پاکستان کا نظامِ سیاست: ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘

   
۱۹ جولائی ۲۰۰۲ء

صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے جن اصلاحات کا اعلان کیا ہے وہ نئی نہیں ہیں۔ بلکہ یہ اس دستوری آنکھ مچولی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں جو قیام پاکستان کے بعد سے اب تک مسلسل جاری ہے اور جس میں ہمارے حکمران طبقات باری باری طاقت کو اپنے ہاتھ میں لینے اور پھر اسے کنٹرول میں رکھنے کا تجربہ کرتے آرہے ہیں۔ گورنر جنرل غلام محمد سے اس کھیل کا آغاز ہوا اور سکندر مرزا، جنرل محمد ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو، اور میاں نواز شریف کے ادوار سے گزرتا ہوا اب یہ کھیل جنرل پرویز مشرف کی کپتانی میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہا ہے۔ سیاستدان، بیوروکریٹس، اور جنرل صاحبان اس کھیل کی اصل ٹیمیں ہیں اور جس ٹیم نے بھی وکٹ سنبھالی ہے، کھیل کے ضوابط اور اخلاقیات کی کوئی پروا کیے بغیر وکٹ پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے جو کچھ اس کے بس میں ہوا ہے کر گزری ہے۔

قومی تاریخ میں ۱۹۵۶ء اور ۱۹۷۳ء کے دساتیر کی منظوری کے دو مراحل ایسے آئے تھے جن میں قوم کو یہ توقع ہو چلی تھی کہ شاید اب قومی سیاست کی گاڑی طاقت کی کشمکش سے نجات پا کر اصول اور قواعد و ضوابط کی پٹری پر چل پڑے گی۔ مگر اصول، قانون، ضابطہ، اور اخلاقیات کا دورانیہ بہت مختصر رہا جبکہ قوت و طاقت کے حصول اور اس کے اندھا دھند استعمال کی روش پھر قوم کو سیاسی دھینگا مشتی کے دور میں واپس لے گئی۔ اختیارات کے ایک ہاتھ میں ارتکاز کا تصور بہت پرانا ہے۔ غلام محمد نے اسی فلسفہ کے تحت دستور ساز اسمبلی کا کریاکرم کیا تھا اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسے سندِ جواز بھی فراہم کر دی تھی۔ پھر جنرل محمد ایوب خان نے یہی فارمولا اپنایا اور عدالت عظمیٰ ان کی پشت پر رہی۔ اس کے بعد جنرل محمد یحییٰ خان کے دور میں فرد واحد کے فیصلوں نے ملک کو بھی دولخت کر دیا۔ لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد جب باقی ماندہ پاکستان میں ۱۹۷۳ء کا دستور منظور ہوا تو محب وطن حلقوں نے اطمینان کا سانس لیا کہ اب ملک میں فرد واحد کے فیصلوں کی بجائے پارلیمنٹ اور اداروں کی حکمرانی کا دور شروع ہوگا اور طاقت کی بالادستی کے فلسفہ سے نجات ملے گی۔ مگر بدقسمتی سے ۱۹۷۳ء کے دستور کو منظور کرانے والے سیاستدان وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور میں ہی یکطرفہ دستوری ترامیم کے ذریعہ اختیارات کو ایک ہاتھ میں مرتکز کرنے اور اختلاف کرنے والے منتخب نمائندوں کو اٹھا کر پارلیمنٹ ہاؤس سے باہر پھینک دینے کی کاروائی سامنے آئی تو اصول و قانون کی بالادستی اور اداروں کی حکمرانی کا خواب ایک بار پھر پریشان ہوگیا اور پاکستان دوبارہ غلام محمد کے دور میں واپس چلا گیا۔

جنرل ضیاء الحق جب آئے اور انہوں نے دستور کی بساط لپیٹ کر تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے تو ان کے دلائل بھی وہی تھے جو آج نئی سیاسی اصلاحات کے حق میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ دلائل اس سے قبل جناب غلام محمد اور جنرل محمد ایوب خان کے کام بھی آچکے تھے۔ جبکہ انہی دلائل کی بنیاد پر عدالت عظمیٰ نے جنرل محمد ضیاء الحق کی شخصی حکومت کو بھی تحفظ فراہم کر دیا۔ اس کے بعد بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف دو مرتبہ حکومت میں آئے مگر طرز وہی رہا کہ

  • حکومت کی کرسی پر ہیں تو تمام اختیارات اور طاقت کو مٹھی میں رکھتے ہوئے مخالفین کو آزادانہ سیاسی زندگی اور کردار کے مواقع سے محروم کرنا،
  • اور اگر اقتدار سے باہر ہیں تو برسرِ اقتدار گروہ کو ہر قیمت پر اقتدار سے ہٹانا اور کسی طرح بھی آرام سے حکومت نہ کرنے دینا۔

یہ وطیرہ ان دو سیاسی قوتوں کی اولین ترجیح رہی اور بالآخر اسی کشمکش نے جنرل پرویز مشرف کی تشریف آوری کی راہ ہموار کی جس کے نتیجے میں پوری قوم اور خاص طور پر سیاسی قوتوں کو ان اصلاحات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن میں ایک طرف جنرل پرویز مشرف ہیں اور دوسری طرف اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل کے دو پلیٹ فارموں کی صورت میں ملک کی کم و بیش تمام اہم دینی و سیاسی جماعتیں ہیں جو ان اصلاحات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن عدالت عظمیٰ کی فراہم کردہ چھتری نے ان اصلاحات کے نفاذ کو یقینی بنا دیا ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے سیاسی فارمولے، اصلاحات، قوم سے خطاب، اور اقدامات میں کوئی ایسی نئی بات نظر نہیں آرہی جو اس سے قبل غلام محمد، ایوب خان، اور ضیاء الحق کے فارمولوں میں شامل نہ رہی ہو۔ صرف نیشنل سکیورٹی کونسل کے بارے میں جنرل پرویز مشرف کہہ سکتے ہیں کہ یہ نیا سیاسی اقدام ہے، لیکن جب بات طاقت اور صرف طاقت کی بالادستی کے حوالہ سے ہو رہی ہے اور ہر معاملہ میں طاقت ہی کو حرف آخر قرار دیا جا رہا ہے تو قومی سلامتی کونسل کے قیام سے بھی صورتحال میں کوئی فرق رونما نہیں ہوگا۔ یعنی جس کے ہاتھ میں طاقت ہوگی سلامتی کونسل بھی اسی کے ہاتھ میں ہوگی، اور کسی مرحلہ میں اس قومی سلامتی کونسل نے ’’طاقتور‘‘ کے ہاتھ سے پھسلنے کی کوشش کی تو اس کے پاس طاقت کے اظہار کے اور بھی ذرائع موجود ہوں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ روایت بالاتر قانون کا درجہ اختیار کر چکی ہے کہ جب طاقتور اپنی طاقت کے اظہار اور استعمال کا فیصلہ کر لیتا ہے تو مذہب، سیاست، عدالت، یا کسی بھی دوسرے فورم کے لیے اس بات کا کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا کہ وہ اس طاقت کو آگے بڑھنے سے روک سکے یا کم از کم اسے کہہ ہی سکے کہ جناب والا! آپ جو کچھ کر رہے ہیں درست نہیں ہے۔

ہمیں مستقبل کا نقشہ بھی اسی طرح کا نظر آرہا ہے کہ اگر جنرل پرویز مشرف کی اصلاحات کے مطابق اکتوبر کے انتخابات منعقد ہوجاتے ہیں تو جو اسمبلیاں وجود میں آئیں گی وہ جنرل موصوف کے آئینی اقدامات کو آٹھویں دستوری ترمیم کی طرز پر تحفظ فراہم کریں گی، اس کے بعد ہی سیاسی عمل آگے بڑھے گا۔ اور اگر ایک دو انتخابات کے بعد کسی بھی سیاست جماعت نے پارلیمنٹ میں مضبوط پوزیشن اختیار کرلی تو جنرل پرویز مشرف کی سیاسی اصلاحات اور ان کے آئینی تحفظات کا تیاپانچہ ہوگا جس پر اختیارات کی کشمش ہوگی جو اس قدر طول پکڑے گی کہ پھر کسی جنرل کے انتظار میں لوگوں کی نگاہیں جی ایچ کیو کی طرف اٹھنے لگیں گی اور اس کے بعد پردۂ غیب سے ایک اور جنرل محمد ایوب خان نمودار ہوں گے جو قومی سیاستدانوں کی بدعنوانیوں اور بے اصولیوں سے نجات دلانے کی پرانی گیم کا ازسرِنو آغاز فرما دیں گے۔

اسلام کے سیاسی نظام میں اور آج کے سیاسی فلسفوں میں یہی فرق ہے کہ اسلام میں اصول و ضوابط پہلے سے طے شدہ ہیں جن میں رد و بدل کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ حکومت نے جس پٹڑی پر چلنا ہے وہ متعین ہے اور اس کا کانٹا بدلنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ جبکہ جمہوریت سمیت آج کے تمام سیاسی نظاموں کی بنیاد اس پر ہے کہ انسانوں نے اصول بھی خود طے کرنے ہیں اور ان پر عملدرآمد کا اہتمام بھی خود ہی کرنا ہے۔ یہ اصول و ضوابط اور اخلاق و قوانین صدر واحد طے کرے، کوئی گروہ یا طبقہ انہیں ترتیب دے، یا کوئی منتخب پارلیمنٹ ان کا خاکہ مرتب کرے، بہرحال انسانوں نے ہی طے کرنا ہوتے ہیں۔ اور جن کے ہاتھوں میں یہ سب طے کرنے کا اختیار ہوتا ہے ان کے ذہنی رجحانات، گروہی یا شخصی مفادات، اور سیاسی ترجیحات کی چھاپ بہرحال ان اصولوں اور ضوابط پر نمایاں ہوتی ہے۔

خلافت راشدہ کا آغاز خلیفۂ اول حضرت صدیق اکبرؓ کے اس خطبہ سے ہوتا ہے جب انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسجد نبوی میں کھلے بندوں قوم سے خطاب کیا تھا اور اپنی پالیسیوں کا اعلان فرمایا تھا۔ اس میں انہوں نے کوئی سیاسی فارمولا پیش نہیں کیا تھا اور نہ ہی دستوری اصلاحات کے بکھیڑے میں پڑنے کی ضرورت محسوس کی تھی، بلکہ یہ فرمایا تھا کہ اصول و ضوابط اللہ تعالیٰ کے احکام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی شکل میں طے شدہ ہیں۔ اگر میں ان کے مطابق چلوں تو میرا ساتھ دو، لیکن اگر ٹیڑھا چلنے لگوں تو مجھے پکڑ کر سیدھا کر دو۔

خدا کرے کہ یہ فلسفہ پاکستانی حکمرانوں کو بھی سمجھ آجائے کیونکہ دستوری اکھاڑ پچھاڑ اور طاقت کی کشمکش سے نجات کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter