خدمت حدیث: موجودہ کام اور مستقبل کی ضروریات

   
مئی ۲۰۰۵ء
  1. ہمارا مستند علمی ذخیرہ
  2. موجودہ فقہی جمود
  3. خدمت حدیث کے چند پہلو
    1. امت کی اخلاقی حالت
    2. گلوبلائزیشن کا دور
    3. فتنے اور آثار قیامت

۱- ہمارا مستند علمی ذخیرہ

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث کا تاریخ کے ریکارڈ پر اس اہتمام اور اعتماد کے ساتھ محفوظ رہنا جہاں نبی اکرمؐ کے تاریخی امتیاز و اختصاص کی حیثیت رکھتا ہے، وہاں اسلام کے اعجاز اور اس کی حقانیت و ابدیت کی دلیل بھی ہے۔ اس لیے کہ نہ صرف آنحضرتؐ کے احوال و اقوال اور ارشادات و فرمودات پورے اہتمام اور استناد کے ساتھ موجود و محفوظ ہیں بلکہ ان کے نقل و فہم اور ان سے استدلال و استنباط کے عمل میں کسی بھی درجہ میں شریک ہونے والے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کے حالات و کوائف بھی تاریخ نے اپنے ریکارڈ میں محفوظ کر رکھے ہیں۔ اور جناب نبی اکرمؐ کے کسی بھی فعل، قول اور احوال و ظروف سے نسبت رکھنے والے کسی بھی شخص کے حالات اور کردار کے بارے میں ضروری معلومات کسی بھی وقت تاریخ کے ریکارڈ سے طلب کی جا سکتی ہیں۔ جبکہ اس حوالہ سے اسماء الرجال کا علم اسلام اور مسلمانوں کی ایسی خصوصیت ہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں پائی جاتی۔

دنیا کے تمام ادیان و مذاہب میں اسلام وہ واحد دین ہے جس کے پاس اس کی تعلیمات کسی ترمیم و تحریف اور تبدیلی کے بغیر اصلی حالت میں موجود ہیں۔ اور یہ تعلیمات پرائمری سطح سے لے کر اعلیٰ ترین درجات تک ہر سطح پر تدریس، تحقیق اور تبلیغ و اشاعت کے مراحل سے وسیع پیمانے میں ہر وقت گزرتی ہیں جس کی وجہ سے تحریف اور ترمیم کا کوئی بھی حملہ ان کے دائرے میں در اندازی کی گنجائش نہیں پا رہا۔ اور وہ ایک زندہ، متحرک اور توانا نظام تعلیم و اصلاح کی صورت میں آج کے زوال پذیر دور میں بھی مسلم معاشرے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

دنیا کے ہر مذہب کی تعلیمات انحراف و ترمیم کے مراحل سے گزر چکی ہیں اور اسلام کے سوا کوئی مذہب بھی اس وقت دنیا کے مسلمہ اور معیار کے مطابق اس دعویٰ کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ اس کے پاس اس کی بنیادی تعلیمات اصلی حالت میں موجود ہیں۔ مگر اسلام پورے اعتماد و حوصلے کے ساتھ آج بھی عالمی فورم پر اس دعوے کے ساتھ کھڑا ہے کہ اس کے پاس نہ صرف قرآن کریم اسی اصلی حالت میں موجود ہے جس طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اولین شاگردوں صحابہ کرامؓ کے سپرد کیا تھا، بلکہ قرآن کریم کی تعبیر و تشریح میں نبی اکرمؐ کے ارشادات، احوال اور سیر و سوانح بھی اس مکمل اعتماد اور معیار کے ساتھ موجود ہیں جسے آج کی دنیا بھی تسلیم کرتی ہے اور جسے کسی بھی تاریخی ذخیرہ اور دستاویز کے مستند اور صحیح ہونے کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔

