الیکشن کمیشن کی طرف سے مخلوط طرز انتخاب کی سفارش

   
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۱۹۹۷ء

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۶ ستمبر ۱۹۹۷ء کی ایک خبر کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حکومتِ پاکستان سے سفارش کی ہے کہ اقلیتوں کے لیے جداگانہ انتخاب کا طریقہ ختم کر کے مخلوط طرز انتخاب کو دوبارہ بحال کیا جائے۔

اس سلسلہ میں ہم اپنا موقف ان کالموں میں اس سے قبل عرض کر چکے ہیں کہ کسی اسلامی ریاست کی پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ) میں اسلامی اصولوں کی روشنی میں قانون سازی کا عمل صرف مسلمان ارکان ہی کا حق ہے۔ اور غیر مسلم ارکان کو ان کے عقیدہ کے خلاف اس عمل میں شریک کرنا خود ان کے ساتھ بھی نا انصافی ہے۔ اس لیے غیر مسلموں کے معاملات و حقوق کے لیے خود ان کے منتخب نمائندوں پر مشتمل الگ اقلیتی کونسل قائم ہونی چاہیے۔

جبکہ الیکشن کمیشن انتخابات کے حوالے سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کا امتیاز سرے سے ختم کر کے غیر مسلمانوں کو عام نشستوں سے الیکشن لڑنے اور قانون سازی میں شریک ہونے کا حق دینا چاہتا ہے، جو اسلامی اصولوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قیام کی نظریاتی بنیادوں کے بھی منافی ہے۔ پاکستان کا تو قیام ہی مذہبی بنیاد پر جداگانہ قومیت، جداگانہ حقوق، اور جداگانہ انتخابات کے مسلسل عمل کے نتیجے میں ہوا ہے۔ اس لیے اس ملک میں جداگانہ طرز انتخاب کی نفی ملک کی نظریاتی بنیادوں کی نفی ہے، جس کی الیکشن کمیشن جیسے ذمہ دار آئینی ادارے سے توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان کی دینی و سیاسی جماعتیں اس نامعقول سفارش کا بروقت نوٹس لیں گی۔

   
2016ء سے
Flag Counter