مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی تعمیر

   
تاریخ اشاعت: 
مئی ۱۹۹۷ء

مقبوضہ بیت المقدس میں نئی یہودی بستی کی تعمیر ان دنوں اسرائیل اور فلسطین کے لیڈروں کے درمیان نئی کشیدگی کا باعث بنی ہوئی ہے، اور فلسطین کے صدر یاسر عرفات نے یہودی بستی کی تعمیر کو امن کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عالمی رائے عامہ کی حمایت حاصل کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔

چنانچہ گزشتہ دنوں دہلی میں منعقد ہونے والی غیر وابستہ ممالک کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یاسر عرفات نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے اور اس کے ساتھ تعلقات منجمد کرنے کی اپیل کی، جس کے جواب میں روزنامہ جنگ لاہور ۱۰ اپریل ۱۹۹۷ء کی رپورٹ کے مطابق ایک سو سے زائد ترقی پذیر ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات منجمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جبکہ ترکی کے وزیر اعظم جناب نجم الدین اربکان نے ترکی کا دورہ کرنے والے اسرائیلی وزیرخارجہ ڈیوڈ لیوری کو اخبار نویسوں کی موجودگی میں دوٹوک طور پر کہا ہے کہ اسرائیلی فلسطینی علاقے خالی کر دے اور مقبوضہ بیت المقدس میں نئی یہودی بستی کی تعمیر روک دے۔ بی بی سی کے تبصرے کے مطابق ترک وزیراعظم کا یہ مطالبہ اسرائیل کے لیے دھچکے سے کم نہیں کیونکہ مسلم ممالک میں سے اسرائیل کے ساتھ سب سے بہتر تعلقات ترکی کے ہیں، لیکن اب ترکی نے بھی فلسطینی لیڈروں کے مطالبات کی واضح حمایت کر دی ہے۔

اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم نتن یاہو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انتہاپسند یہودی ہیں اور اپنی پیشرو حکومت کی طرف سے فلسطینی لیڈروں کے ساتھ کیے جانے والے امن معاہدہ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، اور اسی لیے وہ بیت المقدس کے شہر میں نئی یہودی بستی کی تعمیر سمیت ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جو بالآخر اس معاہدہ کی ناکامی پر منتج ہو سکتے ہیں۔

عالمی مبصرین کے مطابق اس وقت صورتحال انتہائی نازک ہے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی وقت بھی کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلم حکومتیں اسرائیل کے مسلسل جارحانہ عزائم اور اقدامات کی روک تھام کے لیے پہلے سے زیادہ سنجیدگی اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور مطالبات کو مؤثر حمایت اور پشت پناہی فراہم کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter