ملکی صورتحال اور علماء کرام کا موقف

   
تاریخ اشاعت: 
۲۵ مئی ۲۰۲۳ء

ملی مجلسِ شرعی پاکستان کے زیر اہتمام ۲۰ مئی ۲۰۲۳ء کو علماء اکادمی، منصورہ، لاہور میں جماعتِ اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی میزبانی میں مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام اور دینی راہنماؤں کا ایک مشاورتی اجلاس راقم الحروف کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں چند اہم قومی مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے بارے میں اجتماعی موقف طے کیا گیا۔

سب سے پہلے جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر محترم سراج الحق کے قافلہ پر گزشتہ روز ژوب بلوچستان میں ہونے والے خودکش حملہ پر تشویش و اضطراب کا اظہار کیا گیا اور محترم سراج الحق کے اس میں محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے لیے مغفرت اور زخمیوں کی صحت یابی کی دعا کی گئی۔

اجلاس کے شرکاء میں ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، مولانا عبد الرؤف فاروقی، سردار محمد خان لغاری، ڈاکٹر حافظ محمد سلیم، مولانا حافظ محمد عمران طحاوی، مولانا منصور علی خان، ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، مولانا محمد انور گوندل، ڈاکٹر حافظ ساجد انور، حافظ محمد نعمان حامد، مولانا قاسم بلوچ، قاری محمد عثمان رمضان، حافظ امجد محمود معاویہ، ڈاکٹر علی اکبر الازہری، مولانا حافظ غضنفر عزیز، جناب حافظ عاطف وحید، مفتی شبیر انجم، مولانا عدنان وہاب خان، اور دیگر حضرات شامل تھے۔

شرکاء اجلاس نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ربا کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو ہوئے ایک سال گزر گیا ہے لیکن حکومت کی طرف سے اس پر عملدرآمد اور مذکورہ قوانین میں تبدیلی کے لیے کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو زیبا نہیں کہ ایسے حساس دینی مسئلے میں عدالت کی حکم عدولی کرے جسے قرآن حکیم نے اللہ و رسولؐ کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ علماء کرام نے مطالبہ کیا کہ وفاقی شرعی عدالت میں ججز کا تقرر کیا جائے اور اس کے پروسیجر میں یہ تبدیلی کی جائے کہ اپیل کی صورت میں فریق مخالف کو خودبخود سٹے (Stay) نہ مل جائے۔ انہوں نے سٹیٹ بینک کی خودمختاری کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ حکومت کو یہ عذر نہ ملے کہ وہ اس وجہ سے ربا کے معاملے پر عملدرآمد نہیں کر سکتی۔

علماء کرام نے یہ بھی طے کیا کہ علماء کا ایک وفد جلد مولانا فضل الرحمان سے ملے گا اور ان سے درخواست کرے گا کہ وہ سٹیٹ بینک کی خودمختاری ختم کرنے اور وفاقی شرعی عدالت میں سٹے کے موجودہ طریق کار کو ختم کرنے کے لیے حکومت کو قانون سازی کرانے پر آمادہ کریں۔

اجلاس میں ۲۷ مئی ۲۰۲۳ء کو سودی نظام کے خاتمہ کے سلسلہ میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سیمینار کی تیاریوں پر غور کیا گیا اور اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے بھرپور حمایت کا فیصلہ کیا گیا۔ جبکہ محترم حافظ عاطف وحید کو سیمینار کی انتظامیہ سے رابطہ اور تعاون کی ذمہ داری سونپی گئی۔

اجلاس میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ دو سال تک سماعت کے بعد بالآخر وفاقی شرعی عدالت نے ۱۹ مئی ۲۰۲۳ء کو متنازعہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے بارے میں اپنا محفوظ کردہ فیصلہ سنا دیا ہے جس میں عدالت نے ایکٹ کی متنازعہ دفعات ۲، ۳، اور ۷ کو غیر اسلامی قرار دے کر حکومت کو مذکورہ ایکٹ میں تبدیلیوں کا حکم جاری کر دیا ہے۔

اجلاس میں سینیٹر مشتا ق احمد خاں، سینیٹر کامران مرتضٰی، عبد الرحمان بشیر ایڈووکیٹ، کراچی کے مولانا شعیب مدنی، حافظ ڈاکٹر حسن مدنی اور ان سب افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے ٹرانس جینڈر ایکٹ کو خلافِ اسلام قرار دینے کی جدوجہد کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی۔

اجلاس میں رپورٹ پیش کی گئی کہ حال ہی میں سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک کا ایک فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اے آر وائی ٹی وی چینل کے خلاف پیمرا کی اپیل خارج کر دی ہے اور اس اخلاق باختہ ڈرامے کو آن ایئر کرنے کی اجازت دی ہے جس میں سالی اور بہنوئی کا معاشقہ دکھایا گیا ہے۔ عدالت نے بجائے اس کے کہ فحاشی پھیلانے کے بارے میں قرآن و سنت کی تعلیمات اور آئین کی اسلامی دفعات کو سامنے رکھتی، اس نے اس پابندی کو جمہوری کلچر کو فروغ دینے اور حقِ آزادئ اظہار کے خلاف قرار دے دیا ہے۔ علماء کرام نے عدالتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت ہے، اگر وہی خلافِ اسلام فیصلے کرنے لگے تو دوسروں سے کیا توقع رہ جائے گی؟ علماء کرام نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ جماعتِ اسلامی نے اس فیصلے کے خلاف ریویو پٹیشن دائر کر دی ہے اور عدالت سے استدعا کی کہ وہ اپنا پہلا فیصلہ واپس لے۔

اجلاس میں ملک کی عمومی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس امر کو انتہائی ضروری قرار دیا گیا کہ قومی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کو روکنے کے لیے قومی خودمختاری کے ناگزیر تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کی نگرانی آئی ایم ایف سے واپس لینے کے لیے قومی سطح پر اقدامات کیے جائیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter