوم اور حافظ خلیل الرحمن ضیاء مرحوم سے تعارف ہوا۔ بزمی صاحب مرحوم ایک عرصہ تک روزنامہ جنگ کے نمائندہ خصوصی رہے جبکہ حافظ خلیل الرحمن ضیاء کا تعلق بھی جنگ اور وفاق سے رہا۔ حافظ صاحب مرحوم جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل اور میرے دورۂ حدیث کے ساتھی بھی تھے۔ اس وقت گوجرانوالہ میں مختلف اخبارات کے نمائندوں میں بذل احمد ایوبی مرحوم، کیف صہبائی مرحوم، اعجاز میر مرحوم، اکرم ملک، اور جی ڈی بھٹی نمایاں تھے۔ اور ان سب سے میرے دوستانہ مراسم تھے۔ ان کے ساتھ میری انڈر اسٹینڈنگ تھی کہ میں جمعیۃ علماء اسلام یا کسی دینی تحریک کے حوالہ سے کوئی خبر بھجواتا تو وہ نہ تو کسی لیٹر پیڈ پر ہوتی اور نہ ہی اس پر مہر اور دستخط موجود ہوتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمہاری بھجوائی ہوئی خبر پر کسی کمی بیشی کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے سادہ کاغذ پر لکھ کر بھیج دیا کرو۔ وہ میری ہینڈ رائیٹنگ پہچانتے تھے اور اسے دیکھ کر اسی پر دستخط ثبت کر کے اپنے اپنے اخبارات کو بھجوا دیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ سالہا سال چلتا رہا۔

ہفت روزہ ’’ترجمان اسلام‘‘ لاہور اور ہفت روزہ ’’خدام الدین‘‘ لاہور میں بھی وقتاً فوقتاً لکھنے کا کام جاری رہا جو آگے چل کر ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی باقاعدہ ادارت سنبھالنے تک پہنچا، اور میں کئی برس جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ہفت وار آرگن کا ایڈیٹر رہا۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور پاکستان قومی اتحاد کے صوبائی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے مجھے حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور نواب زادہ نصر اللہ خان مرحوم کی سالہا سال تک رفاقت کا شرف حاصل رہا اور میں نے ان بزرگوں سے بہت کچھ سیکھا جس سے میرے صحافتی شعور میں پختگی آئی۔

معروف احرار راہ نما جانباز مرزا مرحوم ماہنامہ ’’تبصرہ‘‘ کے نام سے ایک عرصہ سے جریدہ شائع کر رہے تھے جس کی اشاعت میں ۷۷ ء / ۷۸ء کے دوران کچھ وقفہ آیا تو میری درخواست پر انہوں نے یہ جریدہ میرے حوالے کر دیا۔ اور میں نے اپنے رفیق مولانا صالح محمد حضروی کی رفاقت میں کئی ماہ تک اس کی اشاعت و ادارت کا اہتمام کیا۔

۱۹۸۹ء کے آخر میں ’’الشریعہ‘‘ کے نام سے میں نے ایک مستقل جریدہ کا ڈیکلیریشن حاصل کیا جو گوجرانوالہ سے تب سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اس کا مدیر مسئول میں خود ہوں جبکہ مدیر کے طور میرا بڑا بیٹا پروفیسر حافظ محمد عمار خان ناصر کم و بیش دو عشروں سے خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ عمار خان ناصر جامعہ نصرۃ العلوم کا فاضل اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش ہے، اور اب پی ایچ ڈی کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ جبکہ گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں اسلامیات کے شعبہ ایم فل کا استاذ و نگران ہے۔

قومی اخبارات جنگ، نوائے وقت، مشرق اور وفاق میں وقتاً فوقتاً مختلف عنوانات پر لکھتا آرہا ہوں، مگر برادرم حامد میر اور مولانا اللہ وسایا قاسم شہیدؒ کی ترغیب پر میں نے باقاعدہ ’’کالم نگاری‘‘ کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ حامد میر صاحب ان دنوں روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے مدیر تھے اور وہیں سے میں نے کالم لکھنے کا آغاز کیا تھا۔ بعد میں وہ روزنامہ اوصاف میں گئے تو میں بھی ان کے ساتھ ہی اوصاف میں منتقل ہوگیا۔ اس کے بعد مختلف اتار چڑھاؤ آئے مگر روزنامہ پاکستان لاہور، روزنامہ اسلام کراچی اور روزنامہ اوصاف اسلام آباد میں میرے کالم الگ الگ عنوانات سے مسلسل چھپتے رہے ہیں جس کی تازہ ترین صورت یہ ہے کہ ہفتہ میں ایک یا دو کالم لکھتا ہوں جو (۱) روزنامہ اوصاف (۲) روزنامہ اسلام اور (۳) روزنامہ انصاف میں بیک وقت شائع ہو جاتے ہیں۔ اور اس پر ملک بھر سے احباب کی دعائیں ملتی رہتی ہیں، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔

ستمبر ۲۰۱۵ء کے پہلے عشرہ میں میری باقاعدہ صحافتی زندگی کے پچاس سال مکمل ہو رہے ہیں جس پر ’’تحدیث نعمت‘‘ کے طور پر چند سطور میں اپنی اس شعبہ کی کارگزاری قارئین کی خدمت میں پیش کر دی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے اور بزرگوں کی شفقتیں اور دعائیں ہیں کہ اللہ رب العزت تدریس، خطابت اور صحافت کے تینوں شعبوں میں کسی نہ کسی حوالہ سے دین کی کچھ نہ کچھ خدمت لیتے آرہے ہیں۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ خصوصی طور پر دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ زندگی بھر یہ خدمت لیتے رہیں اور ایمان و اعمال صالحہ پر خاتمہ نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter