موجودہ حالات میں علماء کرام اور اہلِ دین کی ذمہ داری

   
تاریخ: 
۱۸ جون ۲۰۰۲ء

(اتحادِ اہلسنت والجماعت قلعہ دیدار سنگھ کے زیر اہتمام مکی مسجد میں ماہانہ عمومی نشست سے خطاب)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اتحادِ اہلسنت قلعہ دیدار سنگھ کے احباب نے فرمائش کی ہے کہ ان کی اس ماہانہ نشست میں موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام اور اہلِ دین کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کروں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو آج کے حالات پر ایک نظر ڈالنا ہو گی جن کا نقشہ کچھ اس طرح ہے کہ دنیا میں اس وقت

  • مسلمانوں کی تعداد سوا ارب کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے
  • ساٹھ سے زیادہ مسلمان حکومتیں ہیں،
  • تیل، معدنیات، گیس اور دیگر وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں،
  • دولت کی بھی کمی نہیں ہے،

لیکن اس سب کچھ کے باوجود آج دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ بے بس اور لاچار قوم ہیں۔ استحصالی قوتوں نے انہیں شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ مسلمان اپنے فیصلے خود اپنی مرضی سے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اور اپنی رائے اور مرضی کے مطابق چلنے کا انہیں اختیار حاصل نہیں ہے۔ دنیائے کفر اُن کے خلاف پوری طرح متحد ہو چکی ہے اور عالمی کفر و استعمار نے قطعی طور پر یہ طے کر لیا ہے کہ مسلمان دنیا میں رسمی مسلمان کے طور پر رہنا چاہتے ہیں تو رہ سکتے ہیں لیکن انہیں اسلام سے دستبردار ہونا ہو گا، اپنے عقیدہ اور تہذیب سے دستبرداری اختیار کرنا ہو گی، اور قرآن و سنت کے احکام و تعلیمات کی بساط لپیٹنا ہو گی، اس کے بغیر مسلمانوں کو دنیا کے کسی خطے میں رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے دنیا بھر کے تمام کفر متحد ہو گئے ہیں اور انہوں نے ایکا کر لیا ہے کہ مسلمانوں کا اسلام کے ساتھ عملی رشتہ بہرحال کاٹ دیا جائے۔

اس صورتحال میں ہماری ذمہ داری کیا ہے، علماء کرام کی ذمہ داری کیا ہے، اور دینی حلقوں پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ اس سلسلہ میں کسی فلسفیانہ بحث میں پڑنے کی بجائے تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے چند واقعات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا جن سے یہ راہنمائی ملتی ہے کہ مسلمان جب مشکلات میں پھنس جائیں، کافروں کی یلغار کا سامنا کر رہے ہوں، ہر طرف سے حصار میں آجائیں، اور بظاہر بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہ آ رہی ہو تو انہیں کیا کرنا چاہیے، ان کے علماء کو کیا کرنا چاہیے، اور ان کے اہلِ دین کو کیا راستہ اختیار کرنا چاہیے؟

دو واقعات سیرتِ نبویؐ سے گزارش کروں گا اور ایک واقعہ امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کا بیان کروں گا، جن میں موجودہ حالات میں ہمارے لیے راہنمائی کا سبق موجود ہے۔

سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو ظاہری کیفیت یہ تھی کہ مکہ مکرمہ کے کم و بیش سب خاندانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا اجتماعی فیصلہ کر رکھا تھا اور ان کے خاندانوں کے نوجوان ننگی تلواریں ہاتھوں میں لیے رات کی تاریکی میں جناب نبی اکرمؐ کے گھر کا محاصرہ کر چکے تھے۔ اس محاصرہ میں سے نبی اکرمؐ نکلے اور رات کی تاریکی میں چھپتے چھپاتے حضرت ابوبکرؓ کو ساتھ لے کر غارِ ثور میں روپوش ہو گئے۔ مکہ مکرمہ میں آپؐ کے بچ کر نکل جانے کی خبر پر طوفان مچ گیا۔ زندہ گرفتاری یا قتل پر بھاری انعامات مقرر ہوئے اور بیسیوں ٹولیاں آپؐ کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھیل گئیں۔ تین دن کے بعد نبی اکرمؐ غار سے نکلے اور عام راستے سے ہٹ کر سمندر کے کنارے کنارے خفیہ راستے سے مدینہ منورہ کی طرف سفر شروع کر دیا۔ احتیاط کا یہ عالم تھا کہ راستہ میں کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف کرانے سے بھی حضرت ابوبکرؓ گریز کر رہے تھے۔ اور بعض روایات کے مطابق دن کو اِدھر اُدھر چھپ کر، رات کو سفر کا سلسلہ جاری رکھا جا رہا تھا۔

اس دوران سراقہ بن مالک نے جناب نبی اکرمؐ کو دیکھ لیا، جو اس وقت کافر تھے اور آپؐ کو گرفتار یا قتل کر کے مشرکینِ مکہ سے بھاری انعام حاصل کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ انہوں نے پکڑنے کی کوشش کی مگر حملہ ناکام رہا۔ تین بار حملہ کیا مگر کوشش کارگر نہ ہوئی تو جناب نبی اکرمؐ سے امن کے خواستگار ہوئے اور باہمی بقا اور تعاون کا ایک سمجھوتا طے پا گیا۔ اس وقت ظاہری صورتحال یہ تھی کہ جان بچانا مشکل تر مسئلہ بن گیا تھا، اور سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح جان بچا کر مدینہ منورہ تک پہنچ جائیں۔ مگر اس کیفیت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ بن مالکؓ سے ایک بات فرمائی جو تاریخ کے ریکارڈ میں موجود ہے کہ

’’سراقہؓ! میں تیرے ہاتھوں میں کسریٰ بادشاہ کے سونے کے کنگن دیکھ رہا ہوں‘‘۔

یہ پیشگوئی تھی اور معجزہ تھا جو پورا ہوا۔ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں فارس کا ملک فتح ہوا اور کسریٰ بادشاہ کے خزانے غنیمت کے طور پر مدینہ منورہ آئے تو ان میں سونے کے کنگن بھی موجود تھے جو امیر المومنین حضرت عمرؓ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لیے وقتی طور پر سراقہ بن مالکؓ کو پہنائے۔

مگر غور طلب بات یہ ہے کہ یہ پیشگوئی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کن حالات میں کی، جبکہ خود اپنی جان کی حفاظت ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ یہ بلاشبہ جناب نبی اکرمؐ کا معجزہ تھا، لیکن اس کے ساتھ یہ ایک سبق بھی تھا کہ مسلمانو! حالات جس قدر بھی ناموافق ہو جائیں اور مشکلات و مصائب کا گھیراؤ جتنا بھی تنگ ہو جائے، مگر اپنے حوصلہ اور عزم کا معیار قائم رکھو، اصل ہدف کو نگاہ میں رکھو اور مورال نہ گرنے دو۔ اصل بات حوصلہ اور عزم کی ہوتی ہے، حالات عارضی ہوتے ہیں جو بدلتے رہتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنے عقیدہ و ایمان اور حوصلہ و عزم کو برقرار رکھتے ہیں، حالات کی سنگینی ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی اور وہ بالآخر اپنے ارادوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

دوسرا واقعہ بھی سیرت کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور قرآن کریم میں سورۃ الاحزاب میں اس کی کچھ تفصیلات بیان کی گئی ہیں کہ جب احد کی جنگ کے بعد قریشِ مکہ نے مسلمانوں کو کچلنے کی مہم میں تنہا اپنی قوت کو ناکافی سمجھتے ہوئے عرب قبائل کا اتحاد قائم کیا اور مدینہ منورہ پر یلغار کے لیے متحدہ لشکر تشکیل دیا تو مدینہ منورہ کی کیفیت یہ تھی کہ مسلمانوں کی مجموعی تعداد ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ تھی جن کے خلاف پورے عرب قبائل نے متحدہ محاذ بنا لیا تھا اور اتحادی فوجوں نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپؐ نے حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورہ سے مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے بستی کے ان اطراف میں خندق کھودنے کا فیصلہ کر لیا جس طرف درختوں کے جھنڈ نہیں تھے اور دشمن کا لشکر آسانی سے بستی میں داخل ہو سکتا تھا۔

خندق کی کھدائی کا کام جاری تھا جس میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی عملاً شریک تھے ۔ ادھر اتحادی فوجوں کے قریب سے قریب تر آنے کی اطلاعات مل رہی تھیں اور ادھر ان کی آمد سے قبل خندق کا کام بہرحال مکمل کرنے کے لیے کھدائی میں تیزی اور شدت آ رہی تھی۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ خندق کی کھدائی جلد از جلد مکمل کرنے میں مصروف اور محویت کی وجہ سے عصر کی نماز قضا ہونے لگی۔ جناب نبی اکرمؐ نے سورۃ الاحزاب میں اس موقع پر مدینہ منورہ میں خوف و ہراس کی کیفیت کو ان الفاظ سے بیان کیا ہے کہ

’’اے ایمان والو! خوف کے مارے تمہاری آنکھیں پتھرا گئی تھیں، تمہارے دل سینوں سے اچھل کر حلق تک آ گئے تھے، مسلمان شدید آزمائش سے دوچار تھے، اور ان پر زلزلے کی کیفیت طاری تھی۔‘‘

اس صورتحال میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چٹان پر کدال سے ضرب لگائی اور اس سے چمک پیدا ہوئی تو آپؐ نے فرمایا کہ مجھے اس چمک میں اللہ تعالیٰ نے قیصر و کسریٰ کے محلات دکھائے ہیں۔ یہ پیشگوئی تھی اور معجزہ تھا جو پورا ہوا، لیکن اس کے ساتھ یہ سبق بھی تھا کہ حالات کی سنگینی اور دشمنوں کی چاروں طرف سے یلغار کے باوجود مسلمانوں کو اپنا حوصلہ قائم رکھنا چاہیے، مورال برقرار رکھنا چاہیے، اپنے اصل ہدف کو نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے، اور عقیدہ و ایمان کے ساتھ وابستگی میں کوئی کمزوری نہیں دکھانی چاہیے۔

قرآن کریم نے اعلان کیا ہے کہ اگر مسلمان اپنے عقیدہ و ایمان پر قائم رہیں گے اور حوصلہ و عزم میں کمی نہیں آنے دیں گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور ان کے شاملِ حال ہو گی۔ غزوۂ احزاب میں ایسا ہی ہوا، چند دن آزمائش کے آئے اور شدید ابتلا کی کیفیت پیدا ہوئی لیکن اس کے بعد جب اللہ کی مدد آئی تو صرف ہوا کی رفتار تیز ہونے سے کفار کے لشکر میں ایسی افراتفری مچی کہ جو اتحادی فوجیں مسلمانوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کے ساتھ مدینہ منورہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھیں انہیں رات کی تاریکی میں وہاں سے کوچ کرنا پڑا اور وہ ناکامی کے ساتھ وہاں سے رخصت ہو گئیں۔

اس پس منظر میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کا ایک واقعہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں جو حضرت مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے ’’امام ابو حنیفہؒ کی سیاسی زندگی‘‘ میں بیان کیا ہے۔ اور اس میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ جب اہلِ ایمان پر جبر کی حکمرانی ہو جائے اور مسلمانوں پر کفر و الحاد مسلط ہو جائے تو اہلِ علم کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔

خوارج کے گروہ نے حضرت علیؓ کے خلاف بغاوت کر کے مسلمانوں کے اجتماعی دھارے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، اور ان کی صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے دور میں مسلمانوں کے ساتھ کئی جنگیں ہوئیں۔ ان کا عقیدہ تھا کہ کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے مسلمان کافر ہو جاتا ہے ، اس لیے وہ عام مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے، اور جہاں بھی ان کا اقتدار قائم ہوتا وہ ہر شخص کو کفر سے توبہ کے لیے کہتے، اور جو توبہ نہ کرتا اسے قتل کر ڈالتے۔ انہوں نے ہزاروں مسلمانوں کا خون بہایا اور متعدد مقامات پر مسلمانوں کا قتلِ عام کیا۔

حضرت امام ابوحنیفہؒ کے دور میں خارجیوں کا کوفہ پر بھی قبضہ ہو گیا اور انہوں نے کوفہ پر حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے بیٹے عبد اللہ بن عمرؓ کو، جو بنو امیہ کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے، شکست دے کر کوفہ پر تسلط جما لیا۔ کوفہ پر قبضہ کرنے والے خارجیوں کا سرغنہ ضحاک خارجی تھا، جو ہزاروں مسلح افراد کے ساتھ ننگی تلواریں لیے کوفہ کی جامع مسجد میں جا بیٹھا اور عام لوگوں کو اس مقصد کے لیے اس کے سامنے طلب کیا جانے لگا کہ وہ کفر سے توبہ کریں۔

امام ابوحنیفہؒ کو بھی گرفتار کر لیا گیا اور ایک قیدی کی حیثیت سے ضحاک خارجی کے سامنے پیش کیا گیا۔ ضحاک نے امام صاحبؒ سے کہا ’’یا شیخ تب من الکفر‘‘ کہ اے شیخ! کفر سے توبہ کرو۔ امام صاحبؒ نے جواب دیا ’’انا تائب من کل کفر‘‘ کہ میں ہر کفر سے تائب ہوں۔ ضحاک حضرت امام صاحبؒ کے ارشاد کا مطلب نہ سمجھ پایا اور انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ امام صاحبؒ ابھی مسجد سے باہر نکلے ہی تھے کہ کسی نے ضحاک کے کان میں یہ بات کہہ دی کہ امام ابوحنیفہؒ نے تو تمہارے طرز عمل کو کفر سے تعبیر کرتے ہوئے اس سے توبہ کا اظہار کیا ہے۔ اس نے دوبارہ امام صاحبؒ کو پکڑنے کا حکم دیا اور چند لمحوں میں امام ابوحنیفہؒ کو گرفتار کر کے پھر ضحاک کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ ضحاک نے امام صاحبؒ سے پوچھا کہ ہمارا خیال ہے کہ تم نے ہماری باتوں کو کفر سمجھتے ہوئے اس سے توبہ کی ہے۔ امام صاحبؒ نے پوچھا کہ کیا یہ بات تم یقین کے ساتھ کہہ رہے ہو یا یہ محض تمہارا گمان ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہ گمان سے کہہ رہا ہوں۔ امام صاحبؒ نے فرمایا کہ قرآن کریم نے بدگمانی کو گناہ کہا ہے، اس لیے تم بدگمانی کر کے اپنے عقیدہ کے مطابق خود کافر ہو گئے ہو۔ اس لیے پہلے تم کفر سے توبہ کرو۔ اس پر ضحاک نے کہا کہ میں کفر سے توبہ کرتا ہوں، اب تم بھی کفر سے توبہ کرو۔ جس کے جواب میں امام ابوحنیفہؒ نے پھر وہی جملہ دہرا دیا ’’انا تائب من کل کفر‘‘ کہ میں ہر کفر سے تائب ہوں۔ اور ضحاک خارجی نے کوئی چارہ نہ پا کر امام صاحبؒ کی دوبارہ رہائی کا حکم دے دیا۔

ادھر کوفہ میں سراسیمگی کا عالم تھا، لوگ گھروں میں خوفزدہ دبکتے ہوئے تھے، اور جامع مسجد میں ہزاروں خارجی ننگی تلواریں لہراتے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ کچھ سمجھدار لوگوں نے مشورہ کیا کہ اس سلسلہ میں ضحاک سے بات کرنی چاہیے، عام مسلمانوں کی جانیں بچانے کی کوئی صورت نکالنی چاہیے، اور ضحاک کو کوفہ کے عام لوگوں کے قتلِ عام کا حکم واپس لینے پر آمادہ کرنا چاہیے۔ اب ضحاک سے بات کون کرے؟ اس کے لیے بھی نگاہِ انتخاب امام صاحبؒ پر پڑی اور امام ابوحنیفہؒ ایک بار پھر ضحاک خارجی کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ امام صاحبؒ نے کہا کہ میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے اجازت دی تو فرمایا کہ آپ نے کوفہ کے عوام کو قتلِ عام اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنانے کا حکم جاری کیا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں میں نے حکم جاری کیا ہے۔ پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ضحاک نے کہا اس لیے کہ وہ مرتد ہو گئے ہیں۔ امام صاحبؒ نے کہا کہ مرتد تو اسے کہتے ہیں جو دین تبدیل کر لے۔ تو کیا کوفہ والوں نے اپنا پہلا دین ترک کر کے نیا دین اختیار کیا ہے، یا وہ اپنے پہلے دین پر ہی قائم ہیں؟ یہ سن کر ضحاک چونکا اور کہا کہ اپنی بات دہراؤ۔ امام صاحبؒ نے پھر بات دہرائی تو ضحاک نے فوراً یہ کہہ کر اپنی تلوار جھکا لی ’’اخطأنا‘‘ کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کے ہزاروں ساتھیوں نے اپنی تلواروں کا رخ زمین کی طرف کر لیا جس سے کوفہ کے ہزاروں لوگوں کی جانیں بچ گئیں اور حضرت امام صاحبؒ کی جرأت و تدبر نے کوفہ کو قتلِ عام سے بچا لیا۔ حضرت معاذ بلخیؒ بسا اوقات اسی وجہ سے فرمایا کرتے تھے کہ کوفہ والے سب کے سب امام ابوحنیفہؒ کے آزاد کردہ غلام ہیں، اس لیے کہ ان کی جانیں ان کی وجہ سے ضحاک خارجی کی تلوار سے محفوظ رہی ہیں۔

یہ واقعات ہمارے لیے سبق کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمارے لیے آج کے حالات میں ان میں مکمل راہنمائی موجود ہے۔ ہمیں ان واقعات کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ ظاہری حالات جس قدر بھی ناموافق ہو جائیں اور ان کی سنگینی اور شدت میں جس قدر بھی اضافہ ہو جائے، اہلِ علم اور اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ

  • اپنے ایمان اور عقیدہ پر مضبوطی سے قائم رہیں،
  • حوصلہ اور عزم کو قائم رکھیں،
  • کفر اور الحاد کی کسی غلط بات کی تائید نہ کریں،
  • جرأت اور تدبر کے ساتھ مسلمانوں کی راہنمائی کریں،
  • عزیمت و استقامت کے ساتھ حالات کی تبدیلی کی کوشش کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ نبویؐ اور اسوۂ اکابر سے صحیح راہنمائی حاصل کرنے کی توفیق دیں اور عالمِ اسلام کو موجودہ بحران سے باوقار سرخروئی سے ہمکنار کرتے ہوئے وحدتِ امت، خلافتِ اسلامیہ اور اسلام کے عالمی غلبہ کی منزل تک پہنچائیں، آمین یا رب العالمین۔

2016ء سے
Flag Counter