قرآن کریم کو اپنے متن اور الفاظ کے لحاظ سے ایک محفوظ اور مستند دستاویز کا درجہ حاصل ہے اور اس کے سینہ بہ سینہ منتقل ہونے کا سسٹم ایسا فول پروف ہے کہ اس میں کسی قسم کی در اندازی کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ اس لیے فطری طور پر ان عناصر کا رخ اس کی تعبیر و تشریح کے نظام کے مجروح کرنے کی طرف ہی مڑنا تھا جو دوسرے مذاہب کی طرح اسلام کی تعلیمات کو بھی انسانی خواہشات اور عقل و ظن کی سان پر چڑھا دینے کے خواہش مند تھے۔ چنانچہ قرآنی تعلیمات کو نئے معانی پہنانے اور نت نئی تعبیرات و تشریحات سے روشناس کرانے کے لیے گزشتہ دو تین صدیوں کے دوران کیا کچھ نہیں ہوا اور آج بھی کیا کچھ نہیں ہو رہا۔ لیکن جناب نبی اکرمؐ کی سیرت و سوانح اور سنت و حدیث کا عظیم ذخیرہ اور ان کی چھان پھٹک کا بے مثال نظام اسلامی تعلیمات کے گرد ایسا مضبوط و مستحکم حفاظتی پشتہ ثابت ہوا ہے کہ اس نے تحریف و الحاد کے ہر طوفان کا رخ موڑ دیا ہے۔ اور اسلامی عقائد و احکام کا پرچم ملی زندگی کے دیگر تمام شعبوں کی زبوں حالی کے باوجود آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ یہ کہتے ہوئے لہرا رہا ہے کہ

ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے

۲- موجودہ فقہی جمود

محدثین و مؤرخین نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث اور سیرت و سوانح کے سینکڑوں پہلوؤں پر جو عظیم الشان کام کیا ہے اور فقہاء کرام نے اس بحر ناپیدا کنار میں غوطہ زن ہو کر حکمت و دانش اور استنباط و استدلال کے انمول موتیوں کے جو انبار لگا دیے ہیں، اس پر تاریخ کے اس عملی خراج کے بعد کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ احادیث کے ذخیرے کو محفوظ رکھنے والے محدثین کرام، اسماء رجال سے تعلق رکھنے والے مؤرخین و ناقدین، اور استنباط و استدلال کے شناور فقہاء عظام نے ہر دور میں اس زمانے کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے احادیث و سنن کی حفاظت و روایت اور تدوین و ترتیب کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ آپ گزشتہ چودہ صدیوں میں سے کسی بھی صدی میں ان حوالوں سے ہونے والے علمی کام کو سامنے رکھ لیں، آپ کو اس میں سابقہ طریق کار سے مختلف اسلوب نظر آئے گا، جدت دکھائی دے گی، اور تنوع کے نئے افق آپ کی نگاہوں کے سامنے آئیں گے۔ کیونکہ زمانہ جوں جوں آگے بڑھتا ہے، انسانی سوسائٹی کی نت نئی ضروریات سامنے آتی رہتی ہیں، سائنسی انکشافات سے علم و معلومات کا دائرہ وسیع تر ہوتا رہتا ہے، اور انسانی ذہن کی پرواز کی سطح بلند تر ہوتی چلی جاتی ہے۔

لیکن بد قسمتی سے کچھ عرصہ سے ہم نے ایک جگہ رک جانے اور اگلے مراحل سے آنکھیں اور کان بند کر لینے کو بزرگوں کی ’’روایت‘‘ سمجھ رکھا ہے حالانکہ اس کا نام روایت نہیں ہے۔ ہمارے اسلاف میں، خواہ وہ محدثین و مفسرین ہوں، مؤرخین و ناقدین ہوں یا فقہاء و مجتہدین ہوں، کسی دور میں بھی اس طرح کے ’’جمود‘‘ کی روایت نہیں رہی۔ ہماری روایت تو تحرک کی ہے، پیشرفت کی ہے، اور مسائل و مشکلات کا سامنا کرنے کی ہے۔ بلکہ میں اس سے بھی آگے بڑھ کر عرض کروں گا کہ ہمارے فقہاء عظام نے صرف حال پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مستقبل کے امکانات کو بھانپتے ہوئے ’’فقہ فرضی‘‘ اور ’’فقہ تقدیری‘‘ کا ایسا عظیم الشان ذخیرہ قرونِ ماضیہ میں امت کے سامنے پیش کیا ہے کہ ہم آج تک اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔

گلوبلائزیشن کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی ماحول اور مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے اختلاط اور ٹکراؤ کے موجودہ تناظر میں بہت سے پہلوؤں سے سنن و احادیث نبویہؐ کے ازسرنو وسیع تر مطالعہ اور اس عظیم ترین علمی و دینی ذخیرہ سے راہ نمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس سے پہلے سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم مستقبل کی طرف بڑھنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں؟ کیا ہم نے زمانے کے سفر میں اسی مقام پر ہمیشہ کے لیے رکنے کا تہیہ کر لیا ہے جہاں ہم اب کھڑے ہیں؟ اور اگر ہم واقعی مستقبل کی طرف سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اس کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لینے کے دعوے میں بھی سنجیدہ ہیں تو اس کے لیے ہمیں آگے بڑھنا ہوگا اور آگے بڑھنے کے وہ تمام منطقی تقاضے پورے کرنا ہوں گے جو ہمارے بزرگ اور اسلاف ہر دور میں پورے کرتے آ رہے ہیں۔

۳- خدمت حدیث کے چند پہلو

اس پس منظر میں اگر حال اور مستقبل کی ضروریات کا جائزہ لیا جائے تو تقاضوں کی ایک لمبی فہرست بن سکتی ہے اور میرے خیال میں اس موضوع پر علمی مذاکروں اور مباحثوں کی صورت میں باہمی مشاورت کے ساتھ وہ فہرست ضرور بننی چاہیے کہ تقاضوں اور ضروریات کی نشان دہی اور ان کے سامنے آنے کے بعد ہی انہیں پورا کرنے کا احساس بیدار ہوتا ہے۔ مگر یہاں ان میں سے مثال کے طور پور دو تین پہلوؤں کا تذکرہ مناسب سمجھوں گا، اس امید پر کہ شاید ہماری علمی شخصیات اور ادارے اس طرف متوجہ ہوں اور اس حوالے سے نہ صرف مستقبل بلکہ حال کا بھی بہت سا قرض جو سنت و حدیث کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ارباب علم و دانش کے ذمہ واجب ہے، اس کی ادائیگی کی کوئی صورت نکل آئے۔

جہاں تک احکام و مسائل کا تعلق ہے، اس حوالے سے مختلف ممالک میں کام ہو رہا ہے اور جدید پیش آمدہ مسائل کا قرآن کریم اور سنت و حدیث کی روشنی میں حل تلاش کرنے کی طرف متعدد ادارے اور علمی حلقے متوجہ ہیں۔ اگرچہ اس میں بھی ابھی تنوع اور توسع کے بہت سے پہلو تشنہ ہیں جن کی طرف توجہ کی ضرورت ہے لیکن اس شعبہ میں کچھ نہ کچھ کام بہرحال ہو رہا ہے۔ اس لیے اسے نظر انداز کرتے ہوئے فکری اور تہذیبی راہ نمائی کے اس خلا کی طرف ارباب علم و دانش کو توجہ دلانا چاہوں گا جو عالمی تہذیبی کشمکش کے موجودہ دور میں پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہو رہا ہے اور جس کے منفی اثرات پوری ملت اسلامیہ کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں عرب دنیا میں خاصا کام ہوا ہے۔ ہمارے ہاں بھی ہوا ہے مگر یہ کام روایتی حلقوں سے ہٹ کر شخصیات کے حوالے سے ہے جس کے اثرات سے انکار کی گنجائش نہیں ہے لیکن اصل ضرورت روایتی حلقوں کی بیداری کی ہے کہ امت مسلمہ کی اکثریت کا عقیدت و اطاعت کا تعلق انہی سے ہے اور امت کو بحیثیت امت کسی طرف متوجہ کرنے کے لیے روایتی حلقے ہی سب سے زیادہ مؤثر اور بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میں خود روایتی حلقے سے تعلق رکھتا ہوں۔ جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے، روایتی حلقوں کی نمائندگی بلکہ دفاع بھی کرتا ہوں لیکن مجھے اس اعتراف میں کوئی باک نہیں ہے کہ اس راہ میں بعض ایسے سخت مقام ضرور آتے ہیں کہ نمائندگی اور دفاع دونوں کے قدم لڑکھڑانے لگ جاتے ہیں اور بڑی مشکل سے قدموں کا توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔

