سائنسی تحقیقات اور کائنات کا نظام

   
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۰۰ء

روزنامہ جنگ لاہور ۱۸ مئی ۲۰۰۰ء کے مطابق

’’برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے بی بی سے نشر ہونے والی ایک تقریر میں سائنسدانوں کے قدرت کے خلاف کام کرنے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ان خطرات کا اظہار کیا ہے کہ سائنسدان قدرت کی حسین دنیا کے خلاف یکطرفہ دلائل سے روحانی اور دینی اصولوں کو پس پشت ڈال کر اپنے خیالات ٹھونسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قدرتی شاہکار کو دوبارہ دریافت کرنے کی ضرورت پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہوں گے، اور اس سے ہمیں خدا، انسان اور اس کی تخلیق کے بنیادی عناصر سے آگاہی حاصل ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خدا کی قدرت کا تہہ دل سے احترام کرنا چاہیے اور اس کی تخلیق کردہ دنیا کو ٹیکنالوجی اور میکانکی پراسیس کے ذریعے پراگندہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سائنس کو نہایت محتاط انداز سے استعمال کرنا ہو گا اور یہ معلوم کرنا ہو گا کہ خدا اس دنیا پر کس انداز سے حکمرانی کرتا ہے۔ اور دنیا کے معمولات کو تبدیل کرنے کی کوشش کو ختم کرنا ہو گا۔‘‘

شہزادہ چارلس نے سائنس اور فطری قوانین کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ہمیں ان سے سو فیصد اتفاق ہے، کیونکہ اسلام اس کے بارے میں چودہ سو سال قبل انہی باتوں پر زور دے چکا ہے کہ انسان کو اپنی عقل کے استعمال اور اس کے نتائج سے استفادہ کا پورا پورا حق ہے، اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ صلاحیتیں اسی مقصد کے لیے ودیعت فرمائی ہیں، لیکن عقل اور اس کے نتائج و ثمرات کے استعمال کو فطری قوانین اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہنا چاہیے، اور انہیں خدائی نظام اور قوانین کی خلاف ورزی اور ان میں بگاڑ کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ اسلام نے سائنس کی اہمیت اور ضرورت سے کبھی انکار نہیں کیا، البتہ سائنس کی خالص مادہ پرستانہ اپروچ اور فطری و روحانی اقدار سے بیگانگی کو اسلام قبول نہیں کرتا۔ اور اسلام کا فلسفہ یہ ہے کہ انسانی عقل کا استعمال

  • کائنات کی موجود اشیا کی دریافت اور تحقیقات کے لیے ہو،
  • یا انسانی معاشرہ کے لیے بہترین سسٹم کی تشکیل و قیام کے لیے ہو،

دونوں صورتوں میں وہ آسمانی تعلیمات اور خدائی حکمرانی کے دائرے میں رہے گا تو فطرت کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں ممد و معاون ہو گا، ورنہ خدائی بگاڑ پیدا کرنے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں دے سکے گا۔ اس لیے عقل و سائنس کے اس آزادانہ استعمال کے تلخ نتائج کا مشاہدہ کرنے کے بعد شہزادہ چارلس آج کی دنیا کو جو سبق پڑھا رہے ہیں وہ اسلام کا ہی سبق ہے جو اسلام کی حقانیت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ اس دانشمندانہ محاورہ کی بھی صدائے بازگشت ہے کہ ’’آنکہ دانا کند ناداں کند آں و لیکن بعد از خرابی بسیار‘‘۔

   
2016ء سے
Flag Counter