افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کی مہم

   
تاریخ اشاعت: 
۱۲ جنوری ۲۰۲۲ء

پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے افغان عوام کے ساتھ یکجہتی و ہم آہنگی کے اظہار کے لیے ’’عشرۂ یکجہتی افغانستان‘‘ منانے کا اعلان کیا گیا تھا جو دس جنوری کو مکمل ہو گیا ہے جبکہ امیر محترم مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی نے یہ سلسلہ جنوری کے آخر تک جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلہ میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی طرف سے جاری کردہ اعلان درج ذیل ہے۔

’’پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی نے ’’عشرہ یکجہتی افغانستان‘‘ کے دوران افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں اور کارکنوں کی مسلسل محنت اور مختلف دینی و سیاسی حلقوں کی طرف سے حمایت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلسل بارشوں اور موسم کی خرابی کے باوجود یہ مہم افغان عوام کے ساتھ پاکستانی عوام اور دینی حلقوں کی ہم آہنگی کی علامت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان (مولانا سمیع الحق گروپ) نے اس مسئلہ پر 17 جنوری کو اسلام آباد میں کل جماعتی سربراہی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ پاکستان شریعت کونسل کی توجہ دلاؤ مہم کا مقصد بھی یہی ہے کہ ملک کی دینی و سیاسی جماعتیں اس طرف سنجیدہ توجہ دیں اور ’’امارت اسلامی افغانستان‘‘ کی حکومت کو تسلیم کرانے، مغربی ملکوں میں منجمد افغانستان کے اثاثوں کی بحالی، اور افغانستان کی تعمیر نو میں غیر مشروط تعاون کو اپنے ایجنڈے میں شامل کریں۔

مولانا قاضی رویس خان ایوبی نے کہا ہے کہ اگرچہ عشرہ یکجہتی افغانستان 10 جنوری کو مکمل ہو چکا ہے مگر ہم اس مہم کو مسلسل جاری رکھیں گے جس کے لیے ملک بھر میں جماعتی کارکنوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ پورا مہینہ یہ مہم جاری رکھیں اور اس دوران مختلف طبقات کے رہنماؤں سے مطالبات کی حمایت میں دستخط کرانے کے علاوہ وکلاء، تاجروں، ڈاکٹر حضرات اور دیگر طبقات کی تنظیموں سے رابطہ کر کے قراردادیں منظور کرائیں۔ اور اس آواز کو زیادہ سے زیادہ زیادہ منظم کرنے کی کوشش کریں کہ امارت اسلامی افغانستان کی حکومت کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے، مغربی ممالک افغانستان کے منجمد فنڈز اور اثاثے بحال کریں، اور موجودہ سنگین معاشی بحران میں افغان عوام کو ہر قسم کی امداد غیر مشروط طور پر مہیا کی جائے۔

انہوں نے پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عبد الرؤف محمدی کے سربراہی میں اسلام آباد میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان شریعت کونسل کی ملک گیر سرگرمیوں کو مربوط کرنے، دستخطوں کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے اور افغان عوام کی امداد کے لیے مجاز اداروں کے ساتھ عوام کے مختلف طبقات کا رابطہ کرانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں مولانا محمد رمضان علوی، مولانا ثناء اللہ غالب، مولانا حافظ علی محی الدین، سعید احمد اعوان اور مفتی محمد سعد سعدی شامل ہیں۔ ‘‘

عشرۂ یکجہتی افغانستان کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں احباب نے خاصی محنت کی ہے اور سرکردہ حضرات کی طرف سے اس مہم کی حمایت میں تائیدی دستخط اور بیانات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جو مسلسل بارشوں کے باوجود خاصی حوصلہ افزا رہی ہے، اس کی تفصیلی رپورٹ جنوری کے اختتام پر جاری کی جائے گی ان شاء اللہ تعالیٰ، سردست دو اہم باتوں کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔

انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے امیر اور پنجاب اسمبلی کے رکن مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے نہ صرف اس جدوجہد کی حمایت کا اعلان کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ انہوں نے پنجاب اسمبلی میں ان مطالبات کی حمایت میں قرارداد کے لیے تجویز باقاعدہ جمع کرا دی ہے۔ اس کے علاوہ پتوکی بار ایسوسی ایشن اور ٹوبہ ٹیک سنگھ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی ان مطالبات کی حمایت کی ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ بار کی قرارداد کا متن درج ذیل ہے:

’’ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ٹوبہ ٹیک سنگھ حکومتِ پاکستان و دیگر اسلامی ممالک سے مطالبہ کرتی ہے کہ افغانستان میں خوراک کے بحران کو مدِنظر رکھتے ہوئے اور انسانی حقوق و ہمدردی کا خیال کرتے ہوئے افغان حکومت اور عوام کی فوری مدد کریں اور انسانی جانوں کو بچانے میں معاون ہوں۔ نیز یہ کہ حکومتِ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے افغان حکومت کو تسلیم کرے۔ یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ نیٹو اور امریکہ افغانستان کے ضبط کئے گئے اثاثے فی الفور بحال کریں تاکہ لاکھوں افغان مرد، عورت، بچے اور بوڑھے دوائیوں اور خوراک کی عدم دستیابی سے لقمۂ اجل بننے سے بچ سکیں۔ ڈسٹرکٹ بار اس بات پر زور دیتی ہے کہ یہ موقع ہے کہ دنیا افغان حکومت اور عوام کی مدد کر کے ان کو بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کیلئے پابند بنانے کی خاطر ساتھ لے کر چلے۔ نیز ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ٹوبہ ٹیک سنگھ اس سلسلہ میں ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کے تمام مطالبات کی حمایت و تائید کرتی ہے۔‘‘

اس تناظر میں پورے ملک میں پاکستان شریعت کونسل سے وابستہ علماء کرام اور دینی کارکنوں کے ساتھ ساتھ اس کے مطالبات کی حمایت کرنے والے تمام سیاسی و دینی راہنماؤں اور کارکنوں سے گزارش ہے کہ وہ پاکستان شریعت کونسل کے ساتھ تعاون کریں:

  • دینی و سیاسی راہنما ان مطالبات کی تائید میں بیانات جاری کریں۔
  • وکلاء بار ایسوسی ایشن کے فورم سے اس کی حمایت کریں۔
  • تاجر تنظیمیں حمایت کے ساتھ ساتھ عملی امداد کے لیے اس سلسلہ میں قائم کی جانے والی ’’اسلام آباد کمیٹی‘‘ سے رابطہ کریں۔
  • علماء کرام خطبات جمعہ میں افغان بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا مسلسل اظہار کریں۔
  • پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے دوست اس آواز کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک مؤثر انداز میں پہنچانے کا اہتمام کریں۔

تاکہ ہم سب مل کر اس نازک وقت اور سنگین بحران میں اپنے افغان بھائیوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter