طالبان حکومت پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں

   
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۰۱ء

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے، جن میں طالبان پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے اور عرب مجاہد اسامہ بن لادن کو امریکہ کے سپرد نہ کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے دنیا بھر کی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ اقتصادی اور مواصلاتی بائیکاٹ کریں۔

طالبان حکومت کے خلاف ان پابندیوں کی بات ایک عرصہ سے چل رہی تھی اور امریکہ کے اشارے پر عراق، سوڈان اور لیبیا کی طرح افغانستان کو بھی اقتصادی ناکہ بندی کا نشانہ بنا کر عالمی استعمار کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے اس قسم کی پابندیوں کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، جو بالآخر سلامتی کونسل کی قرارداد کی صورت میں سامنے آ گئی ہیں، اور اس کی چین اور ملائشیا کے سوا سلامتی کونسل کے دیگر تمام ارکان نے حمایت کی ہے، جبکہ چین اور ملائشیا نے بھی ان پابندیوں کی مخالفت کرنے اور افغان عوام کے حق میں کوئی کلمۂ خیر کہنے کی بجائے سلامتی کونسل کے مذکورہ اجلاس سے غیر حاضر رہنے کو ترجیح دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۵۵ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب شمشاد احمد نے ان پابندیوں پر احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ افغانستان کے ایک حصے پر پابندیاں عائد کر دی جائیں، جبکہ ان کے مخالفین کو اسلحہ اور اقتصادی امداد دینے کے لیے آپ کے دروازے کھلے ہیں؟ انہوں نے پاکستان کی طرف سے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قرارداد کا ازسرِنو جائزہ لے۔

علاوہ ازیں روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۲۲ دسمبر ۲۰۰۰ء کے مطابق اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان ریاض محمد خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے خلاف عائد کی جانے والی ان پابندیوں سے پاکستان بھی شدید متاثر ہو گا، اس لیے پاکستان نے متاثر فریق کی حیثیت سے اس مسئلہ کو سلامتی کونسل کے سامنے ازسرِنو اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری طرف طالبان حکومت کے وزیرخارجہ مولوی وکیل احمد متوکل نے کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران سلامتی کونسل کی پابندیاں مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عرب مجاہد اسامہ بن لادن کو کسی قیمت پر امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کے مسئلہ کو امریکہ نے صرف بہانہ بنا رکھا ہے اور وہ دراصل طالبان حکومت کو اسلامی نظام کے عملی نفاذ کی وجہ سے بہرصورت ختم کر دینا چاہتا ہے، لیکن امیر المومنین ملا محمد عمر نے امریکی دباؤ کو قبول نہ کرنے اور اسلامی احکام و قوانین پر عملدرآمد کو بہرحال جاری رکھنے کا عزم کر رکھا ہے۔

جہاں تک امارتِ اسلامی افغانستان کی اسلامی حکومت کے خلاف سلامتی کونسل کی عائد کردہ پابندیوں کا تعلق ہے، یہ قطعی طور پر غیر متوقع نہیں ہیں اور کافی دنوں سے عالمی استعمار کے ایوانوں میں یہ کچھڑی پک رہی تھی۔ لیکن اس مسئلہ میں مسلمان حکومتوں اور خاص طور پر اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم کا کردار بہت مایوس کن ہے، اور یوں محسوس ہو رہا ہے کہ بیت المقدس، بوسنیا، چیچنیا، کشمیر اور عالمِ اسلام کے دیگر حساس معاملات کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے منافقانہ کردار، دوغلی پالیسی، اور ملتِ اسلامیہ کے خلاف کھلم کھلا معاندانہ طرزِ عمل کے باوجود مسلم حکمرانوں کی آنکھیں نہیں کھلیں، اور وہ دوحہ میں سربراہی کانفرنس منعقد کر کے وقتی طور پر غصہ کا اظہار کرنے کے بعد پھر سے اپنے سابقہ کردار پر قانع ہو گئے ہیں۔

ہمارے نزدیک امارتِ اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کا ’’قصور‘‘ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اس نے دنیا کے دیگر مسلم حکمرانوں کی طرح اسلام کا نام لے کر منافقانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی بجائے اسلامی نظام کے عملی نفاذ کا راستہ اختیار کر رکھا ہے جو امریکہ، روس اور چین سمیت دنیا میں کفر کی کسی قوت کو گوارا نہیں ہے۔ اور اسی وجہ سے طالبان حکومت کے خلاف اسی طرح کا متحدہ محاذ قائم ہو گیا ہے جیسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عرب قبائل نے متحد ہو کر غزوۂ احزاب کے موقع پر مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا تھا، اور کفر کی اس وقت کی تمام قوتیں اسلام کا راستہ روکنے کے لیے متحد ہو گئی تھیں۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ جس طرح مدینہ منورہ کے ہزار ڈیڑھ ہزار مسلمانوں کے خلاف پورے عرب قبائل کا اتحاد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا، اسی طرح افغانستان کی طالبان حکومت اگر اپنے عزم پر قائم رہی تو دنیائے کفر کا یہ اتحاد اس کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے ساتھ اس آزمائش سے سرخرو ہو کر نئی آب و تاب کے ساتھ دنیا کے سامنے آئیں گے۔

البتہ طالبان کے حوالے سے بے یقینی، تذبذب، منافقت اور دوعملی کا شکار ہونے والی مسلمان حکومتوں، اداروں، تنظیموں اور حلقوں سے ہم یہ گزارش کریں گے کہ وہ غزوۂ احزاب کے واقعات و نتائج کا ایک بار پھر مطالعہ کرتے ہوئے اس آئینے میں اپنے چہروں کے خدوخال کا ضرور جائزہ لیں تاکہ کل جب غبار چھٹے تو اپنے کردار کے اسباب و عوامل اور نتائج و عواقب کے بارے میں ان کے دل میں کوئی حسرت باقی نہ رہے۔

ان گزارشات کے ساتھ ہم سلامتی کونسل کی پابندیاں مسترد کرنے کے بارے میں طالبان حکومت کے دوٹوک اعلان کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت طالبان حکومت کو اس سنگین اور صبر آزما آزمائش سے باوقار طور پر سرخرو کرتے ہوئے دنیا میں خلافتِ اسلامیہ کے اِحیا اور اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کا ہراول دستہ بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter