دینی مدارس کیلئے تحریص کا جال

   
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۰۱ء

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ دسمبر ۲۰۰۰ء کے مطابق جنوبی ایشیا کے امریکی ماہر اور فارن پالیسی اسٹڈیز کے سینئر فیلو مسٹر سٹیفن پی کوہن نے اسلام آباد کے امریکی مرکز اطلاعات میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس عندیہ کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کے نئے ریپبلکن صدر جارج ڈبلیو بش کی حکومت پاکستان پر سی ٹی بی ٹی پر دستخط کے لیے دباؤ نہیں ڈالے گی، اور اس طرح پاکستان پر دباؤ کم ہو جائے گا کیونکہ ریپبلکن پارٹی خود سی ٹی بی ٹی کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ اس پریس بریفنگ میں موصوف نے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ

’’بعض امریکی پالیسی ساز ادارے ان دنوں جائزہ لے رہے ہیں کہ پاکستان کے لیے تعلیمی شعبے میں امداد میں اضافہ کیا جائے۔ یہ امداد ایسے دینی مدارس کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے جہاں اندیشہ ہے کہ بنیاد پرستی اور انتہاپسندی کی سوچ پروان چڑھائی جاتی ہے، اور بعض میں مسلح تربیت بھی دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ادارے اگر جدید تعلیم سے بہرہ ور ہوں گے تو اس کا فائدہ پاکستان کو بھی ملے گا۔‘‘

ممکن ہے بعض حلقوں میں امریکی ماہر کے ان ریمارکس کو پاکستان اور دینی مدارس کے بارے میں امریکی پالیسی میں کسی تبدیلی کا غماز سمجھا جائے، مگر ہمارے نزدیک یہ صرف پینترا بدلنے کی بات ہے۔ کیونکہ دینی مدارس کو بند کرانے، ان کے کردار کو تبدیل کرنے، اور انہیں ریاستی اداروں کے کنٹرول میں لانے کی تمام تر کوششوں میں مکمل ناکامی کے بعد، اب امریکی پالیسی سازوں کے پاس اس کے سوا کوئی حربہ باقی نہیں رہ گیا کہ وہ تخویف کے ہتھکنڈے ترک کر کے تحریص کا جال بچھائیں، اور جدید تعلیم کے لیے مالی امداد کا جھانسہ دے کر دینی مدارس کے علمی اور دینی کردار کا رخ موڑنے کی کوشش کریں۔

ہم امریکی پالیسی سازوں سے گزارش کریں گے کہ وہ پوری طرح جمع خاطر رکھیں، جنوبی ایشیا کے یہ دینی مدارس خوف اور دھمکیوں کے مرحلہ سے کامیاب گزر جانے کے بعد لالچ اور تحریص کی اس آزمائش سے بھی سرخرو نکلیں گے۔ کیونکہ دینی مدارس کے اس نظام کی بنیاد حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، اور حضرت حاجی عابد حسینؓ جیسے باخدا لوگوں نے رکھی تھی، اور ان کے پیچھے حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ اور مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ جیسے شب زندہ داروں کی حرمِ پاک کی دلگداز دعائیں کارفرما ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بے سروسامانی اور کسمپرسی کی تمام تر ظاہری کیفیت کے باوجود یہ دینی مدارس برطانوی استعمار کی طرح اس کے جانشین امریکی استعمار کے سامنے بھی پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ سینہ تانے کھڑے ہیں، اور امریکی پالیسی سازوں کی روز افزوں بے چینی اور اضطراب کا زیرلب تبسم کے ساتھ مشاہدہ کرتے ہوئے گنگنا رہے ہیں کہ ؎

ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے
   
2016ء سے
Flag Counter