خسر اور خوشدامن کی وراثت میں حصہ داری کی سفارش

   
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۰۱ء

روزنامہ جنگ لاہور ۲۴ جنوری ۲۰۰۱ء کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے ’’خواتین حقوق کمیشن‘‘ کی رپورٹ میں شامل اس سفارش کو شرعی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ میاں بیوی کو ماں باپ کی طرح خسر اور خوشدامن کی وراثت میں بھی حصہ دار قرار دیا جائے۔

خواتین حقوق کمیشن نے اپنی سفارشات میں اس طرح کی اور بھی بہت سی تجاویز دی ہیں جن کا مقصد پاکستان میں نکاح و طلاق اور وراثت کے قوانین کو موجودہ عالمی معیار کے مطابق بنانا اور انسانی حقوق کے مغربی فلسفہ کے تابع کرنا بتایا جاتا ہے، اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور کچھ دانشوروں کی طرف سے ان تجاویز اور سفارشات کے حق میں باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس سے قبل وراثت میں لڑکی اور لڑکے کا حصہ برابر کرنے، اور یتیم پوتے کو اپنے مرحوم باپ کی جگہ دادا کی وراثت میں حصہ دار قرار دینے کی تجاویز بھی سامنے آ چکی ہیں۔ مگر قرآن کریم، سنتِ نبویؐ اور اجماعِ امت کے صریح منافی ہونے کے باعث ملک کے دینی حلقے اس قسم کی تجاویز کو مسترد کرتے چلے آ رہے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس قسم کی غیر اسلامی سفارشات و تجاویز کا بروقت نوٹس لے کر حکومت کے ساتھ ساتھ ملک کے دینی حلقوں اور علمی مراکز کو بھی اس مہم سے خبردار کیا ہے، جو اسلام کے خاندانی نظام کو مغرب کی خواہشات کے مطابق سبوتاژ کرنے اور قرآن و سنت کے صریح احکام میں ردوبدل کے لیے انسانی حقوق کی آڑ میں چلائی جا رہی ہے۔ اور ہمیں امید ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے اس فیصلہ کو حکومت اور دینی حلقوں کی طرف سے سنجیدہ توجہ اور پذیرائی حاصل ہو گی۔

   
2016ء سے
Flag Counter