اس کے بعد میں مثال کے طور پر ان دو تین پہلوؤں کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جن کے بارے میں میری طالب علمانہ رائے میں زیادہ اہتمام کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و تعلیمات کو اجاگر کرتے ہوئے امت مسلمہ کی راہ نمائی ان شعبوں میں وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔

۱- امت کی اخلاقی حالت

سب سے پہلے امت مسلمہ کی اخلاقی حالت کا مسئلہ ہے جو آج کسی طرح بھی اس قابل نہیں ہے کہ اس کا اچھے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا جائے۔ افراد اور کچھ طبقات ہر دور میں اور ہر قوم میں مستثنیٰ رہے ہیں اور رہتے ہیں لیکن ملت بحیثیت ملت اخلاقی لحاظ سے جس سطح پر پہنچ گئی ہے، اس نے ہمیں اقوام عالم کی برادری میں نیک نام نہیں رہنے دیا۔ اخلاقیات کا تعلق سیاست سے ہو یا تجارت سے، معاشرت سے ہو یا مذہب سے، تعلیم سے ہو یا ملازمت سے، صنعت سے ہو یا اجارہ سے، کہیں بھی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے۔ ہمارے داخلی معاشرتی دائروں میں جو صورت حال ہے، وہ بھی کسی سے مخفی نہیں ہے لیکن دوسری اقوام کے معاشرے میں جا کر ہم جو گل کھلا رہے ہیں، اس نے تو لٹیا ہی ڈبو دی ہے۔ میں ایک مثال سے اپنی بات واضح کرنا چاہوں گا کہ برطانیہ میں ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ وہ کوئی کام کاج تو کرتے نہیں ہیں، گزارا کیسے کرتے ہیں؟ انہوں نے بڑی بے تکلفی سے کہا کہ بس ’’مال زکوٰۃ‘‘ سے گزارا ہو جاتا ہے۔ میں نے وضاحت چاہی تو کہنے لگے کہ برطانوی حکومت کی طرف سے بے روزگاری کا جو وظیفہ ملتا ہے، وہ لیتا ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ کا قانوناً اس وظیفے کا استحقاق بنتا ہے؟ تو فرمایا کہ ’’چھڈو جی، کافر نیں۔ اینہاں نوں جناں لٹ سکدے ہو، لٹو‘‘ (چھوڑو جی، یہ کافر ہیں۔ انہیں جتنا لوٹ سکتے ہو، لوٹو)

ظاہر ہے کہ اسی قسم کے طرز عمل کے ساتھ ہم دنیا کے غیر مسلم معاشروں میں اسلام اور مسلمانوں کے تعارف کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ اب اس بات کو ہم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ و سیرت اور سنن و احادیث کے حوالے سے دیکھیں تو معاملہ انتہائی سنگین ہو جاتا ہے۔ جناب رسول اللہؐ تو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے تشریف لائے ہیں اور شخصی، خاندانی، معاشرتی اور بین الاقوامی چاروں حوالوں سے اخلاقی تعلیمات کا جس قدر وسیع اور متنوع ذخیرہ اور اسوہ و نمونہ جناب نبی اکرمؐ کی سنت و سیرت میں ملتا ہے، دنیا کے کسی اور مذہب یا شخصیت کے پاس اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے مگر ہمارے ہاں ان کا تذکرہ محض برکت و ثواب کے لیے ہوتا ہے۔ اپنے احوال و ظروف پر ارشاداتِ نبویؐ کا اطلاق اور سنت و حدیث کی روشنی میں اپنے طرز عمل کی اصلاح کا کوئی احساس اجتماعی طور پر ہمارے حلقوں میں موجود نہیں ہے۔ آج سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ملی اور بین الاقوامی دونوں حوالوں سے اپنی اخلاقی کوتاہیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی کریں، انہیں بے نقاب کریں اور ایک ملی تحریک کے طور پر جناب نبی اکرمؐ کی اخلاقی تعلیمات کو آج کے معروضی حالات و ضروریات کے تناظر میں جدید اسلوب اور انداز کے ساتھ امت کے ہر فرد تک پہنچانے اور اسے سمجھانے کی کوشش کریں۔ اس سے نہ صرف دوسری قوموں کے سامنے ہمارا تعارف بہتر ہوگا بلکہ ہمارے بہت سے داخلی مسائل و مشکلات بھی خودبخود فضا میں تحلیل ہو کر رہ جائیں گے۔

اس ضمن میں اس بات کا تذکرہ بھی شاید نامناسب نہ ہو کہ سینکڑوں احادیث نبویہؐ میں معاشرتی خرابیوں کے ساتھ ساتھ ان کے اسباب و نتائج کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے اور بہت سی احادیث میں نتائج و عواقب کا ذکر کر کے معاشرتی خرابیوں سے روکا گیا ہے۔ ایسی احادیث کو زیادہ نمایاں طور پر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ مثلاً صاحب مشکوٰۃ نے ’’باب تغیر الناس‘‘ کی آخری حدیث موطا امام مالک کے حوالے سے بیان کی ہے جو حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ کے قول کی صورت میں ہے لیکن اپنے مفہوم و معنی کے لحاظ سے محدثین کرام کے اصول کے مطابق مرفوع حدیث کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ :

  1. جس قوم میں خیانت عام ہو جائے، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ دشمن کا رعب ڈال دیتے ہیں۔
  2. جس قوم میں زنا عام ہو جائے، اس میں موت کی کثرت ہو جاتی ہے۔
  3. جو قوم ماپ تول میں کمی کرنے لگ جائے، اس سے رزق منقطع کر لیا جاتا ہے۔
  4. جس قوم میں ناحق فیصلے ہونے لگیں، اس میں خانہ جنگی پھیل جاتی ہے۔
  5. اور جو قوم عہد توڑ دے، اس پر دشمن کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔

اس نوعیت کی بہت سی روایات ہیں جن میں معاشرتی جرائم کے نتائج و عواقب کا ذکر کیا گیا ہے، ان کو اہتمام کے ساتھ اور اجتماعی تحریک کی صورت میں سامنے لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

۲- گلوبلائزیشن کا دور

دوسرا پہلو جو ارباب علم و دانش کی ترجیحی توجہ کا مستحق ہے، وہ آج کا عالمی ماحول ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ گلوبلائزیشن کا دور ہے اور تہذیبوں کے اختلاط کا دور ہے کیونکہ فاصلے اس قدر سمٹ گئے ہیں کہ تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان صدیوں سے قائم سرحدیں پامال ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ آج کے دور میں جبکہ تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان حدود اور فاصلوں کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا، منطقی طور پر یہ مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے کہ مختلف تہذیبوں کے اختلاط کے دور میں اسلام کیا راہ نمائی کرتا ہے؟ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و ارشادات میں اس بارے میں واضح راہ نمائی موجود ہے اور احادیث کے ذخیرے میں بہت سی روایات پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر بخاری شریف کی ایک روایت کا حوالہ دینا چاہوں گا جو امام بخاریؒ نے کتاب النکاح، باب عظۃ الرجل بنتہ اور بعض دیگر ابواب میں بیان کی ہے۔ اس تفصیلی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ قریش کے بہت سے خاندان مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو مہاجرین اور انصار کی خاندانی روایات میں واضح فرق موجود تھا۔ مہاجرین کے ہاں کسی عورت کا اپنے خاوند کو کسی بات پر ٹوکنا یا اس کی کسی بات کو رد کرنا سرے سے متصور نہیں تھا جبکہ انصار کے خاندانوں میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ وہ خاوند کو کسی بات پر ٹوک سکتی تھیں، کسی بات کا جواب دے سکتی تھیں اور کسی بات سے انکار بھی کر سکتی تھیں۔

حضرت عمرؓ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں ایک روز ان کی بیوی نے کسی بات پر ٹوک دیا تو انہیں بہت غصہ آیا اور انہوں نے بیوی کو ڈانٹا۔ بیوی نے جواب دیا کہ مجھے ڈانٹنے کی ضرورت نہیں، یہ تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بھی ہوتا ہے کہ ان کی ازواج مطہراتؓ کسی بات پر ٹوک دیتی ہیں اور کسی بات کا جواب بھی دے دیتی ہیں۔ حضرت عمر نے اسے اس بات سے تعبیر کیا کہ انصار کی عورتوں کی عادات ہماری عورتوں پر اثر انداز ہوتی جا رہی ہیں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ اسی غصے کی حالت میں سیدھے ام المومنین حضرت حفصہؓ کے گھر پہنچے جو ان کی بیٹی تھیں اور انہیں سمجھایا بجھایا کہ ایسا مت کیا کرو۔ وہ تو بیٹی تھیں، خاموش رہیں مگر یہی بات جب حضرت عمرؓ نے ام المومنین حضرت ام سلمہؓ سے کہنا چاہی تو انہوں نے آگے سے یہ کہہ کر ٹوک دیا کہ ’’آپ نے میاں بیوی کے معاملات میں بھی مداخلت شروع کر دی ہے؟‘‘ حضرت عمرؓ نے یہ واقعہ جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا تو آپؐ نے اس کے جواب میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ صرف یہ فرمایا کہ ’’آخر ام سلمہ ہے‘‘۔

یہ دو علاقائی ثقافتوں اور معاشرتی روایات کے اختلاط اور ٹکراؤ کا قصہ ہے اور میری طالب علمانہ رائے ہے کہ تہذیبوں کے اختلاط اور مختلف ثقافتوں کے باہمی میل جول کے مسائل میں یہ روایت اصولی اور بنیادی حیثیت رکھتی ہے جس سے ہمیں راہ نمائی حاصل کرنی چاہیے۔ اور دور نبویؐ کے اس طرز کے واقعات اور روایات و احادیث کی روشنی میں آج کے عالمی حالات کے تناظر میں اصول و ضوابط وضع کرنے چاہئیں کہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے تال میل میں کہاں ایڈجسٹمنٹ کی گنجائش ہے، کہاں صاف انکار کی ضرورت ہے، اور کہاں کوئی درمیان کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

یہاں میں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے دین اور ثقافت کے درمیان حدِ فاصل قائم نہیں رہنے دی اور بہت سے معاملات میں دونوں کو گڈمڈ کر دیا ہے حالانکہ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دین کی بنیاد آسمانی تعلیمات پر ہے اور اس کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے جبکہ ثقافت کی بنیاد ایک علاقہ میں رہنے والے لوگوں کے درمیان خودبخود تشکیل پا جانے والی معاشرتی اقدار و روایات پر ہوتی ہے اور اس کا سرچشمہ سوسائٹی اور اس کا ماحول ہوتا ہے۔ مگر ہم نے بعض معاملات میں اپنی علاقائی ثقافتوں پر دین و شریعت کا لیبل لگا کر انہیں ساری دنیا سے ہرحال میں منوانے کی قسم کھا رکھی ہے جس سے طرح طرح کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

سنت و سیرت اور احادیث کے بیش بہا ذخیرے میں ان معاملات میں مکمل راہ نمائی موجود ہے مگر ہماری حالت یہ ہے کہ خود محنت کر کے بزرگوں کی کمائی میں اضافہ کرنے کے بجائے بزرگوں کی محنت اور کمائی سے ہی گزارا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

۳- فتنے اور آثار قیامت

تیسرا پہلو جس کا ذکر احادیث نبویہؐ کے وسیع ذخیرہ سے آج کے حالات کے تناظر میں استفادہ کے لیے کرنا چاہتا ہوں، وہ فتنوں اور آثار قیامت کے بارے میں جناب نبی اکرمؐ کے وہ ارشادات ہیں جو پیش گوئیوں کے طور پر معجزات کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان میں ہمارے لیے ایمان کی تازگی اور پختگی کے ساتھ ساتھ راہ نمائی کا بھی مکمل سامان موجود ہے۔ اس سلسلے کے سینکڑوں ارشادات نبویہؐ میں سے مثال کے طور پر مسلم شریف کی کتاب الفتن کی ان بعض روایات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جن میں جناب نبی اکرمؐ نے فرات کے کنارے سونے کا پہاڑ دریافت ہونے اور اس کے حصول کے لیے مختلف اقوام کے درمیان خونریز جنگوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اور انہی میں سے حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت جابرؓ بن عبد اللہؓ کی دو روایات میں مغربی اقوام کی طرف سے عراق کی اقتصادی ناکہ بندی اور اس کے ساتھ شام اور مصر کی اقتصادی ناکہ بندی کی صراحت بھی موجود ہے۔ یہ اور اس قسم کی بیسیوں دیگر روایات ہمارے آج کے حالات کی عکاسی کرتی ہیں اور بہت سے معاملات میں ہمیں راہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter