مدینہ منورہ کی حرمت و توقیر کا تقاضہ

   
حوالہ: 
تاریخ اشاعت: 
۷ مئی ۲۰۲۲ء

امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت تک مدینہ منورہ اسلامی ریاست کا دارالحکومت رہا ہے جبکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد دارالحکومت کوفہ میں منتقل کر لیا تھا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سوانح پر اپنی کتاب ’’المرتضٰیؓ‘‘ میں اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

’’سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ امیر المؤمنین نے کوفہ کو اپنی اقامت کے لئے اور عالمی خلافتِ اسلامیہ کا پایۂ تخت بنانے کے لیے کیوں منتخب کیا۔ یہ حیثیت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک سے لے کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت تک مدینہ منورہ کی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسا صرف اس لئے کیا کہ مدینہ منورہ کو، جو اُن کا محبوب شہر تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دارالہجرت اور مدفن مبارک تھا، اس کو داخلی جنگوں اور فوجی تنازعات سے دور اور الگ تھلگ رکھیں، کیونکہ اندرونی خلفشار شروع ہو چکا تھا اور حالات کے رخ سے پتہ چل رہا تھا کہ ایسا ہو گا۔ لہٰذا مسجد نبوی، حرمِ ثانی اور آرام گاہِ رسول اکرمؐ کے ادب کا تقاضہ تھا کہ وہ کسی قسم کے فتنہ کا مرکز نہ بنے۔‘‘

سوچنے کی بات ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے تو مدینہ منورہ کو باہمی تنازعات اور بے ادبی سے بچانے کے لیے دارالحکومت وہاں سے منتقل کر لیا تھا مگر ہم اپنے ملک کے گروہی جھگڑوں پر حرمِ نبویؐ میں ہلڑبازی کی روایت قائم کرنے پر آ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter