امریکہ اور برطانیہ کی پاکستان کو طالبان سے فاصلہ رکھنے کی ہدایت

   
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۰۱ء

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۹ جون ۲۰۰۱ء کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارتِ خارجہ نے حکومتِ پاکستان سے کہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ فاصلہ رکھے اور طالبان کی حمایت سے باز رہے ورنہ اسے نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس سے قبل برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا بھی پاکستان کے وزیر خارجہ جناب عبد الستار کے ساتھ گفتگو میں یہ بات کہہ چکے ہیں۔

امریکہ اور دیگر مغربی ممالک طالبان کی بے لچک اسلامی پالیسیوں سے نالاں ہیں اور ان کی انتہائی کوشش ہے کہ پاکستان کے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے طالبان حکومت کو اسلامی قوانین کے نفاذ میں لچک پیدا کرنے پر مجبور کیا جائے۔

  • لیکن ایک طرف طالبان حکومت نے دوٹوک اعلان کر دیا ہے کہ وہ قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے نفاذ میں کسی قسم کی لچک پیدا نہیں کریں گے اور نہ ہی اس حوالے سے کسی کا دباؤ قبول کریں گے،
  • اور دوسری طرف حکومتِ پاکستان کے ذمہ دار حضرات متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ طالبان حکومت سے برابری کی سطح پر ہی بات کر سکتے ہیں، اور ان کی مرضی کے خلاف ان سے کوئی بات دباؤ کے ساتھ منوانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

یہ صورتحال امریکہ اور اس کے حواری ممالک کے لیے پریشان کن ہوتی جا رہی ہے اور وہ تمام تر عالمی اثر و رسوخ اور سطوت و حشمت کے باوجود امارتِ اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کے بارے میں بے بسی محسوس کرتے ہوئے مسلسل دانت پیس رہے ہیں۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ طالبان حکومت اگر اسلامی احکام و قوانین کے حوالے سے اپنے عزم پر قائم رہتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی اور وہ بالآخر دنیا کو ایک بار پھر اسلام کے عادلانہ نظام کا عملی نقشہ اور اسلامی سوسائٹی کی عملی شکل دکھانے میں کامیاب ہوں گے۔

   
2016ء سے
Flag Counter