حدود آرڈیننس کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ پر چند گزارشات

   
۷ اگست ۲۰۰۶ء

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود صاحب نے حدود آرڈیننس کے بارے میں کونسل کی نئی عبوری رپورٹ اخبارات کے لیے جاری کر دی ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حدود آرڈیننس میں ترامیم سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس پر تفصیلی نظرثانی کی ضرورت ہے۔

اس رپورٹ کو ہم نے ’’نئی‘‘ اس لیے کہا ہے کہ حدود آرڈیننس کے نفاذ سے قبل بھی اسلامی نظریاتی کونسل نے اس پر غور کیا تھا اور ایک تفصیلی رپورٹ دی تھی جسے اس آرڈیننس کی تدوین میں بنیاد بنایا گیا تھا، لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل نو کے بعد اس رپورٹ پر قناعت کی بجائے ایک نئی رپورٹ پیش کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے اور اس حوالہ سے عبوری رپورٹ، کونسل کے نئے چیئرمین نے گزشتہ روز جاری کر دی ہے۔ اخبارات میں اس کے بارے میں ڈاکٹر خالد مسعود کے حوالے سے جو تفصیلات شائع ہوئی ہیں، ان کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ:

  • موجودہ نافذ شدہ حدود آرڈیننس کس طرح بھی قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہے۔
  • چند ترامیم سے بات نہیں بنے گی، بلکہ اس پر تفصیلی نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ اسے نہ صرف قرآن و سنت کے مطابق بنایا جا سکے بلکہ جدید عدالتی نظام میں بھی اسے مؤثر بنایا جا سکے۔
  • حدود آرڈیننس میں حدود کی تعریف و تشریح ’’فقہی تعریف‘‘ کے تحت کی گئی ہے جبکہ ان کی قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح طور پر تشریح کرنا ضروری ہے۔
  • حدود آرڈیننس کے نفاذ سے جرائم میں کمی نہیں ہوئی بلکہ اضافہ ہوا ہے۔
  • اگر اس آرڈیننس میں عبوری ترامیم لائی جاتی ہیں تو اس سے قرآن و سنت کی روح پر پوری طرح عملدرآمد ممکن نہیں ہوگا۔

ہم ان میں سے ایک دو نکات پر کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ جہاں تک اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے حدود آرڈیننس کو قرآن و سنت کے منافی قرار دینے کی بات ہے، اس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ چونکہ حدود آرڈیننس میں حدود کی تعریف اور قوانین کی ترتیب میں فقہی تشریحات و تعبیرات کو بنیاد بنایا گیا ہے، اس لیے وہ قرآن و سنت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ گویا قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا گیا ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل نے فقہ اسلامی اور فقہائے اسلام کی تعبیرات و تشریحات کو قرآن و سنت سے الگ اور منافی قرار دے دیا ہے۔ جو ایک بڑا مغالطہ اور بڑی گمراہی کی بات ہے، اس لیے کہ فقہ اسلامی قرآن و سنت کے مقابل کوئی درآمدی سسٹم نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت ہی سے مستنبط احکام و قوانین کا نام ہے جو مختلف ادوار میں فقہائے اسلام نے مستنبط کیے ہیں، اور انہیں ہر دور میں قرآن و سنت کی قانونی تشریح کا درجہ حاصل رہا ہے۔

مگر یہ ہمارے جدید دانشوروں کی ستم ظریفی ہے کہ وہ برطانوی دور کے نو آبادیاتی عدالتی نظام و قوانین کو تو سینے سے لگائے رکھنا چاہتے ہیں اور اسے قرآن و سنت کے نفاذ کی بنیاد بنانے کے خواہش مند ہیں جو خالصتاً ایک درآمدی سسٹم ہے جسے برطانوی استعمار نے اپنے نو آبادیاتی مقاصد کے لیے سمندر پار سے لا کر ہمارے ہاں نافذ کیا تھا، اور جو ابھی تک ہمارے عدالتی نظام میں نوآبادیاتی ماحول اور مزاج کو باقی رکھے ہوئے ہے، لیکن خود قرآن و سنت سے مستنبط کیے جانے والے قوانین و احکام کو ’’فقہی تعبیر‘‘ قرار دے کر انہیں قرآن و سنت کے منافی بلکہ ان سے متصادم قرار دینے کے درپے ہیں۔ حالانکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ پرانی فقہی تعبیرات و تشریحات کو مسترد کر کے وہ اپنی طرف سے قرآن و سنت کی روشنی میں جو نئی تعریفات اور تشریحات طے کریں گے، ان کا غلط اور صحیح ہونا اپنی جگہ پر، لیکن وہ بھی ’’فقہی تعبیرات‘‘ ہی ہوں گی، کیونکہ قرآن کریم اور سنت میں کسی جگہ بھی حدود شرعیہ کی ایسی قانونی تعریف متعین نہیں کی گئی ہے جس کی ڈاکٹر خالد مسعود کو تلاش ہے۔ یہ تعریف جو بھی طے کرے گا، قرآن و سنت سے استنباط کر کے کرے گا اور وہ فقہی تعریف و تعبیر ہی کہلائے گا، البتہ ڈاکٹر خالد مسعود صاحب قدیم فقہاء کی تشریحات و استنباطات کی نفی کر کے اور حدود کی نئی قانونی تعریف طے کر کے اسے حدود آرڈیننس کی بنیاد بنانے کا مطالبہ کریں گے تو گویا وہ عملاً اس بات کا تقاضا کر رہے ہوں گے کہ حدود قوانین کی تعبیر و تشریح میں امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور دیگر فقہائے اسلام کی تعبیرات و تشریحات کو بنیاد بنانے کی بجائے امام جاوید اقبال، امام خالد مسعود اور امام جاوید غامدی کی تعبیرات و تشریحات کو معیار قرار دیا جائے۔ لیکن یہ بات کہنے کا حوصلہ اور اخلاقی جرات نہ رکھتے ہوئے وہ اسے اس گمراہ کن تعبیر کی صورت میں پیش کر رہے ہیں کہ چونکہ حدود آرڈیننس میں تعریفات و تعبیرات کے حوالے سے فقہ کو بنیاد بنایا گیا ہے، اس لیے وہ قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل بات قرآن و سنت یا فقہی تعبیرات کی نہیں ہے بلکہ فقہ اسلامی کے چودہ سو سالہ علمی ذخیرے کی نفی کر کے اس کے مقابل نئی فقہ تشکیل دینے کی ہے، کیونکہ جن احکام و قوانین کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بیٹھ کر ڈاکٹر خالد مسعود صاحب، جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے رفقاء طے کریں گے، وہ بھی فقہ ہی کہلائے گی، اور اسے صرف اس لیے قرآن و سنت کا درجہ حاصل نہیں ہوجائے گا کہ وہ ڈاکٹر خالد مسعود صاحب اور ان کے رفقاء کی سوچ کا نتیجہ ہے۔ اس پس منظر میں ہم ڈاکٹر خالد مسعود صاحب سے یہ گزارش کریں گے کہ وہ اپنی تعبیرات اور سوچ کو قرآن و سنت کا درجہ دینے کی بجائے اخلاقی جرات سے کام لیتے ہوئے لوگوں کو اصل بات بتائیں کہ وہ امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبل ؒ اور دوسرے فقہاء کی فقہوں کی نفی کرتے ہوئے ان کے مقابل ایک نئی فقہ مرتب کرنا چاہ رہے ہیں، اس لیے امت کو چاہیے کہ وہ چودہ سو سالہ فقہی ذخیرے سے دستبردار ہو کر ان نئے اماموں اور ان کی جدید فقہ کے سامنے سرنڈر ہو جائے۔

ڈاکٹر خالد مسعود صاحب نے اس عبوری رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ حدود آرڈیننس کے نافذ ہونے کے بعد ملک میں حدود سے متعلقہ جرائم میں کمی نہیں ہوئی بلکہ اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے اس سلسلے میں اعداد و شمار بھی پیش کیے ہیں۔ ہم ڈاکٹر صاحب کی اس بات کی تائید کرتے ہیں اور ہمارا موقف بھی یہی ہے کہ حدود آرڈیننس کے نفاذ کے بعد جرائم میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوا ہے، لیکن ڈاکٹر صاحب محترم سے ہمارا سوال یہ ہے کہ حدود آرڈیننس کے نفاذ کے بعد ان پر عملدرآمد کب ہوا ہے؟ اور کیا موجودہ عدالتی سسٹم میں ان حدود یا کسی بھی شرعی قانون پر عملدرآمد ممکن ہے؟ ڈاکٹر صاحب اچھی طرح جانتے ہیں کہ معاشرے میں حدود شرعیہ کے نفاذ کے ثمرآور نہ ہونے کی اصل وجہ حدود کے قوانین نہیں بلکہ عدالتی سسٹم ہے، کیونکہ حدود آرڈیننس کو نو آبادیاتی عدالتی سسٹم کی پیچیدگیوں میں اس طرح الجھا دیا گیا ہے کہ اس کی کسی ایک دفعہ پر بھی عمل ممکن نہیں رہا، ورنہ یہی حدود شرعیہ سعودی عرب میں نافذ ہیں اور ان کے ذریعے سے وہاں جرائم کنٹرول میں ہیں۔ ہماری ڈاکٹر خالد مسعود صاحب سے گزارش ہے کہ جس طرح انہوں نے حدود آرڈیننس کے نفاذ کے بعد جرائم میں اضافہ کے حوالہ سے پاکستان کی صورت حال پر اعداد و شمار پیش کیے ہیں، اسی طرح تقابلی طور پر سعودی عرب میں حدود شرعیہ کے نفاذ سے قبل جرائم کی صورتحال اور ان کے نفاذ کے بعد سے اب تک جرائم کی شرح کے بارے میں بھی اعداد و شمار کی ایک رپورٹ مرتب کرائیں تاکہ پاکستان کے عوام اس فرق کی وجہ جان سکیں کہ شرعی حدود جب سعودی عرب میں نافذ ہوتی ہیں تو صورت حال تبدیل ہو جاتی ہے اور یہ قوانین جرائم میں کمی اور کنٹرول کا ذریعہ بنتے ہیں، لیکن وہی حدود پاکستان میں نافذ ہوتی ہیں تو جرائم میں کمی کے بجائے اضافہ ہو جاتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ پھر حدود شرعیہ کے لیے قوانین ہمارے پڑوسی افغانستان میں طالبان کی حکومت کے دور میں نافذ ہوئے تھے تو وہ بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق جرائم میں کمی اور کنٹرول کا باعث بنے تھے۔ اگر اس کے بارے میں ڈاکٹر خالد مسعود صاحب کو براہ راست معلومات نہ ہوں تو محترم ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب سے دریافت کر لیں جو طالبان کے دور میں خود افغانستان گئے تھے اور واپسی پر انہوں نے قومی پریس کے ذریعے سے اپنے ان تاثرات کا اظہار کیا تھا کہ طالبان کی حکومت میں شرعی قوانین پر عمل ہو رہا ہے اور ان کے ثمرات و نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔

حدود آرڈیننس کو موجودہ عالمی عدالتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی بات بھی خوب ہے۔ اگر پاکستان کو آج کے عالمی عدالتی نظام اور قوانین کے ساتھ ہی ہم آہنگ ہونا تھا تو پھر اس کے لیے الگ ملک کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور یہ کام متحدہ ہندوستان میں زیادہ بہتر طور پر ہو سکتا تھا، مگر تحریک پاکستان کے قائدین بالخصوص قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان اسلامی قوانین کے نفاذ اور اسلامی معاشرہ کے قیام کے لیے بنایا جا رہا ہے، اور اگر اس مقصد کو الگ کر دیا جائے تو ایک الگ ملک کے طور پر پاکستان کے الگ وجود کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ پھر حدود آرڈیننس ہی کے پس منظر میں ہم ڈاکٹر خالد مسعود صاحب سے سوال کرنا چاہیں گے کہ (۱) مروجہ عالمی عدالتی نظام اور قوانین تو رضامندی کے زنا کو سرے سے جرم ہی تصور نہیں کرتے، (۲) ہم جنس پرستی کو جائز قرار دیتے ہیں (۳) اور شادی کے بغیر مرد اور عورت کے اکٹھے رہنے اور جنسی تعلقات قائم کرنے کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کیا ڈاکٹر خالد مسعود صاحب اور ان کے رفقاء اسی عالمی عدالتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے قرآن و سنت کی چودہ سو سالہ فقہی تعبیرات کو کند چھری سے ذبح کر دینا چاہتے ہیں؟

   
2016ء سے
Flag Counter